مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مذاکرات میں رکاوٹ ہیں: معید یوسف

مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مذاکرات میں رکاوٹ ہیں: معید ...

  

  اسلام آباد (این این آئی)معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں تجارتی روابط کے لیے ناگزیر ہے، بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے، پاکستان طویل عرصے سے کہتا رہاآ رہا ہے کہ افغانستان مسلے کا فوجی حل نہیں، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی مذمت کی جانی چاہیے۔ایس سی او کی قومی سلامتی کونسل سکریٹریوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہاکہ معاشی راہداری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہم علاقائی اقتصادی اور تجارتی ترقی کے خواہاں ہیں۔پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں تجارتی روابط کے لیے ناگزیر ہے۔ افغانستان کا مستقبل مذاکرات میں ہے، افغان اسٹیک ہولڈرز اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ افغانستان کے مستقبل بارے فیصلہ کرنے کا صرف افغان کو حق ہے۔ کسی بھی بیرونی ملک کو افغانستان میں امن کا ضامن تصور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پرامن مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا خواہاں ہے، مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔عالمی برادری کو مقبوضہ علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ممالک کی مذمت کرنی چاہیے، ہمیں قوم پرستی، فاشزم اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف متحد ہونا ہے۔اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

معید یوسف

مزید :

صفحہ آخر -