کراچی پیکیج، معاملہ خطوط تک محدود، کوئی اجلاس نہ ہوسکا

کراچی پیکیج، معاملہ خطوط تک محدود، کوئی اجلاس نہ ہوسکا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی پیکیج کے اعلان کو دس روز گزر گئے، وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان معاملہ خطوط سے آگے نہ بڑھ سکا۔کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت وفاقی اور سندھ حکومت نے شہر قائد کیلیے11سو 13ارب روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا جو آئندہ3سال میں مرحلہ وار خرچ کرنے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے5ستمبر کو کراچی پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کی تکمیل کیلیے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں 6رکنی عملدرآمد کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی جس کا تاحال کوئی اجلاس تک نہیں ہوا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر کی جانب سے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ جبکہ وزیر اعلی کی جانب سے اسد عمر کو منصوبوں کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت وفاقی حکومت ایک سے تین سال کے دوران 50 میگا منصوبوں کی تکمیل شامل ہے۔سندھ حکومت کے مطابق وفاقی حکومت نے1100ارب روپے کے نام پر ساڑھے3 سو ارب روپے کراچی کو دیے ہیں جو مرحلہ وار خرچ ہوں گے، مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں پیپلز کراچی پروگرام کے تحت800 ارب روپوں کے منصوبوں کا پیپلزکراچی پروگرام کے تحت واٹر سپلائی، سیوریج، سولڈ ویسٹ، روڈ انفرااسٹرکچر اور ماس ٹرانزٹ کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔کراچی کے کئی ترقیاتی منصوبے شروع ہونے سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر سے لاگت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے، فراہمی آب کے میگا منصوبے کیفور کی لاگت میں 25ارب روپے سے زائد اضافے کا خدشہ ہے، سندھ حکومت کے تحت ایدھی اورنج لائن بی آر ٹی منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔علاوہ ازیں وفاقی اور سندھ حکومت کی جانب سے کراچی پیکیج کا کریڈٹ حاصل کرنے کی دوڑ پر شہریوں نے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سوشل میڈیا پر کراچی کے شہریوں نے ماضی میں وفاقی اور سندھ حکومت کے اعلان کردہ پیکیجز کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے جن میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا سال 2015میں 151ارب روپے کا پیکیج، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا 25ارب روپے پر مشتمل کراچی پیکیج اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے162ارب روپے کا کراچی پیکیج شامل ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -