نئے اضلاع میں اساتذہ اور طلبہ کی بہبود اولین ترجیح‘ میاں خلیق الرحمن

  نئے اضلاع میں اساتذہ اور طلبہ کی بہبود اولین ترجیح‘ میاں خلیق الرحمن

  

پشاور (سٹاف رپورٹر)مشیر وزیر اعلیٰ برائے اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ صوبے کے ضم اضلاع کے طلبہ اور اساتذہ کو اضافی مراعات دینے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام ہو رہا ہے۔ ضم اضلاع کے کالجز میں جدید سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ احساس پروگرام کے ذریعے ذہین اور مستحق طلبا و طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔ ضم اضلاع کے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت دیجارہی ہیں۔ صوبے اور خاص کر ضم اضلاع کے نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم میں 1900 آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔ تعلیمی ادارے آباد کرنے سے ضم اضلاع کی پسماندگی دور ہوگی۔ نئے تعلیمی اداروں کی بجائے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کو فعال کرکے تعلیم کی شرح میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کام جاری ہیں۔ نئے اساتذہ کی تعیناتی کالج سطح پر کی جائیگی پانچ سال تک نئے تعینات ہونے والے لیکچرارایک ہی کالج میں گزاریں گے جس سے کوئی کالج بغیر استاد نہیں رہے گا۔ بی ایس پروگرام صوبے کے کالجز میں کامیابی سے جاری ہے۔ بی اے بی ایس سی کے بعد صوبے کے 128  کالجز میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کا اجراء کردیا گیا ہے داخلے جلد شروع ہو جائیں گے۔ خواتین اساتذہ کو درپیش مسائل کو حل کرانے کے لئے بھی ٹھوس بنیادوں پر کام جاری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ریڈیو کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔مشیر اعلیٰ تعلیم میاں خلیق الرحمن نے کہا کہ ضم اضلاع میں کالجز میں اساتذہ اور طلبہ کی موجودگی یقینی بنائیں گے۔ احساس پروگرام کے ذریعے ذہین اور مستحق طلبہ کو مستفید کیا جارہا ہے۔ ضم اضلاع میں کالج اساتذہ کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مواقع دفراہم کیا جائیگا۔ صوبے میں اپنے ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کو فعال کردیا گیا ہے۔ کالج اساتذہ کی بھرتی کا عمل بھی ایٹا کے ذریعے کیا جائیگا۔ اور تمام بھرتیاں میرٹ پر کی جائیگی۔ضم اضلاع میں فزیبلٹی کے بعد مذید کالجز قائم کئے جائیں گے۔ ادارے ہوں گے تو تعلیم ہوگی مگر نئے اداروں کو کھولنے سے پہلے اس کی فزیبلٹی کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں پہلی مرتبہ تبادلے ضرورت کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے جارہے ہیں۔ سفارش کلچر کے مکمل خاتمے کے لئے سخت فیصلے کئے جارہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان بذات خود ضم اضلاع کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔  

مزید :

پشاورصفحہ آخر -