المعیز گروپ کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے: افتخا ر بابر 

المعیز گروپ کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے: افتخا ر بابر 

  

 لاہور (سٹی رپورٹر)المعیز گروپ کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے، قومی خزانے میں سالانہ 12ارب روپے ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں ادائیگیاں کی جاتی ہیں،ان خیالات کا اظہار المعیز گروپ آف کمپنیز کے وائس پریذیڈنٹ، کارپوریٹ افیئرز، کمیونکیشنز اینڈ سی ایس آر افتخار بابر نے روزنامہ پاکستان کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کیا جس کی تفصیلات پیش خدمت ہیں۔المعیز گروپ نے وقت کے ساتھ خود کو ایک فعال کاروباری گروپ میں تشکیل دیا ہے۔ گزشتہ 50 سالوں کے دوران گروپ نے مختلف کاروباری شعبوں میں آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہمارا پورٹ فولیو غیرمعمولی طور پر مختلف شعبوں سے منسلک ہیں جن میں چینی، توانائی، اسٹیل، جانوروں کی خوراک، ٹیکسٹائلز، خوراک اور بیوریجز کے شعبے شامل ہیں۔ مزید یہ کہ گروپ گوجرانوالہ میں قائم پیپسی کی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ فرنچائز کا انتظام بھی سنبھالتا ہے۔ قومی خزانے میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے اعتبار سے ہمارے ریونیو کا حصہ سالانہ 12 ارب روپے ہے۔ گروپ 10 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، جن میں بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان اور لیہ کے دیہی علاقوں کی معاشی اور سماجی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔ کمپنی نے سال 2019 کے دوران کاشتکاروں کو 25 ارب روپے فراہم کئے جبکہ 1.5ارب روپے بلاسود قرضہ فراہم کیا۔ ہم 50 ہزار ریٹیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کی آمدن کا بھی ذریعہ بنتے ہیں جس سے مزید 2 لاکھ کی افرادی قوت کا روزگار منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے، پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں لیبر فورس کا کردار 61 فیصد ہے۔ پاکستان میں 40 ہزار سے زیادہ گنے کے کاشتکار ہیں جو ہماری ٹیکنالوجی سے آراستہ فارم ایڈوائزری سروسز سے مستفید ہوتے ہیں۔ اپنے موبائل پلیٹ فارمز جیسے ایگری کنیکٹ اور فارم ایڈوائزری سروسز (ایف اے ایس) کے ذریعے ہماری فیلڈ ٹیمیں ہر مرحلے پر کسانوں کی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسانوں کو فصل کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے حصول میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ہم اپنی ڈیجیٹل ایڈوائزری کی حکمت عملی میں کسانوں سے رسائی حاصل کرنے اور انہیں باخبر رکھنے کے لئے براڈ کاسٹ، ایس ایم ایس، فیس بک اور واٹس ایپ جیسے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ کسانوں کو بہترین فصل کی تیاری میں معیاری اشیا کے استعمال کے لئے خصوصی تربیت اور مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ کاشتکار مرکز ادارے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی کامیابی کسانوں کی کامیابی اور خوشحالی سے مشروط رکھنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ ہمارا کاشتکار لائلٹی پروگرام دنیا کے بہترین پروگرامز میں شامل ہے جس میں کاشتکاروں کی کارکردگی کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جاتا ہے اور انہیں اہم تحفے تحائف کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ جلد ہی، ہم فرینڈز آف المعیز کاشتکار کلب متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ کاشتکاروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے۔ ہمارا گروپ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہماری حقیقی کامیابی اسی وقت ہوتی ہے جب ہمارا کاشتکار مطمئن اور خوشحال ہوتا ہے۔ گنے کی فصل کی تیاری کے لئے ماہانہ ضرورت 150 ملی لیٹر ہے جو کپاس اور سویا بین کی فصل میں استعمال ہونے والے پانی کے مساوی ہے جبکہ دھان کی فصل کے مقابلے میں گنے کی فصل میں پانی کا استعمال نصف ہوتا ہے۔ ہم لیزر لیولنگ(laser levelling)، ٹریش ملچنگ(laser levelling)، سوئل موائسچر سینسرز (trash mulching)اور اعلیٰ معیار کے آبپاشی کے سسٹمز کے ذریعے گنے کی فصل میں پانی کی موجودگی میں مزید کمی لا رہے ہیں۔ ہم اپنے ریجن میں شوگر بیٹ (sugar beet) کی فصل کو بھی فروغ دے رہے ہیں، اس کی فصل کا دورانیہ کم ہوتا ہے جبکہ پانی بھی کم استعمال ہوتا ہے۔

 درست فارمنگ اور زرعی عوامل کا جائزہ لیکر فی ایکڑ فصل میں موثر انداز سے اضافہ لایا جاسکتا ہے۔ المعیز گروپ پاکستان میں پہلی بار جدید ترین صنعتی مشینری اور ٹیکنالوجیز اور مختلف اقسام کے بیج متعارف کروا رہا ہے۔ آئی ایف سی سے اشتراک اور انکے عالمی معیار کے غیرملکی کنسلٹنٹس کے ذریعے ہم نے دنیا میں رائج فارمنگ کے بہترین طریقوں کو استعمال کرکے ماڈل فارمز تیار کئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا پھیلنے کے موقع پر المعیز نے 25 ہزار سے زائد ان گھرانوں میں 5 کروڑ روپے کی مجموعی مالیت کے راشن بیگز تقسیم کئے جو ہمارے پروڈکشن پلانٹس کی حدود میں رہائش پذیر ہیں۔ مزید یہ کہ، المعیز گروپ نے اس وائرس کی روک تھام میں معاونت کے لئے وزیر اعظم کرونا ریلیف فنڈ میں 5 کروڑ روپے بھی عطیہ کئے اور ملوں کے قریب واقع تمام ضلعی اسپتالوں میں ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ایز) بھی فراہم کئے ۔ اس عالمی وبا کے ساتھ ہی ساتھ ہم نے وزیر اعظم ڈیم فنڈ اور آئی ڈی پیز کا بحران سنبھالنے میں معاونت سمیت مختلف مواقع پر حکومتی اقدامات میں تعاون کیا اور تعلیمی و صحت سے متعلق متعدد اقدامات کو آگے بڑھا کر مقامی آبادی بالخصوص پاکستان کے پسماندگی کے شکار علاقوں میں مدد فراہم کی۔ 

مزید :

کامرس -