بحرین اور امارات کا اسرائیل کیساتھ تاریخی معاہدہ، مزید پانچ یا چھ عرب ممالک جلد ہی صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیں گے: صدر ٹرمپ 

          بحرین اور امارات کا اسرائیل کیساتھ تاریخی معاہدہ، مزید پانچ یا چھ ...

  

  واشنگٹن (اظہر زمان،بیورو چیف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں یو اے ای اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے تاریخی سمجھوتے پر دستخط کر دیئے ہیں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان، بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیانی اور اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو۔یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے  امریکہ کی قیادت میں جب ابوظہبی میں رضا مندی کا اظہار کیا تھا اسی وقت روزنامہ ”پاکستان“ نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع سے خصوصی خبر دی تھی کہ اس معاہدے پر دستخط کی تقریب ستمبر کے وسط میں وائٹ ہاؤس میں ہو گی اب اس میں صرف اتنا اضافہ ہوا ہے کہ اس تقریب میں بحرین بھی شامل ہو گیا ہے۔ منگل کے روز دستخط ہونے والی تقریب سے تھوڑی دیر قبل صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹر پیغام میں بتایا کہ ”مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے اس تاریخی دن پر میں اسرائیل،یو اے ای اور بحرین کے نمائندوں ا خیر مقدم کرتا ہوں میں توقع کرتا ہوں کہ مزید ممالک بھی جلد قیام امن کے اس عمل میں شریک ہونگے۔معاہدے پر دستخط کے بعد صدر ٹرمپ نے تینوں ملکوں کے اعلیٰ نمائندوں کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کی بالکونی سے نیچے لائن میں جمع سینکڑوں افراد کو معاہدے کی دستاویزات دکھائیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے 1979 میں مصر اور اس کے بعد 1995 میں اردن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے اب یو اے ای اور بحرین بالترتیب اسرائیل سے دوستی بنانے والے تیسرے اور چوتھے ملک بن گئے ہیں قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران بتایا کہ مزید پانچ یا چھ عرب ملک بھی جلد اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں گے بالکونی سے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ تمام مذاہب سے متعلق افراد کے مل جل کر رہنے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے جو بہت قابل تعریف ہے۔

تاریخی معاہدہ

مزید :

صفحہ اول -