2020میں پاکستان کی معاشی شرح نمو منفی 0.4رہنے کا امکا ن 

          2020میں پاکستان کی معاشی شرح نمو منفی 0.4رہنے کا امکا ن 

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) نے پاکستان کی معیشت پر رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق 2020 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق 2021 میں پاکستان کی جی ڈی پی 2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔اس سے قبل اپریل میں اے ڈی بی نے رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 2.6 فیصد لگایا تھاجب کہ اگلے سال کیلئے معاشی شرح نموکا اندازہ 3.6 فیصد لگایا گیا تھا۔اے ڈی بی کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بری طرح متاثرہوئی ہے،کورونا میں کمی کے بعد پاکستان میں معاشی بحالی کا امکان ہے اور معاشی اصلاحات کی بحالی پرپاکستان میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھنے کی توقع ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازے کے مطابق 2020 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10.7 فیصد تک رہے گی اور 2021 میں یہ کم ہو کر 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں کمی کے باعث پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے،کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے 1240 ارب روپیکاریلیف پیکیج دیا جب کہ ٹڈی دل کے حملوں کے باوجود زرعی شعبے کی پیداوار2.7 فیصد رہی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مالیاتی ڈیٹا اورخدمات فراہم کرنے والی بین الاقوامی ادارہ بلوم برگ نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی وبا میں کمی کی وجہ سے پاکستان میں تجارتی اورکاروباری سرگرمیاں تیزی سے فروغ پارہی ہیں جبکہ سیمنٹ سے لیکر ایندھن تک کی فروخت میں اضافہ اورگھریلو استعمال کی اشیا سے لیکرکاروں تک کی طلب میں اضافہ ہواہے اوران اعشاریوں سے ظاہرہورہاہے کہ ملک میں تجارتی اورکاروباری سرگرمیاں تیزی سے فروغ پارہی ہے۔گزشتہ روزاپنی ایک رپورٹ میں ادارہ بلوم برگ نے کہاہے کہ گزشتہ ہفتے ملک میں کوروناوائرس کے 2900کیس رپورٹ ہوئے جبکہ جون میں کوروناکے فی ہفتہ اوسط کیسوں کی تعداد35ہزارتھی۔پاکستان میں کوروناکے تین لاکھ مریضوں میں سے 96فیصد صحت یاب ہوئے ہیں۔ٹینجینٹ کیپٹل ایڈوائزرز پرائیوٹ کے چیف ایگزیکٹوآفیسرمزمل اسلم نے بلوم برگ کوبتایا کہ پاکستان کی پیشرفت نے سب کوحیران کیاہے۔جاری مالی سال میں پاکستان کی معیشت میں 4سے 5فیصد تک کی بڑھوتری کاامکان ہے، حکومت نے بڑھوتری کاہدف2.1فیصد مقررکیاہے۔جولائی 2020میں سیمنٹ کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصداضافہ ہواہے۔ تعمیرات کی صنعت کیلئے دی جانیوالی مراعات اورترغیبات کی وجہ سے آنیوالے مہینوں میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اوراس کی وجہ سے سیمنٹ اورتعمیرات میں استعمال ہونے والی اشیا اورسامان کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔اگست کے مہینہ میں ملک گیربارشوں کی وجہ سے سیمنٹ کی فروخت کا حجم 3.5ملین ٹن رہا۔ مئی جون میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے ایندھن کی فروخت میں ریکارڈاضافہ ہواہے۔ جون میں ایندھن کی فروخت میں ریکارڈاضافہ ہوا جبکہ انہیں مہینوں میں ایل این جی کی سپاٹ کارگوخریداری کاعمل بحال ہوا۔ کاروں کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے، لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد چارماہ میں کاروں کی 10ہزاریونٹس کی فروخت ریکارڈکی گئی ہے۔جون میں مینیوفیکچرنگ کے شعبہ میں مسلسل دوسرے ماہ میں بہتری دیکھنے میں آئی۔اکتوبرسے لیکردسمبرتک کی مدت میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نمایاں بڑھوتری متوقع ہے۔

معیشت 

مزید :

صفحہ اول -