مجرمانہ حملوں کے حوالے سے سخت قانون کی تجویز

مجرمانہ حملوں کے حوالے سے سخت قانون کی تجویز

  

سیاسی ڈائری اسلام آباد

سانحہ موٹر وے نے پورے ملک کی طرح وفاقی دارالحکومت کو بھی ہلاک کر رکھ دیا ہے ملک میں قانون کی عملداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔  حال ہی میں سول و پولیس افسران کو بھی اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ طرز حکمرانی بھی ”سٹیٹس کو“ کا ایک تسلسل ہی نظر آ رہی ہے ”نیا پاکستان“ کے نعرہ تلے کچھ نمائش تبدیلیاں تو نظر آتی ہیں لیکن کریمنل جسٹس نظام میں کوئی قابل قدر اصلاحات ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پولیس جب ضلعی انتظامیہ کے ماتحت ہوتی تھی تو شاید اس وقت اس کی کارکردگی آج سے بہتر تھی لیکن پولیس نے ایک طویل جدوجہد کے نتیجہ میں ضلعی یعنی ڈپٹی کمشنر اور اب ڈی سی او کی نگرانی سے تو اسی ایک نکتہ پر آزاد ہوئی تھی کہ آزادانہ طور پر پولیس بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں پولیس کی پوسٹوں میں بے پناہ اضافہ ہوا مالی نوازشات سے بھی سرشار ہوئی ایک صوبے میں صرف دو ایڈیشنل آئی جی ہوا کرتے تھے اب ان کی گنتی شمار نہیں ہے لیکن تھانے کا کلچر بدلہ نہ ہی عوام کو کوئی ریلیف میسر ہوئی۔ پولیس کے محکمہ میں پسند نہ پسند کی بنیاد پر تمام اہم عہدوں پر تقرریاں ہو رہی ہیں ملک میں جب بھی کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے تو پولیس کی کارکردگی اور اس کے نظام کی قلعی کھل جاتی ہے۔ خوب بحث و تمحیص ہوتی ہے لیکن کچھ ہی دیر میں لوگ سب کچھ بھول بھال جاتے ہیں زندگی اسی ڈگر پر چلنا شروع ہو جاتی ہے تاہم تا حال دارلحکومت میں اس ایشو پر خوب گرما گرمی جاری ہے اپوزیشن حکومت کے خوب لتے لے رہی ہے جبکہ حکومت بھی مختلف تاویلیں گھڑ کر اپنے دفاع کی ناکام کوشش جاری رکھے ہوئے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن یا ملک کے دیگر بالا دست طبقے سب درون خانہ عوام کے اس استحصالی نظام کے تسلسل پر یکجا ہی نظر آتے ہیں طعن و تنقید عمومی طور پر صرف عارضی طور پر پوائنٹ سکورنگ کے لئے ہی ہوتی ہے۔ تاہم موٹر وے پر ہونے والے اس سانحہ سے پوری قوم غصے میں ہے سول سوسائٹی اضطراب کا شکار ہے۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں پیر کے روز موٹر وے واقعہ پر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت پر خوب تنقید کی۔ حکومت کی جانب سے سی سی پی او لاہور کے نازیبا بیان پر بھی ان کی حمایت جاری رکھنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے اس واقعہ پر فوری ردعمل نہیں دکھایا بلکہ جب بھی ایسا واقعہ ہوتا ہے وزیر اعظم غائب ہو جاتے ہیں۔ وزیر مواصلات مراد سعید نے حسب معمول انتہائی پر جوش تقریر میں موٹر وے واقعہ پر اپنا دفاع کیا اور الٹا اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دینا چاہئے اور اس کے لئے قانون سازی کی جائے گی بلا شبہ ایسے مجرموں کے لئے سخت سے سخت سزا کا قانون بنایا جائے لیکن ”نیا پاکستان“ کے نام پر بننے والی حکومت اس امر سے غافل نظر آتی ہے کہ پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو پا رہا کریمنل جسٹس نظام  کی اوورہالنگ کرکے اس کی خامیاں دور کرکے اسے قابل عمل بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ درحقیقت عوام جس قدر مالی مشکلات کا شکار ہیں اسے ان ایشوز پر مستقل توجہ مرکوز کرنے کی فرصت نہیں ہے جس ملک میں قانون ہاتھ میں لینے کا واقعہ پارلیمنٹ کے سائے میں ایک ایڈیشنل سیشن جج اور ایک ایم پی اے کے مابین مکہ بازی اور فائرنگ کی شکل میں سامنے آئے وہاں عام آدمی کے لئے انصاف اور تحفظ کی فراہمی ایک کٹھن کام ہے۔ 

حکومت کے سامنے اس وقت ایک اہم ٹاسک ایف اے ٹی ایف سے متعلق منی لانڈرنگ کے انسداد کے لئے قانون سازی ہے اب دیکھیں اس کے لئے حکومت اپوزیشن کو رام کرتی ہے یا کوئی مختلف لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور اپوزیشن جوابی لائحہ عمل کیا بناتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی کورونا سے متاثرہ زندگی معمول پر آتی دکھائی دے رہی ہے۔ شادی ہالز اور تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت ان سرگرمیوں کی بحالی میں ایس او پیز پر عمل درآمد کے لئے کوئی موثر نگرانی کا نظام وضع کرتی ہے یا پھر معصوم شہریوں کو شادی ہالز کی انتظامیہ اور اس طرح معصوم بچوں کو سکول انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑدیتی ہے کیونکہ عمومی طور پر بازاروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی کرایا جا رہا ہے۔ بالخصوص تعلیمی اداروں میں اگر کورونا کے خلاف ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہوا تو ملک کے عوام کو ایک جذباتی اور نفسیاتی صدمہ سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ فرزند راولپنڈی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نت نئی سیاسی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں اب وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے حوالے سے پیش گوئیاں کررہے ہیں اور اپوزیشن رہنما شہبازشریف اور مریم نواز کے مابین پارٹی دھڑے کے الزامات لگا کر شائد اپنی خواہش کا اظہار کررہے ہیں۔ 

دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے دیئے گئے ایک بیان کے تنازعہ سے باہر آ چکے ہیں اس ضمن میں سعودی وزیر خارجہ اور شاہ محمود قریشی کے مابین ایک ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے، جبکہ افغانستان کے امن عمل میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے دوحہ میں ہونے والی کانفرنس کے حوالے سے ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس میں امریکی سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپیو اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور ملا برادرکی قیادت میں افغان طالبان کے مابین ہونے والی ملاقاتیں مثبت قرار دی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ملا برادر کی امیر قطر سے ملاقات بھی اہم ہے۔مائیک پومپیو پر امید ہیں کہ افغان انٹرا مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو گی اس کانفرنس کے بعد امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی پاکستان آمد اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -