ملک میں تیرہ صوبوں کی تجویز، تشہیر جاری!

ملک میں تیرہ صوبوں کی تجویز، تشہیر جاری!

  

ملتان سے شوکت اشفاق

پارلیمانی نظام میں جو حکومت اپنے منشور پر عمل نہ کرسکے وہ ناکام کہلاتی ہے مگر مملکت خداداد پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا،آمر مکمل طور پر آمریت قائم نہ کرسکے جبکہ سیاسی جماعتیں پارلیمانی نظام کی روح کو سمجھنے قاصر رہیں،یہی وجہ رہی کہ ایک طرف تو سیاسی حکومتوں کے دور میں آمریت کی جھلک اور بوقت ضرورت پارلیمانی بن جانے کا مسلسل مسئلہ رہا ہے جس سے کوئی بھی سیاسی جماعت وفاق یا صوبے میں حکومت میں آئی تو اپنے اس منشور پر عملد رآمد کرنے میں مکمل ناکام رہی جس کے وعدہ پر وہ عوام سے ووٹ لیتے ہیں۔یہ مسئلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)سمیت علاقائی جماعتوں کا رہا ہے اب تحریک انصاف کو بھی یہی کچھ درپیش ہے،جس کے باعث اب منشور پر عمل کم اور بڑھکیں زیادہ سنائی دے رہی ہیں بلکہ اب تو صاحب اقتدار جماعت نے اپنے اصل منشور کو پس پشت ڈال کر ایک نئی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے جو بظاہر پارلیمانی نظام کو لپٹینے کا ہے،جس کا اندازہ ان کے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے سیاسی مستقبل کے بارے میں معاملات ہیں۔ جن میں ایک تو اشارہ صدارتی نظام کی طرف جانے کا ہے جبکہ دوسرا بڑا اشارہ ملک میں 13صوبے بنانے کی سنجیدہ تجویز ہے جس کی صدائے بازگشت گزشتہ دنوں تمام میڈیا پر تواتر کے ساتھ سنی جاتی رہی ہے یہاں تک کہ وفاقی وزراء اور خصوصا کراچی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی طرف سے کراچی کو وفاقی اکائی بنانے کے بارے میں بیانات تھے جس پر خاص طور پر پیپلز پارٹی نے بھرپور ایکشن لیا لیکن اب بات اس سے آگے چلی گئی ہے اور سوشل میڈیا پر جو نقشے اور متوقع صدارتی نظام کے حوالے سے جو سامنے آرہا ہے اس کے مطابق کراچی اور گوادر کو وفاقی اکائی بنانے کی تجویز ہے،لوئر اور اپر بلوچستان الگ صوبے ہوسکتے ہیں،اسی طرح سندھ کو اپر اور لوئر میں تقسیم کرنے کا عندیہ ہے،پنجاب کو لوئر،اپر اور سنٹرل،خیبر پختوانخواہ کو اپر او ر لوئر،گلگت،ہزارہ صوبے مجوزہ ہیں تاہم اسلام آباد وفاقی اکائی اور آزاد کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔حکمران تحریک انصاف ”ابھی صرف آغاز ہے ہمیں آگے جانا ہے“سلوگن کے ساتھ عوامی اور سیاسی ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے پر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو فعال اور تقریبا خود مختار کرنے کیلئے ایک طرف تو ضرورت کے مطابق سرکاری تعمیرات کیلئے جگہ کا انتخاب کرلیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف رولز آف بزنس میں تبدیلی لائی جارہی ہے جس کے تحت سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی اور مالی معاملات کے فیصلے یہی ہوں گے۔ اب یہ کب ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے 

پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان معاملات کو بھانپ کرہی کراچی میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ ملک کیلئے پارلیمانی نظام کے سوا دوسرا کوئی نظام سود مند نہیں،بانی پاکستان قائد اعظم بھی پارلیمانی نظام کے حامی تھے کسی اور نظام کی طرف جانا ملک کیلئے سود مند نہیں ہوگا، ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے ہی منشور پر عمل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔سابق وزیر اعظم کے اس بیان سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی کو اس کا ادراک ہوچکا ہے مگر وہ اس پر مزید کیا ردعمل دیتے ہیں اس کیلئے وقت کا انتظار کرنا ہوگا کیونکہ یہ بات تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے علم میں آچکی ہوگی،لیکن محسوس یوں ہوتا ہے یہ سیاسی لوگ اپنے اپنے ”مسائل“کے حل ہی میں عافیت سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں،اس لئے اس وقت اپوزیشن کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ایسی صورت میں اگر حکمران جماعت اپنے اس نئے منشور پر سنجیدگی سے عمل کرنا چاہتی ہے تو اسے کوئی سیاسی رکاؤٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا البتہ عوام کا کیا ردعمل ہوگا،یہ دیکھنا ہوگا۔ویسے تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کے ساتھ جو کچھ کردیا ہے وہ بھی سیاسی جماعتوں کی طرح خاموش ہی رہتے نظر آتے ہیں۔ادھر سینئر سیاستدان و مسلم لیگ(ن)کے مرکز رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی یہی بھانپ کر کہا ہے کہ پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں،جو جمہوریت کا راستہ روکنے کی کوشش کرے گا وہ مٹ جائے گا۔ریاست مدینہ کا تصور دینے والے حکمرانوں کے دور میں ایک خاتون کے ساتھ موٹر وے پر جس درندگی کا مظاہرہ کیا گیا اس پر عمران خان کو مستعفی ہوجانا چاہیے،قوم ایسے درندوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کلثوم نواز کے شانہ بشانہ ہم نے بھی جمہوریت کیلئے جدوجہد کی جس کے نتیجے میں پرویز مشرف کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -