صدر مملکت کا دورہ میرپور خاص، راشن تقسیم ہوا اور تصاویر بنائی گئیں، صدر تاجروں سے بھی ملے

 صدر مملکت کا دورہ میرپور خاص، راشن تقسیم ہوا اور تصاویر بنائی گئیں، صدر ...

  

ڈائری۔۔۔کراچی 

مبشرمیر 

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کراچی اور سندھ میں مصروف وقت گزارا خاص طور پر انہوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور حلیم عادل شیخ کے ہمراہ میرپور خاص کا دورہ کیا۔بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے راشن تقسیم کیا گیا۔حیرت ہوتی ہے ایسے پروگرام دیکھ کر جب انتہائی اہم ترین شخصیات ضرورت مندوں کو جمع کرکے انہیں راشن کے تھیلے دیتے ہوئے فوٹو سیشن کروا رہی ہوتی ہیں۔مہذب معاشرے میں یہ انداز کسی صورت بھی صائب تصور نہیں کیا جاسکتا۔صدر مملکت ڈاکٹرعلوی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ نے متعدد تقریبات اور ملاقاتوں میں کراچی اور سندھ میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی کا ذکر کیا ہے۔سندھ کے بیس اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔متاثرین کی تعداد دو ملین سے زائد بتائی جاتی ہے ان کے لیے امداد کا بھی اعلان کیا جارہا ہے۔اگر امداد ان تک صحیح انداز سے پہنچ گئی تو ان کے مسائل کسی حد تک کم ہوسکیں گے۔بارشوں اور علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے کراچی میں کئی مخدوش عمارتوں میں رہائشی افراد کے لیے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔چند ایک عمارتوں کے گرنے سے کئی افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ کئی مخدوش عمارتیں خالی بھی کروائی جارہی ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بے گھر افراد کے لیے متبادل انتظام کی ذمے داری ابھی تک کسی سطح پر بھی انجام پذیر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔شہر کراچی اور سندھ کے لوگوں کے لیے اعلانات بہت ہوچکے ہیں لیکن عملدرآمد کب اور کیسے ہوگا اس کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی جانب سے ایک خط کا تذکرہ سننے کو مل رہا ہے جو انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کے نام لکھا تھا کہ ”کے فور“ منصوبہ شروع  کرنے کے لیے اقدامات مکمل کیے جائیں جس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے انکوائری کمیشن کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔گویا ایک دوسرے کی طرف بال اچھالی جارہی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق کراچی پیکج میں پیش رفت کسی معجزے سے کم نہیں ہوگی،اس وقت ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر بھی کردیا گیا ہے۔کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کو میڈیا کے سامنے بہت مشکل پیش آئی اور وہ گفتگو ادھوری چھوڑ کر چلے گئے ان کی ماضی کی چند کہانیاں بھی زبان زد عام ہوئیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں۔حکومت سندھ کی انہیں آشیر باد حاصل ہے۔اگر ان کی تقرری کو عدالت میں زیر سماعت لایا گیا تو پھر ہوسکتا ہے کہ صورت حال میں کچھ تبدیلی آئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی الیکشن کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا راستہ ہموار کرنا شروع کردیا ہے۔تازہ مردم شماری کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ انہوں نے ہی گزشتہ مردم شماری کے نتائج کو تسلیم کیا تھا اور ایم کیو ایم نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے کیا کہا جائے جبکہ موجودہ سندھ حکومت اپنی مرضی سے کئی مرتبہ حلقہ بندیاں کرچکی ہے۔یوں دکھائی دیتا ہے کہ جب آفت آتی ہے تو حکمرانوں کو تھوڑا خوف محسوس ہوتا ہے اور اس کے گذرتے ہی وہ اپنی پرانی ڈگر پر آجاتے ہیں۔اس رویے میں کوئی تبدیلی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔بارشوں کے بعد اسٹریٹ کرائمز میں ایک دم اضافہ ہوچکا ہے۔ کراچی کے متعدد علاقوں میں ڈاکوؤں کا لوٹ مار کرنے کا سلسلہ چند دنوں میں بہت تیز دکھائی دے رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ شہر میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی میں بہت دراڑیں دکھائی دے رہی ہیں جبکہ مفتی منیب الرحمن کی سربراہی میں نکالی گئی ریلی کا مقصد مقدس ہستیوں کی ناموس کی حفاظت تھا۔مفتی منیب الرحمن چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی حیثیت سے پندرہ برس سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق انہیں تبدیل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن اب ریلی کی قیادت کرکے انہوں نے طاقت کا مظاہرہ بھی کردیا ہے۔

سانحہ موٹروے لاہور کے اثرات پورے ملک میں محسوس ہوئے اور کئی افراد نے غم و غصہ کا اظہار کیا۔کراچی میں پہلے بھی خواتین اور بچوں سے زیادتی کے واقعات وقوع پذیر ہوچکے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی ایک کم سن لڑکی سے زیادتی کا واقعہ ہوا ہے۔اس سے پہلے ایک ڈاکٹر ماہا کی مبینہ خود کشی کا سانحہ بھی ہوا۔یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارا معاشرہ توہین انسانیت کا مرتکب ہورہا ہے بلکہ بار بار ایسا ہورہا ہے اور ہمیں ناموس انسانیت کی اہمیت  اجاگر کرنی چاہیے۔ہمارے علماء کرام اس حقیقت سے کیوں نابلد دکھائی دیتے ہیں۔اگر انسانیت کی قدر کی جائے گی تو مقدس ہستیوں کے احترام کی اہمیت خود بخود واضح ہوجائے گی مگرعملاً ایسا نہیں ہورہا۔ہمیں بعض دینی مدارس میں طلباء پر جنسی تشدد کی خبریں مزید پریشان کردیتی ہیں اور معاشرے کی اخلاقی پستی مزید عیاں ہوجاتی ہے۔

اقتصادی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کراچی اسٹاک ایکس چینج کا دورہ بھی کیا اور کاروباری حضرات سے گفتگو بھی کی۔اس وقت اسٹاک ایکس چینج نے بہتری کا سفر شروع کردیا ہے۔وفاقی ادارہ برائے پانی،ارسا نے انکشاف کیا ہے کہ 75لاکھ ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر برد ہوگیا۔حالیہ بارشوں اور سیلاب سے کئی لاکھ کیوسک پانی کا ریلا دریائے سندھ میں داخل ہوا اور اس صوبے کی بدنصیبی کہ اس میں پانی کا کچھ حصہ ذخیرہ کرنے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں اتررہا ہے۔سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر سندھ کی قوم پرست جماعتیں اور پیپلزپارٹی بھی صوبہ سندھ میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر میں کامیاب نہیں ہوسکیں لیکن پانی پر سیاست کا عمل جاری ہے۔اگر اتنے بڑے پانی کے ریلے میں سے 20فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی بھی گنجائش پیدا کرلی جائے تو صوبہ سندھ کی کئی بنجر زمینوں کو آباد کیا جاسکتا ہے اور شہروں کی پانی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔کراچی کی ضرورت 1200کیوسک روزانہ ہے جسے دریائے سندھ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ہم پانی کے ذخیرے بنانے میں ناکام ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -