گدا گری کیخلاف قوانین سخت کرنا ہونگے، حکومت کا قومی اسمبلی میں عندیہ 

گدا گری کیخلاف قوانین سخت کرنا ہونگے، حکومت کا قومی اسمبلی میں عندیہ 

  

 اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں حکومت نے وفاقی دارلحکومت میں گداگری کی روک تھام کیلئے قوانین کو مزید سخت کرنے کاعندیہ دیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ شوکت علی نے کہا ہے کہ بھیک مانگنے والوں کو پکڑنے کی بجائے انہیں موقع پر ہی چالان اور سخت سزا دینے کا قانون بنانا ہو گا،جب تک بھیک مانگنے والوں کیساتھ سختی نہیں کی جائے گی یہ باز نہیں آئیں گے،وفاقی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں بھیک مانگنے(بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

 والوں کا گینگ گرفتار کیا،تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ8پولیس اہلکار میں انکے ساتھ ملوث ہیں،پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے اور وہ تمام اب جیل میں ہیں۔ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے توجہ دلاؤ نوٹس قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور انسانی حقوق کو بھجوا دیا۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں تحریک انصاف کی نصرت واحد،اسمہ قدیر،شاہین ناز سیف نے وفاقی دارلحکومت میں گداگری کی روک تھام سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیاجس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی نے کہا کہ حال ہی میں ایک بڑا گینگ گرفتار کیا،گینگ میں ٹھیکیدار بھی پکڑے گئے ہیں جو ان لوگوں کو اسلام آباد کے قریبی علاقوں سے گاڑیوں میں لیکر آتے تھے اور مختلف چوکوں میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ جب تک ان کے ساتھ سختی نہیں کی جائے گی یہ باز نہیں آئیں گے۔ بھیک مانگنے والوں کو پکڑنے کی بجائے انہیں موقع پر ہی چالان اور سخت سزا دینے کا قانون بنانا ہو گا۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدالتوں کو ہاتھ جوڑ کر کہنا پڑے گا کہ ججز کو ٹریننگ دیں، بداخلاقی کے کیسز میں صلح نہیں ہو سکتی۔ نظام انصاف کو نافذ کرنے سے معاملہ حل ہوگا۔ بداخلاقی کے مقدمات میں خواتین افسروں کو تفتیشی لگانا چاہیے۔ نظام انصاف میں اصلاحات کی جائیں۔ بداخلاقی کیسزمیں سزائیں صرف پانچ فیصد ہیں۔ اگر سزائیں 85 فیصد تک ہوتیں تو اتنے واقعات نہ ہوتے۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے واقعہ نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے۔ عوام کے غصہ میں اضافہ تب ہوتا ہے جب ایسے واقعات پے درپے ہو رہے ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پر ہم کچھ دن ماتم کرتے ہیں اور پھر اگلے واقعہ کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر تمام سابقہ واقعات میں سرعام پھانسی دی جاتی تو مستقبل میں کوئی جرات نہ کرتا۔ ہر سال پانچ ہزار اوسط زنا بالجبر کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔جبکہ  مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے اپنے خطاب میں کہاہے کہ وفاقی حکومت سندھ اور کراچی میں تفریق نہیں کرتی،قدرتی آفات پر وفاق اور صوبے کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے اسوقت سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورہ پر ہیں،سندھ میں سیلاب اور بارشوں سے 136 افراد جاں بحق ہوئے۔

فوادچوہدری 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -