زکریایونیورسٹی،جعلی دستاویزات پر خاتون ٹیچر  بھرتی،کیس کی سماعت 12اکتوبر تک ملتوی

 زکریایونیورسٹی،جعلی دستاویزات پر خاتون ٹیچر  بھرتی،کیس کی سماعت 12اکتوبر ...

  

 ملتان (وقائع نگار)ہائیکورٹ ملتان بنچ نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (بقیہ نمبر16صفحہ10پر)

کے ڈین کی جانب سے جعلی دستاویزات پر اپنی بیوی کو ایسوسی ایٹ پروفیسر کی نشست پر نوازنے اور قومی خزانے کو لاکھوں روپے نقصان پہنچانے کے خلاف درخواست پر وائس چانسلر اور فیکلٹی ڈین کی جانب سے جواب پیش نہ کرنے پر اگلی سماعت 12 اکتوبر کو جواب پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر فریق خاتون ٹیچر فاطمہ فاروق نے جواب داخل کیا جس کو پٹشنر کے وکیل نے محض انکار قرار دیا ہے۔قبل ازیں ماورائے قانون بھرتی کو ہائیکورٹ ملتان بنچ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر عدالت عالیہ نے سٹے آرڈر جاری کررکھا ہے جو درخواست کے فیصلے تک رہے گا۔فاضل عدالت میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عذرا بتول نے کونسل رانا آصف سعید کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ڈائریکٹر سکول آف اکنامکس ڈاکٹر عمران شریف نے بیوی فاطمہ فاروق کو غیر قانونی اور جعلی دستاویزات پر پہلے ایلمنٹری ٹیچر بھرتی کرایا جس کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر بھرتی کرالیا گیا، ڈاکٹر عمران شریف نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے بیوی کو دوبارہ ایسوس ایٹ پروفیسر کی سیٹ پر اہل کرالیا، ڈاکٹر عمران شریف یونیورسٹی میں اہم عہدوں پر فائز ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، خاتون کو نااہل قرار دیکر قومی خزانے سے لی گئی تنخواہیں واپس لی جائیں، فاطمہ فاروق کے سرٹیفیکیٹ بوگس ہیں جو ماورائے قانون ٹیچر بھرتی ہوئیں ہیں۔ دریں اثناء  پٹشنر عذرا بتول کو عدالت سے رجوع کرنے پر ڈاکٹر عمران شریف کی جانب سے ہراساں کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا جس میں ڈاکٹر عمران شریف کی جانب سے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کا دفتر سیل کرنا بھی شامل ہے اس بارے خاتون نے وائس چانسلر کو کارروائی کی بھی درخواست دے دی ہے۔

ملتوی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -