غیر منظم مزدوروں کو مختلف اداروں میں رجسٹر ڈ کیاجائے، شمس الرحمن

  غیر منظم مزدوروں کو مختلف اداروں میں رجسٹر ڈ کیاجائے، شمس الرحمن

  

 ملتان (سٹی رپورٹر) نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی،ڈاکٹر صفدراقبال ہاشمی، مرزا محمد عیسیٰ،حافظ عبدالرحمن قریشی،مجاہد حسین پاشا نے جماعت اسلامی کے دفتر ”دارالسلام“ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل پاکستان میں ساڑھے سات (بقیہ نمبر6صفحہ10پر)

کروڑ مزدور ہیں جن میں 5کروڑ مزدور غیر منظم ہیں جبکہ ڈھائی کروڑ مزدوروں میں سے صر ف 22لاکھ مزدوروں کو EOBIاور سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ منظم اور غیر منظم مزدوروں کو EOBIاور سوشل سیکورٹی کے اداروں میں رجسٹرڈ کیا جائے منظم مزدوروں کو سوشل پروٹیکشن نہیں دی جارہی اور ٹھیکیداری نظام لاگو کیا جاچکا ہے جبکہ اس ملک کی روشنیاں مزدوروں کے ساتھ وابستہ ہیں اور پورے ملک کی صنعت صرف مزدوروں کی وجہ سے چلتی ہے اس ملک کی ترقی کیلئے مزدوروں کو مستحکم کرنا ہوگا جبکہ گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے 17500تنخواہ کم از کم مقرر کی گئی ہے جو کہ نہیں دی جارہی یہاں تک کہ اس مرتبہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا ہمارا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر کی جائے سونے کی قیمت کم ہوتو تنخواہ بھی کم ہو اور اگر سونے کی قیمت بڑھے تو مزدور کی تنخواہ بھی بڑھائی جائے آج جنوبی پنجاب میں آکر یہ معلوم ہوا کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن،ملتان ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن کی لیبر کورٹس کے ججز تقریبا ایک سال سے نہیں ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں مزدور وں کے کیسسز کی سنوائی نہیں ہورہی ہے مزدوروں کا بچہ آج سکول سے محروم ہے 4کروڑ بچے کھیت کھلیان اور دیہاڑی دار مزدور کے بچے ہیں جنہیں صحت اور تعلیم کا حق برابری کی بنیار پر میسر نہیں ہم چاہتے ہیں کہ صدر اور وزیر اعظم کے بچوں کی طرح مزدور کے بچوں کو بھی وہی حق حاصل ہونا چاہئیے جس سکول میں صدر اور وزیراعظم کا بچہ تعلیم حاصل کرے اسی ادارے میں مزدور کے بچے کو بھی تعلیم کا حق ملے جہاں صدر اور وزیر اعظم کے بچوں کو علاج معالجہ کا حق ملے وہیں مزدور کے بچوں کو حق ملنا چاہئے جس کا آئین پاکستان بھی حق دیتا ہے پاکستان میں سارے ادارے موجود ہیں لیکن سارے کے سارے ادارے مزدوروں کی بجائے مالکوں کے حق میں ہیں یہ ظلم کا نظام کب تک چلے گا ہمیں نظام مصطفی ﷺ کا نظام چاہئے آنے والے الیکشن میں ساڑھے سات کروڑ مزدور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے ووٹ کی پرچی کا استعمال کریں گے آخر میں انہوں نے ملتان کے مقامی اداروں کے متعلق کہا کہ ایم ڈی اے میں ملازمین کی بھرتی میرٹ پر کی جائے اور ملازمین کے بچوں کا 20%کوٹہ شائع نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ایم ڈی اے کی 83ویں گروننگ باڈی میٹنگ میں ایم ڈی اے کے ملازمین کا سپورٹس الاؤنس ایک سکیل سے بیس سکیل تک منظور کیا گیا جبکہ واسا کے ملازمین کا سپورٹس الاؤنس ایک سے آٹھ تک منظور کیا گیا واسا میں نو سے بیس تک کے ملازمین میں انتہائی بے چینی پائی جاتی ہے واسا اور ایم ڈی اے کے درمیان معاہدہ کیا جائے ایم ڈی اے کوئی بھی نئی ہاؤسنگ سکیم بنائے گا تو اس میں ایم ڈی اے ملازمین کی طرح واسا ملازمین کا بھی پلاٹوں میں کوٹہ رکھا جائے محکمہ پی ایچ اے کو بھی ایم ڈی اے ملازمین اور واسا ملازمین کی طرح سپورٹس الاؤنس اور دوسرے الائنسز دئیے جائیں باغ بان یونین پی ایچ اے کے جنرل سیکرٹری عاقل قریشی کے خلاف انتقامی کاروائیاں بند کی جائیں پی ایچ اے میں ایمپلائز سن کوٹہ کے تحت رکھے گئے ملازمین کے بچوں کو اور دیگر ملازمین کو جلد از جلد ریگولر کیا جائے پی ایچ اے نے ملازمین کو دوائیاں دینا عرصہ دراز سے بند کردی ہیں این ایل ایف مطالبہ کرتی ہے کہ ڈاکٹرز کو پینل پر لیا جائے اور دوائیاں فورا بحال کی جائیں۔ 

پریس کانفرنس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -