آٹا مہنگا، نان اور ہوٹلوں پر روٹی مزید مہنگی، انتظامیہ غائب 

  آٹا مہنگا، نان اور ہوٹلوں پر روٹی مزید مہنگی، انتظامیہ غائب 

  

  میلسی(تحصیل رپورٹر) میلسی میں آٹے کا بحران بدستور جاری ہے بیرون ممالک سے گندم درآمد کرنے کے باوجود اس کے بحران میں کوئی کمی نہیں آسکی میلسی اور(بقیہ نمبر12صفحہ10پر)

مضافات میں آٹا نایاب ہو چکاہے ڈیلر صبح سویرے نمائشی آٹا سیل کیلئے قطاریں لگواکر کارروائی ڈال لیتے ہیں جس کے بعد دن بھر فائن آٹے کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں آٹا مہنگا اوربلیک میں فروخت ہونے پر نان بائی اور ہوٹل والے بھی نان کی قیمت 15 روپے اور روٹی کی قیمت 10 روپے وصول کر رہے ہیں سب سے زیادہ دیہاڑی داری اور مزدور طبقہ متاثر ہو رہا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر دو وقت کی روٹی کیلئے کھلا آٹا خرید کرتا ہے جو 60 روپے فی کلو کے حساب فروخت ہورہا ہے جبکہ مقررہ سرکاری نرخوں پر بکنے والاآٹا انتہائی ناقص اور غیرمعیاری تیار کیا جارہا ہے جس میں چوکر اور پانی کی زیادتی اوردیگرناقص اشیاء کی ملاوٹ سے آٹے کی رنگت سیاہ، بدذائقہ جو کھانے کے قابل بھی نہیں بتایا گیا ہے اس آٹے کے استعمال سے لوگ پیٹ اور دیگر کئی بیماریوں میں مبتلاہو رہے ہیں رابطہ پرمحکمہ فوڈ کے ترجمان نے بتایا کہ ابھی سرکاری گندم کا کوٹہ بڑھانے کی اجازت نہیں ملی تاہم حکومت نے آٹا بحران پر قابو پانے کیلئے فلور ملوں کو پرائیویٹ گندم سے 15 کلو آٹے کا تھیلہ 860 روپے میں فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

غائب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -