جتنی ناانصافی یہاں ہے کسی اور جگہ اتنی نہیں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اسلام آبادکے مختلف سیکٹرز کے متاثرین کو معاوضہ دینے سے متعلق کیس میں ریمارکس

جتنی ناانصافی یہاں ہے کسی اور جگہ اتنی نہیں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اسلام ...
جتنی ناانصافی یہاں ہے کسی اور جگہ اتنی نہیں ،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اسلام آبادکے مختلف سیکٹرز کے متاثرین کو معاوضہ دینے سے متعلق کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کے متاثرین کو معاوضہ دینے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ جتنی ناانصافی یہاں ہے کسی اور جگہ اتنی نہیں ،یہاں پر قبضے ہو رہے ہیں ،کرائم بڑھ رہے ہیں ۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کے متاثرین کو معاوضہ دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جتنی ناانصافی یہاں ہے کسی اور جگہ اتنی نہیں ،یہاں پر قبضے ہو رہے ہیں ،کرائم بڑھ رہے ہیں ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جس کو معاوضہ وقت پر نہیں ملتا اسے معاوضہ کیسے کہا جائے گا؟ ،معاون خصوصی علی اعوان نے کہاکہ ہم جو بھی میٹنگ کرتے ہیں اس میں متاثرین بھی شامل ہوتے ہیں ، عدالت نے کہاکہ آخری متاثرہ شخص کو معاوضہ ملنے تک کسی کو کوئی پلاٹ الاٹ نہیں ہوگا، معاون خصوصی علی اعوان نے کہاکہ جب سے اسلام آباد بنا ہے تب سے اس کے مسائل چل رہے ہیں ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ مفادات کے ٹکراﺅ کے علاوہ اسلام آباد میں کچھ ہے ہی نہیں ،وزیراعظم اسی مفادات کے ٹکراؤ کی بات کرتے ہیں،جو ریونیو افسر متاثرین کی زمین ایکوائر کرتا ہے وہ خود وہاں پلاٹ لیتا ہے،اگر ریونیو افسر کا اپنا کوئی مفاد نہ ہو تو وہ ٹھیک کام کرےگا،عدالت نے سی ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -