حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی ، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 منظور

حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی ، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 منظور
حکومت کو بڑی کامیابی مل گئی ، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 منظور

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تیسرا اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 کثرت رائے سے منظورہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ اور وقف املاک بل سمیت پانچ بل ایوان سے منظور کرلیے گئے۔حکومت کی جانب سے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے پارلیمنٹ کے ہونے والے مشترکہ اجلاس میں  تیسرا اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل کو اپوزیشن ارکان کی غیر موجودگی میں منظور کیا گیا۔ اپوزیشن نے تمام ترامیم مسترد ہونے اور بلاول بھٹو زرداری کو بات کرنے کا موقع نہ دینے پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔اس سے پہلے اپوزیشن نے شورشرابا کیا اور ترمیمی بل کی کاپیاں پھاڑ دی تھیں۔ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کی قانون سازی پر کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کو ترامیم پیش کرنے کا کہا جس پر انہوں نے ایوان میں سپیکر کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  شق دو، شق 6 اور شق آٹھ میں میری ترامیم تھیں لیکن آپ نے مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا، آپ نے قوانین کو بلڈوز کیا اور آپ ایف اے ٹی ایف کی غلامی میں پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں۔سینیٹر مشتاق نے ترمیم پیش کی تو مشیر قانون بابر اعوان نے اس کی مخالفت کی جس کے بعد اسے ایوان میں ووٹ کے لیے پیش کیا گیا اور ووٹنگ کی بنیاد پر ترمیم مسترد کردی گئی۔بل کے شق نمبر 14 میں دو ترامیم پارلیمانی سیکریٹری کنول شوزب نے پیش کیں جبکہ سینیٹر مشتاق احمد نے ایک اور ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر صاحب آپ دستور کے خلاف قانون سازی کر رہے ہیں۔سپیکر نے پارلیمانی سیکریٹری کی ترمیم ووٹنگ کے لیے پیش کی جسے منظور کر لیا گیا جبکہ سینیٹر مشتاق احمد خان کی ترمیم کو ووٹنگ میں مسترد کردیا گیا۔سینیٹر مشتاق احمد نے شق نمبر 16 میں بھی ترمیم پیش کی جسے مشیر قانون کی جانب سے مخالفت کے بعد ووٹنگ میں مسترد کردیا گیا جبکہ ان کی جانب سے شق 21 میں ترمیم کی قرارداد بھی مسترد کردی گئی۔شق 25 کو خارج کرنے کی قرارداد پارلیمانی سیکریٹری کنول شوزب نے پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل کی شق وار منظوری دی گئی۔ اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم مستردہونے، بلاول بھٹو زرداری اور شہبازشریف کوبات کاموقع نہ ملنےپراپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے باہرچلےگئے تاہم اپوزیشن کی غیر موجودگی میں بھی قانون سازی کا عمل جاری رہا اور اپوزیشن کی غیر موجودگی میں اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020 منظور کر لیا گیا۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

بل کے مطابق وفاق کےزیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے زمین وقف کرنے سے پہلے رجسٹرڈ کرانا ہوگی،  مدارس اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے زمین وقف کرنے سے قبل رجسٹر کرانا ہوگی۔بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا،  وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنڑول میں آجائیں گی، وقف املاک پرقائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت انتظام سنبھال سکے گی۔بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرےگی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دےسکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کوبھی روک سکے گا۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -