شہر کو ہرا بھرا بنانے کے لیے چین میں یہ عمارتیں متعارف کروائی گئیں، لیکن کچھ عرصے بعد ہی لوگ ان میں رہنے سے کیوں بھاگ گئے؟ ایسا مسئلہ سامنے آگیا جس کے بارے میں کسی نے نہ سوچا تھا

شہر کو ہرا بھرا بنانے کے لیے چین میں یہ عمارتیں متعارف کروائی گئیں، لیکن کچھ ...
شہر کو ہرا بھرا بنانے کے لیے چین میں یہ عمارتیں متعارف کروائی گئیں، لیکن کچھ عرصے بعد ہی لوگ ان میں رہنے سے کیوں بھاگ گئے؟ ایسا مسئلہ سامنے آگیا جس کے بارے میں کسی نے نہ سوچا تھا
کیپشن:    سورس:   Instagram/youknowcyc

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی میں ایک عمودی جنگل کے تصور کی حامل کالونی بسائی گئی تھی تاکہ شہر کو ہرابھرا رکھا جا سکے لیکن چند سال بعد ہی اس علاقے کے رہائشی وہاں سے بھاگ نکلے، جس کی وجہ ایک ایسا مسئلہ تھا کہ جس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ میل آن لائن کے مطابق چین کے شہر شینگ ڈو میں بنائے گئے اس منصوبے کا نام ’شی ژی فاریسٹ گارڈن‘ رکھا گیا تھا جس میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی بالکونیوں میں پودے لگائے گئے تھے۔ ان عمارتوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے کوئی عمودی جنگل ہو مگر چند سال بعد ہی ان عمارتوں میں مچھروں کی ایسی بہتات ہو گئی کہ مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں عام ہو گئیں۔

رپورٹ کے مطابق مچھروں سے پھیلنے والی ایک بیماری ابھی جاتی نہ تھی کہ یہاں کے رہائشیوں کو دوسری بیماری گھیر لیتی۔ اس صورتحال سے تنگ آ کر ان عمارات کے مکینوں نے وہاں سے نقل مکانی شروع کر دی۔ اس وقت اس علاقے کی 8بلند و بالا عمارتیں یکسر خالی پڑی ہیں اور وہاں کوئی رہنے کو تیار نہیں ہے، کہ ان عمارتوں میں مچھر ایسی یلغار کرتے ہیں کہ رات تو رات، دن کو بھی لوگ گھر میں سکون سے نہیں رہ سکتے۔

مزید :

بین الاقوامی -