حافظ حسین احمد حکومت کی بجائے اپوزیشن پر ہی برس پڑے ، ایسی بات کہہ دی کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو بھی سوچ میں پڑ جائیں

حافظ حسین احمد حکومت کی بجائے اپوزیشن پر ہی برس پڑے ، ایسی بات کہہ دی کہ شہباز ...
حافظ حسین احمد حکومت کی بجائے اپوزیشن پر ہی برس پڑے ، ایسی بات کہہ دی کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو بھی سوچ میں پڑ جائیں

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماؤں کے بیانیہ اور عمل میں فرق ہے،ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں بعض اپوزیشن  رہنماؤں کے اپنے ہی بیانیے کے خلاف ہے، کل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن کوروایتی انداز سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہونگے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےحافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا یہی موقف ہے کہ 2018ء  کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی اور یہ حکومت دھاندلی کے ذریعے قوم پر مسلط کی گئی ہے لیکن اس بیانیے اور موقف پر دو سالوں کے دوران میدان میں صرف جے یو آئی ہی نظر آئی جے یو آئی کی طرح اگراپوزیشن کی تمام جماعتیں میدان میں نکلتیں تو آج حالات مختلف ہوتے۔جے یو آئی کے ترجمان نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں بیانیے پرتو متفق ہیں لیکن اب عملی میدان میں بھی تمام جماعتوں کو متفق ہو نا ہوگا تاکہ اس حکومت کو گھر بھیجا جاسکے اگراپوزیشن جماعتیں کسی متفقہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہوں گی تو حکومت کا یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں اس لیے اس بار کل جماعتی کانفرنس میں روایتی انداز سے ہٹ کر فیصلے کرنے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما ان ہاس تبدیلی کی باتیں کررہے ہیں جوکہ اپوزیشن جماعتوں خصوصا مسلم لیگ ن کے اپنے ہی بیانیے ''ووٹ کو عزت دو''کے خلاف ہے کیوں کہ ان ہاؤس تبدیلی کا مطلب اس اسمبلی کو جائز قرار دینا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 2018ء  کے انتخابات ٹھیک ہوئے تھے، موجودہ حکومت کو اپوزیشن ناجائز قراردے چکی ہے تو ان ہاؤس تبدیلی سے منتخب ہونے والی حکومت کو کیسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ درحقیقت ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں اپوزیشن جماعتوں کے اپنے ہی بیانیے کے منافی ہے۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنما مصلحت اور مصالحت کا شکار ہوکر میثاق جمہوریت کے بجائے میثاق مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ہم توقع کرسکتے ہیں کہ اس بار کل جماعتی کانفرنس بارآوار ثابت ہوگی اور اپوزیشن جماعتیں ایک موقف اور ایک انداز سے میدان میں آئیں گی تاکہ اپوزیشن کا اتحاد برقرار رہے اور مسلط شدہ حکومت کو گھر بھیجا جاسکے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -