ملک کی بڑی مذہبی جماعت نے اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کی تحریک چلانے کا اعلان کردیا

ملک کی بڑی مذہبی جماعت نے اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کی تحریک چلانے کا ...
ملک کی بڑی مذہبی جماعت نے اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کی تحریک چلانے کا اعلان کردیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب نے آئین پاکستان میں درج اسلامی حدودوتعزیرات کے نفاذ کی تحریک چلانے کا اعلان کردیا،تحریک کے تحت سیمینارز، جلسے اور ریلیاں نکالی جائیں گی اوراس موضوع کے تحت مساجد میں جمعہ کے خطبات دیے جائیں گے۔

اس امر کا فیصلہ مرکزاہل حدیث 106راوی روڈ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے اجلاس میں کیا گیا۔جس کی صدارت امیر پنجاب مولانا عبدالرشید حجازی نے کی۔ناظم اعلی پنجاب حافظ محمد یونس آزاد نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے اجلاس میں مرکزی امیر سینیٹر علامہ پروفیسر ساجد میر اور مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر سینیٹر حافظ عبدالکریم کی ہدایت پر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی سطح پر عوام میں اسلامی حدود وتعزیرات کی اہمیت بارے شعور بیدار کیا جائے گا۔اس سلسلے میں آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔آئین پاکستان میں درج اسلامی حدودوتعزیرات کے نفاذ کی تحریک کے تحت جلسے ریلیاں اور سیمینارز کا انعقاد کیاجائے گا۔

پنجاب کے اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا کہ حدود کے قوانین عورتوں کے محافظ ہیں، ان کی زد عورتوں کی نسبت مردوں پر زیادہ پڑتی ہے،خوفناک سزا کا خوف مرد کو کسی عورت کی پامالی سے روکتا ہے، ان قوانین کی و جہ سے عورت کامستقبل اور عزت محفوظ رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قوانین کی مخالفت کرنے کے بجائے اس طریقہ کار کی مخالفت کرنی چاہئے جس کی پیچیدگی کی وجہ سے عورت کو صحیح انصاف نہیں مل پاتا۔ اور یہ کام پولیس کلچر اور عدلیہ میں اصلاحات کے ذریعے ہوسکتا ہے،حدود آرڈیننس کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کا این جی اوز نے سلسلہ شروع کررکھا ہے اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اللہ کے قوانین کی مخالفت کرنے اور مذاق اُڑانے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیں گے،ہر معاملے میں مغرب کی اندھی تقلید نے ہمیں مذہب سے دور اور بے حس کردیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی اسمبلی یا حکمران کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ قوانین میں ردّوبدل کرسکے،تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 قتلِ عمد میں عائد کی جاتی ہے جس کے تحت دو طرح کی سزائیں ممکن ہیں: (الف) قصاص: یہ ایک اسلامی سزا ہے جس کے تحت ریاست کو اختیار ہے کہ مقتول کی جان بدلے قاتل کی جان لے لی جائے۔ (ب) عمرقید: اگر قتل کے ثبوت ناکافی ہوں یا کسی مخصوص حالات کے تحت مجرم کو قصاص کی بجائے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے جو عموماً 14 سال کی ہوتی ہے لیکن 25سال تک بڑھائی جاسکتی ہے۔دفعہ 367 کے تحت جنسی تشدد کو بڑا جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کی دو طرح کی سزا تجویز کی گئی ہے،قانون کے مطابق زیادتی کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو سزائے موت یا کم سے کم دس سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے،سزا کی میعاد کا تعین کیس کی نوعیت پر ہوتا ہے اور مجرم پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اجتماعی زیادتی کی صورت میں ملوث تمام تر افراد کو سزائے موت یا عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ڈکیتی کی سزادفعہ 392 کے تحت کم سے کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال کی سزا ڈکیتوں کو دی جاسکتی ہے۔ سزاکی میعاد کا تعین واردات کی سنگینی کی نوعیت پر ہوتا ہے۔بھتہ خوری کی سزا دفعہ 384 کے تحت اس کی سزا تین سال قید یا جرمانہ یا بیک وقت دونوں ہے۔توہینِ مذہب کے سلسلے میں دفعہ 295 بی اور 295 سی کے تحت اس جرم کی سزا دی جاتی ہے۔ دفعہ 295 بی کے تحت توہینِ قرآن کے مجرم کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔ توہینِ رسالت کے مجرم کو دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ان تمام قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خاں کی طرف سے مردانہ اعضاء کا ٹنے کی سزا غیر فطری اور غیر شرعی ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں، حدود اللہ کے تحت بدکار ی کی سزا کوڑے یا رجم ہے،حاکم وقت کو اپنی طرف سے غیر فطری سزاؤں کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں البتہ تعزیرات کے تحت سزائیں دی جاسکتی ہیں جس میں قید، جرمانہ،جلاوطنی وغیرہ شامل ہے،لہذا ہم نے اپنی تنظیمات کو ہدایات دی ہیں کہ وہ معاشرے میں حدود وتعزیرات کے نفاذ کی اہمیت اور اس کے فوائد بارے آگاہی پیدا کریں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ این جی اوز کی جو خواتین حدود آرڈیننس کی مخالفت اور خاتمہ کے لئے متحرک ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کی آواز ضرور بلندکریں مگر مغرب کے بجائے اسلام کی طرف دیکھیں جس نے چودہ سو سال پہلے عورت کو نہ صرف سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق بلکہ چادر اور چار دیواری کا تحفظ بھی فراہم کیا، اسلام عورت کی حرمت سے کھیلنے والوں کے لئے عبرت ناک سزا تجویز کرتا ہے،حدود لاز کی زد میں عورتوں سے زیادہ مرد آتے ہیں اورعورت پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے مرد کو بھی کوڑوں کی سزا دینے کا حکم ہے، حدود آرڈیننس کسی بھی اعتبار سے عورت کی حق تلفی نہیں کرتا،شعائر ِاسلام قرآن پاک سے لئے گئے ہیں لہذا قرآن پاک میں درج شعائر اسلام پر کسی کو انگلی ٹھانے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دراصل مغرب ایک گہری سازش کے تحت ہمارے خاندانی نظام کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے اور مرد اور عورت کے درمیان اسلامی حدود اور قیود کو ختم کرکے ایک بے حیا مخلوط معاشرہ قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -