اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ، فیٹف قوانین مقررہ وقت میں منظور نہ ہوتے تو ۔۔۔۔۔وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ، فیٹف قوانین مقررہ وقت میں منظور ...
 اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ، فیٹف قوانین مقررہ وقت میں منظور نہ ہوتے تو ۔۔۔۔۔وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف قوانین متعین وقت میں منظور نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا،فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ہیں،اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائیں۔

 نجی ٹی وی  چینل "دنیا نیوز" کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی 30 ستمبر تک کی ڈیڈلائن سے متعلق تمام ضروری قانون سازی کر لی گئی ہے ،امید ہے پاکستان کو جلد گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا،فیٹف کی شرط ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں بغیر وارنٹ گرفتاری ہونی چاہیے، کئی ممالک میں ایسے ہی وارنٹ جاری ہوتے ہیں، اپوزیشن میں کچھ غیرت مند پاکستانی ہیں جو ملک کا مفاد مقدم رکھتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کے قوانین متعین نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہوجاتاتو اسے ”بنانا سٹیٹ “قراردے دیا جاتا۔

ایک سوال کے جواب پر وفاقی وزیرقانون نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی 30ستمبر سے جڑی تمام شرائط پوری کر دی ہیں،ہمارے اقدامات کی جانچ کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کے حوالے سے کہا کہ آج اہم ایشو پر اپوزیشن کا رویہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ،فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون پاکستان کے آئین کے خلاف نہیں ہوسکتا، اگر یہ کالا قانون ہے تو اپوزیشن کوئی بھی شق میں خود اسے خذف کروا دوں گا، اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائیں۔وزیرقانون نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ففتھ جنریشن وار میں پھنسا ہوا ہے،فوج کی بدنامی کے تدارک کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ، فوج کی بدنامی کے ازالے سے متعلق پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے قانون میں ترمیم لارہے ہیں۔

مزید :

قومی -