محکمہ داخلہ حکومت سندھ کا صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد پابندیوں میں مزید نرمی کا اعلان

محکمہ داخلہ حکومت سندھ کا صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد پابندیوں ...
محکمہ داخلہ حکومت سندھ کا صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد پابندیوں میں مزید نرمی کا اعلان

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ داخلہ حکومت سندھ نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر(این سی او سی)کی ہدایت کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد پابندیوں میں مزید نرمی کا اعلان کیاہے۔

صوبائی محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق پابندیوں میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے مختلف شعبوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔احکامات میں کاروباری اوقات کو رات 10 بجے تک کردیا گیاہے جبکہ ضروری اشیا و خدمات کو 24 گھنٹے کام کرنے کی اجازت برقرار رکھی گئی۔کراچی ڈویژن میں کاروبار اتوار کے روز اور سندھ کے دیگر اضلاع میں جمعے کے روز بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اِن ڈور ڈائننگ کو رات 12 بجے تک گنجائش کے 50 فیصد پر جاری رکھنے کی اجازت دی گئی جبکہ مہمانوں کے لیے ویکسینیشن کارڈ ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیاہے اس کے علاوہ ٹیک اوے، ڈرائیو تھو سمیت ہوم ڈلیوری کی سروس بدستور 24 گھنٹے جاری رہیں گی۔

شادی بیاہ و دیگر تقریبات کے حوالے سے سندھ حکومت نے ہدایت دی کہ اِن ڈور تقریبات میں شرکت کی صرف ویکسین لگوانے والے افراد کو اجازت ہوگی جس میں زیادہ سے زیادہ مہمان 200 ہوں گے جبکہ آٹ ڈور تقریبات میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 400 افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی۔سندھ حکومت نے مزاروں کو کھولنے کے حوالے سے فیصلے کا اختیار متعلقہ ضلعی انتظامیہ پر چھوڑا ہے جو صحت، اوقاف و مذہنی امور کے محکموں سے مشاورت کے بعد فیصلے کریں گے۔

دفتری اوقات کے حوالے سے سندھ حکومت نے 100 فیصد حاضری کے ساتھ عمومی دفتری اوقات بحال کردیے ہیں۔سندھ میں سینما ہالز پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے جبکہ کراٹے، باکسنگ، مارشل آرٹس، رگبی، واٹر پولو، کبڈی اور ریسلنگ جیسے کھیلوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے اس کے علاوہ جِم کی سہولیات صرف ویکسین لگوانے والے افراد کو حاصل ہوں گی اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی 50 فیصد کی گنجائش پر تمام ایس او پیز پر عمل در آمد کرتے ہوئے چلیں گی۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ ہدایات 16 ستمبر سے 30 ستمبر یا کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر نظر ثانی کیے جانے تک کے لیے لاگو ہوں گی۔اس میں مزید کہا گیا کہ عہدیداران و قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو اختیار ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کرسکیں۔

مزید :

کورونا وائرس -