کراچی،”جمالیات اور محاکماتی تنقیدی جائزہ و مشاعرہ“کا انعقاد

کراچی،”جمالیات اور محاکماتی تنقیدی جائزہ و مشاعرہ“کا انعقاد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”جمالیات اور محاکماتی تنقیدی جائزہ و مشاعرہ“کا انعقادکیا گیا۔جس کی صدارت معروف شاعر ہ گلنار آفرین نے کی۔ اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں گلنارآفرین نے کہاکہ فطرت کی غائی تصدیق دوسطحوں پر ظہور پذیر ہوتی ہے۔ پہلی سطح پر کسی شے کی غایت کا احساس اس شے کی ہیئت کے مطابق ہمارے وقوف کا حصہ بنتا ہے۔یہاں غایت کے احساس کا ہیئت کے تعقل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ جس سے اس شے کے علم کا تعین ہوسکے۔ اس کا تعلق محض احساس سے ہے۔جب کوئی شے بطور استحضار اپنی ہیئت میں مسرت کا جواز بنتی ہے تو وہ فطرت کی غائی سطح پر ہونے کے باوجود ہر قسم کے تعقل کے دائرے سے باہر ہوتی ہے۔بس ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ شے جب بھی سامنے آتی ہے تو لازمی طورپر مسرت کا احساس اپنے ساتھ لاتی ہے۔ اصولی طورپر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کا استحضار ہم سب کے لیے قابل مسرت ہونا چاہیے۔ گویا اس میں عمومیت کا ہونا ضروری ہے یعنی مسرت کو صرف موضوع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔موضوع سے مراد وہ سامع یا ناظرہے جو اس شے کا ایک مخصوص وقت میں ادراک کررہاہے۔ مسرت کا احساس تو ایک عمومی کفیت ہے جس کے وقوع پذیر ہونے سے ہی کسی شے کو آرٹ کا درجہ دیاجاسکتا ہے۔ گویا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بوقت نظارہ اس شے کے وقوف کو سب کیلے باعث مسرت ہونا چاہیے۔ مسرت کے اس تجزباتی مطالعہ کو جمالیاتی محاکمہ نام دیا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ ملکہ جوکسی شے کے خوبصورت اور مسرت ہونے کا حکم لگاتا ہے، اس ذوق کا نام دیتے ہیں۔آرٹ کے شاہکاروں کا تجربہ فطرت کے حسن کے ساتھ مل کر جب وقوع پذیر ہوتاہے تو ترفع ے جاں فزااور تقوت بخش تجربہ میں ڈھل جاتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کا ملاپ صرف نا بغے کی ذات میں ہی سامنے آتا ہے۔ نابغے کی فطانت کو قدرت کا تحفہ کہا جاسکتا ہے۔ اس کا تخلیق کردہ آرٹ محض نقالی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس کے نقالی کی فعل میں متفکر ہ اور متخیل کے عناصر بیک وقت کا ر فرماہوتے ہیں۔ وہ اپنے سے پہلے فنکاروں کے فن س متاثر بھی ہوتا ہے لیکن اس کی تخلیق آزادانہ تجرے اور خودتشکیل کردہ اصولوں کا ثمر ہوتی ہے۔ لیکن ”تابغہ سائنسی طورپر یہ بتا نہیں سکتا کہ اس نے تخلیق کا رنامہ کس طرح سرانجام دیا۔ بس یہ محض اس کی فطانت کا ثمر ہوتاہے۔ وہ اس کی وضاحت بھی نہیں کرسکتا ہے کہ اس کے ذہن میں تصورات کس طرح وار د ہوئے۔نہ ہی وہ کس منصوبہ بندی سے ایسی ہی مزید تخلیقات کو معروض و جود میں لاسکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ اس سلسلے میں دوسروں کا سکھا نے اور ہدایات دینے کی پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ بھی شاہکار تخلیق کرسکیں۔

مزید :

صفحہ آخر -