میدان ہونے کے باوجود ہوا سے بجلی کیوں نہیں بنا سکتے ، اسد عمر کا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم انکشاف

میدان ہونے کے باوجود ہوا سے بجلی کیوں نہیں بنا سکتے ، اسد عمر کا قائمہ کمیٹی ...
میدان ہونے کے باوجود ہوا سے بجلی کیوں نہیں بنا سکتے ، اسد عمر کا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم انکشاف

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےمنصوبہ بندی کا اجلاس ہوا  جس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے کہا کہ بلوچستان میں میدان ہیں لیکن ہواسےبجلی بنانی مہنگی پڑےگی، عوام خریدنہیں سکیں گے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےمنصوبہ بندی کے اجلاس میں شرکاء کو بتایا کہ ،پہلےفیزمیں تمام سرمایہ کاری بجلی گھروں کےمنصوبےپرلگی،گوادرمیں اسپتال،ووکیشنل ٹریننگ سینٹر،پانی صاف کرنےکاپلانٹ لگایاگیا،گوادرمیں 200 ایکڑپراقتصادی زون بنایاجائےگا۔

معاون خصوصی سی پیک خالد منصور نے بریفنگ میں کہا کہ سماجی ترقی کےمنصوبوں کےتحت کام کیاجارہاہے، سی پیک کےتحت سماجی ترقی کےاب تک 4 منصوبےمکمل ہوچکے ہیں ،سی پیک کاپہلامرحلہ تکمیل کےمراحل میں ہے۔

معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے بتایا کہ سی پیک کے 53 ارب ڈالرز منصوبےکےفیزون میں شامل تھے، بجلی،انفراسٹرکچر،گوادرکی ترقی کےمنصوبےپہلےفیزمیں شامل ہیں، سی پیک کےتحت 5320 میگاواٹ کےمنصوبےمکمل کیےگئے، تھرمیں مزید 660 میگاواٹ بجلی بنانےکیلئےکام ہورہاہے۔

سینیٹر دنیش کمار نے شکوہ کیا کہ  جب سےسی پیک شروع ہواہےبلوچستان کوکچھ نہیں ملا، سی پیک منصوبوں میں بلوچستان کےساتھ زیادتی ہورہی ہے جس پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ جنوبی بلوچستان کیلئے 560 ارب کاپیکج موجودہ حکومت نےدیا، اگرکوئی کام ہواہےتووہ خصوصی طورپربلوچستان میں ہوا۔

مزید :

بزنس -