نواز شریف اور آصف زرداری کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی کوششیں کون کر رہا ہے ؟ سینئر صحافی جاوید فاروقی نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دینے والا تہلکہ خیز  دعویٰ کردیا 

 نواز شریف اور آصف زرداری کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی کوششیں کون کر رہا ہے ؟ ...
 نواز شریف اور آصف زرداری کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی کوششیں کون کر رہا ہے ؟ سینئر صحافی جاوید فاروقی نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دینے والا تہلکہ خیز  دعویٰ کردیا 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی جاوید فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے ٹوٹنے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سے کوئی خطرہ نہیں ہے،میاں نواز شریف اور آصف زرداری کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں اور یہ کوششیں کسی خفیہ ہاتھ یا سیاسی حلقوں کی جانب سے نہیں کی جا رہیں بلکہ حیران کن طور پر اپوزیشن کے دو بڑے رہنماؤں کو اکٹھا کرنے کے لئے سول بیورو کریسی سے بعض حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیورو کریٹ متحرک ہیں ،صحافیوں کا پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے احتجاج کسی بڑی تحریک کا نکتہ آغاز ہو سکتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق  سیاسی جماعتوں کی رپورٹنگ سے شہرت حاصل کرنے والے سینئر صحافی جاوید فاروقی نے اپنے یوٹیوب چینل پر تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئےدعویٰ کیا کہ ان دنوں ایک خبر بہت گرم ہے کہ آصف زرداری اور میاں نواز شریف  کے درمیان رابطے کی کوششیں ہو رہی ہیں ،اس کے پیچھے کی وجوہات بڑی اہم ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،ہمارے ایک بہت ہی قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے دمیان رابطہ کروانے کے لئے کوئی سیاسی حلقے متحرک نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ کوئی سیاسی لوگ ہیں بلکہ اپوزیشن کے دونوں بڑے رہنماؤں کے درمیان رابطہ کروانے والے اس ملک کی بیورو کریسی کے بڑے اہم لوگ ہیں جن میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں جو دونوں بڑے لیڈروں کے درمیان رابطہ کروا کے اپوزیشن کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں ۔

جاوید فاروقی کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ سامنے آئی کہ سول بیوروکریسی کے اندرموجودہ حکومت کے حوالے سے عدم اعتماد اور بے چینی پائی جاتی ہے،پنجاب میں ہونےوالی حالیہ انتظامی  تبدیلیوں کےباوجود صوبے میں کوئی استحکام نظر نہیں آ رہا،بزدار حکومت کے تین سال کے دوران پانچ چیف سیکرٹری تبدیل ہوئے ، راؤسردار علی کی شکل میں ساتویں آئی جی پولیس آئے ہیں  ،یہ ایک ایسا انتظامی عدم استحکام ہے جس سے تمام بیوروکریسی ہل کر رہ گئی ہے اور وہاں پر عدم تحفظ پایا جا رہا ہے،جب بیوروکریسی کے اندر عدم تحفظ ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کا نظام نہیں چل سکتا ،اگر حکومت نے اپنی پالیسیز پر عملدرآمد کرنا ہے تو پھر بیورو کریسی کے اوپر انحصار کرنا پڑتا ہے،اگر آپ ان پر اعتماد ہی نہیں کریں گے اور ہر وقت ان پر تلوار ہی لٹکائے رکھیں گے تو ایسی صورت میں بیورو کریسی پرفارمنس نہیں دے سکتی،اب بیورو کریسی میں اندرون خانہ یہ باتیں شروع ہو گئی ہیں کہ اس سٹائل آف گورنس سے کیسے جان چھوٹے گی؟بیورو کریسی کا یہ خیال ہےپاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ٹوٹنے سے حکومت پر پریشر کم ہوا ہے ،اس پریشر کم ہونے کی وجہ سے حکومت منہ زور ہو گئی ہے اور وہ بیوروکریسی کو کچل رہی ہے اور دبا رہی ہے،اس لئے بیوروکریسی کے اندر شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ ایک توانا اور طاقتور اپوزیشن کا برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے،اس لئے بعض حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی جانب سے نواز شریف اور آصف زرداری کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ 

انہوں  نے کہا کہ  پاکستان میں حکومتیں آنے اور جانے کا فیکٹر مقامی سے زیادہ بین الاقوامی ہےاور خاص طور پر ویسٹرن  بارڈر کی صورتحال پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کا پیش خامہ ہوتی ہے،ایک بار پھر حکومت مسائل کا شکار ہو رہی ہے ،ویسٹرن بارڈر خصوصا افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں بڑی اہم ہیں ،پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں خارجہ پالیسی کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں ،اس وقت اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے،اپوزیشن بکھری ہوئی ہے،پی ڈی ایم کے نام سے  بننے والےاپوزیشن نے تین چار ماہ کے اندر ہی حکومت کی چیخیں نکلوا دی تھیں،اس اتحاد نے اپنی طاقت کے جتنے بھی مظاہرے کئے وہ بڑے زبردست اور متاثر کن تھے ،پی ڈی ایم کے ان جلسوں کی وجہ سے حکومت ہل کر رہ گئی تھی لیکن پھر وہ الائنس ٹوٹ گیا اور پیپلز پارٹی اس اتحاد میں سے نکل گئی ،پیپلز پارٹی کے الائنس سے نکلنے کے بعد پی ڈی ایم میں وہ پہلے جیسی جان اور سکت نہیں رہی کہ وہ حکومت کے لئے کوئی پریشانی کا باعث بن سکے لیکن پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا بل اور دوسرا سپریم کورٹ میں تعیناتی کے حوالے سے وکلاء اور صحافیوں نے احتجاج شروع کردیا ہے،اسلام آباد میں صحافیوں نے بڑا مظاہرہ کیا ہے جبکہ وکلاء نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی بڑی تحریک کا نکتہ آغاز ہو سکتاہے جو آگے چل کر حکومت کے لئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

مزید :

قومی -