ہمارے مقبول ترین لیڈر+بیرسٹر بھٹو، نواز شریف اور اب ”حادثاتی“ عمران خان 

ہمارے مقبول ترین لیڈر+بیرسٹر بھٹو، نواز شریف اور اب ”حادثاتی“ عمران خان 
ہمارے مقبول ترین لیڈر+بیرسٹر بھٹو، نواز شریف اور اب ”حادثاتی“ عمران خان 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 عنوان کے اعتبار سے اگر تفصیل اور تاریخ کے حوالوں کے ساتھ لکھنا ہو تو اس کے لئے کئی کالم درکار ہوں گے۔ فی الحال اپنے نئے صحافیوں کی یلغار کے لئے مختصر لکھوں گا۔ اتفاق سے اپنی صحافتی زندگی میں جن لیڈروں کو قریب سے دیکھا۔ ان کے ساتھ تھوڑی بہت ہی نہیں بلکہ کافی مرتبہ گفتگو بھی ہوئی ان میں بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو اور میاں محمد نوازشریف شامل ہیں بلکہ جنرل ضیاء الحق نے جس میڈیا ٹیم کو میاں نوازشریف کو کام سکھانے کے لئے کہا اس ٹیم میں جناب ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم (سیکریٹری اطلاعات) جناب حسین حقانی (مشیر اطلاعات) کے ساتھ یہ خادم بھی شامل تھا۔


شروع کرتا ہوں بیرسٹر بھٹو سے۔ ان کی قابلیت کا تو یہ عالم تھا کہ بیرون ملک بیرسٹری کی ڈگری لے کر آئے تو سندھ (لاڑکانہ) میں پریکٹس یعنی وکالت شروع کی ان کے والد سرشاہ نواز  بڑے زمیندار اور امارت کے اعتبار سے سارا سندھ ان کو جانتا تھا۔ بیرسٹر بھٹو اپنے آبائی حلقہ سے قومی اسمبلی کے رکن چن لئے گئے اور پھر اس وقت کے صدر مملکت فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے انہیں اپنا وفاقی وزیر بھی بنا لیا بلکہ آگے چل کر 1965ء میں وہ ملک کے وزیر خارجہ بھی بن گئے اور جنگ ستمبر میں ساری دنیا اور اقوام متحدہ میں ان کی آواز گونجتی رہی۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ فیلڈ مارشل کے ساتھ ان کے راستے جدا ہو گئے اور انہوں نے 1967ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنالی اور ان کی پارٹی کا روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ (سب کے لئے) اس قدر مقبول ہوا کہ کروڑوں پاکستانی ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے گھروں سے نکل آئے۔ لاہور کا موچی دروازہ ہو یا فیصل آباد کا دھوبی گھاٹ۔ ملتان کا گھنٹہ گھر ہو کہ کہنہ قلعہ کراچی کا بابائے قائد کا مزار ہو یا پشاور کا قصہ خوانی بازار اور قلعہ تربت ہو یا کوئٹہ سب جگہ ان کی تقریر سننے کے لئے لوگ گھنٹوں پہلے سے انتظار میں موجود ہوتے۔ فوجی ڈکٹیٹر کے سامنے اس طرح ڈٹ کر میدان میں کھڑے ہوئے کہ وہ تو گھر چلا گیا۔ جنرل یحییٰ خان آیا تو جنگ ستمبر 1971ء شروع ہو گئی اور ہمارا آدھا پاکستان یعنی مشرقی پاکستان ہم سے کٹ گیا، 95 ہزار کے قریب فوجی سمیت پاکستانیوں کو جنگی قیدی بنا کر بھارت نے اپنی 400 جیلوں میں قید کر دیا۔ بیرسٹر بھٹو نے ایک مدبر اور قابل سیاسی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا اور اپنے جنگی قیدیوں کی وکالت کی، وقت تو لگا لیکن تاریخ پر تاریخ نہیں پڑی بلکہ ان جنگی قیدیوں کو اڑھائی برس کے بعد ہی چھڑا لیا گیا اس وقت بیرسٹر بھٹو پہلے صدر اور پھر ملک کے وزیر اعظم بن چکے تھے۔ اپوزیشن ممبران کی تعداد قومی اسمبلی میں بھی کم تھی اور پاکستان کے بڑی صوبے پنجاب میں تو چند گنتی کے لوگ یعنی علامہ ارشد، رانا پھول خان، تابش الوری جیسے لوگ تھے جن کی تقریروں سے گھنٹوں پنجاب اسمبلی کا کام چلتا تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ جن بڑے زمینداروں، صنعت کاروں، سیٹھوں کے خلاف پیپلزپارٹی بنائی گئی تھی اور ان کے تمام کارنامے، بنک قومی تحویل میں لے کر سرکار ان کو چلا رہی تھی وہاں بیورو کریسی نے ڈیرے ڈال دیئے اور ایسے ڈیرے ڈالے کہ اپوزیشن کو موقع مل گیا،الزام لگایا  بیرسٹر بھٹو پاکستان کو سو برس پیچھے لے گیا ہے۔ ادھر سیٹھ لوگوں نے پارٹی کو چندے دے کر پارٹی میں بھی جگہ بنالی۔ بڑے زمیندار،  ملتان کے قریشی، گیلانی وغیرہ بھی آ گئے اور عوام کی پارٹی کو ایسا گہن لگا کہ بیرسٹر بھٹو کی توتکار اپنی ہی پارٹی کے لوگوں سے شروع ہو گئی۔ تمام دینی جماعتیں بھی مل کر بھٹو کی مخالفت کرنے لگ گئیں اور پھر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آ گیا پیپلزپارٹی شجر ممنوعہ قرار پائی پریس ٹرسٹ کے تمام اخبار قدغن میں آ گئے یا کئی ایک کو بند کر دیا گیا بڑے صحافی جیلوں میں چلے گئے۔ فوجی عدالتوں نے درجنوں کو قید اور کوڑوں کی سزا سنائی اور پھر پاکستانی شہریوں کی آنکھوں نے پہلی بار دیکھا کہ سر عام کوڑوں کی سزا کیسے دی جاتی ہے اور کوڑے کیسے مارے جاتے ہیں۔


بیرسٹر بھٹو کو ایک مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی ا ور یہ سزا کسی فوجی حکومت نے نہیں بلکہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججوں نے سنائی اور یہ پاکستان کا ایک واحد قتل کا مقدمہ تھا جس میں ملزم بیرسٹر بھٹو نے نہ تو کسی کو گولی کا نشانہ بنایا تھا نہ ہی کسی خنجر سے مارا تھا۔ نہ ہی ہاتھ پاؤں باندھ کر کسی کا سر کاٹا تھا اور نہ ہی گنڈاسہ مارا تھا پھر بھی سخت ترین سزا سنا دی گئی اور اس پر عمل درآمد بھی کرا دیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق نے پہلے غیر جماعتی انتخابات کرائے پھر ایسی مجلس شوریٰ بنائی جو آگے چل کر سینٹ آف پاکستان بن گئی۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ جیسی جمہوریت، جمہوریت الاپنے والی پارٹیوں کے لوگ مثلاً یوسف رضا گیلانی۔ خواجہ محمد صفدر۔ نواب آف کالا باغ  کے بیٹے ملک اللہ یار خان، غلام حیدر وائیں، سید مہدی نسیم بھی نامزدگیاں قبول کر کے (وہ بھی فوج کی طرف سے) مجلس شوریٰ میں آ گئے بلکہ خواجہ صفدر تو مجلس شوریٰ کے سربراہ بھی بن گئے۔
میاں محمد نوازشریف نے 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔ کامیاب ہوئے، وزیر اعظم بنے، اس وقت وہ بیرسٹر بھٹو کے بعد مقبول ترین لیڈر تھے۔ حتیٰ کہ جب ایم کیو ایم کے الطاف بھائی نے 1990ء کے الیکشن کے آس پاس انہیں کراچی بلایا تو صرف کراچی ایئرپورٹ سے بابائے قائد کے مزار تک ان کا پیدل جلوس کئی گھنٹوں تک چل کر مزار قائد پہنچا یہی صورت سرگودھا، کورٹ غلام محمد آباد سندھ، سرگودھا، ملتان، فیصل آباد، ہزارہ، سوال اور چترال کی نہیں بلکہ لاہور تو ان کا گڑھ تھا۔ وہ لاہور جہاں بھٹو کے شیر محمد بھٹی نے،شیر پنجاب مصطفےٰ کھر کو محض پی پی پی کی ٹکٹ پر ہرایا تھا اب اس لاہور پر نوازشریف کی حکمرانی تھی۔


عمران خان سیاست میں آئے تو ان کی قابلیت سے کسی پاکستانی کو انکار نہیں تھا اگر یورپ کی یونیورسٹی میں 104 اہم پی ایچ ڈی لوگوں کے مقابلے میں انہیں یونیورسٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا تو پھر کسی کو قابلیت میں شک نہیں ہو سکتا  لیکن لاپرواہ اتنے کہ خدا کی پناہ۔ اتنا بھی نہ سوچا کہ عوام کے بغیر اگر کوئی انہیں وزیر اعظم بنائے گایعنی کوئی بھی حکومتی ادارہ تو وہ اپنی بے ساکھیاں واپس بھی کھینچ سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام نے یہ صورت حال پسند نہیں کی اور آج حادثاً عمران خان مقبول عام لیڈر ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اب اپنی اپنے بعد کی ٹیم کا اعلان کریں تاکہ عوام انہیں بھی سلام کریں۔

مزید :

رائے -کالم -