کیا واقعی کچھ بہتر ہونے والا ہے؟

 کیا واقعی کچھ بہتر ہونے والا ہے؟
 کیا واقعی کچھ بہتر ہونے والا ہے؟

  

ملک آسمانی آفت کی وجہ سے مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے تو ملکی سیاست کا اس سے بھی برا حال ہے حتیٰ کہ ہم جیسے خوش امید لوگ بھی مایوسی کا شکار ہونے لگے تاہم کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ جب تاریکی زیادہ بڑھ جائے اور دور سے کسی سرنگ کے کنارے روشنی کا نقطہ سا نظر آئے تو حوصلہ پھر سے بڑھ جاتا ہے اور ایسے ہی کچھ پچھلے دو دنوں سے ہوا اور مجھ جیسے پھر سے حوصلہ پکڑنے لگے ہیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور اس سے پہلے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے انٹرویوز نے نئے راستے کھول دیئے اور مجھ جیسے بنیادی طور پر رپورٹر کو موقع مل گیا کہ غور کرے کہ آخر کار کیا ہوا کہ امید پیدا ہو گئی اور ہر طرف سے بہتر توقعات کا اظہار ہونے لگا اگرچہ تا حال باتیں ہیں عمل کی نوبت نہیں آئی لیکن اشارے بہتر نظر آ رہے ہیں اس میں کپتان کے رویئے میں تبدیلی کا عنصر بھی شامل کر لیا گیا کہ وہ ضد اور انا ترک کر کے جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہو گئے اور سوالات کے جواب بھی دیئے، ان کے خلاف فاضل ایڈیشنل جج خاتون کو دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہے اور وہ ضمانت پر ہیں۔ بہر حال درمیانی راستہ یہ نکالا گیا کہ یہ تفتیش ایس پی کے دفتر میں ہوئی تھانہ مارگلہ میں نہیں یوں محترم بابر اعوان کا خدشہ بھی دور ہو گیا کہ انہوں نے عدالت کے روبرو بہت ”خطرناک“ قسم کا موقف اختیار کیا تھا کہ تھانہ مارگلہ میں کپتان کی جان بھی لی جا سکتی ہے پولیس والے اپنے دو اہلکار ”شہید“ کرا کے ان کو پار کر سکتے ہیں۔ اللہ کپتان کی عمر دراز کرے معلوم نہیں کہ بابر اعوان سمیت بعض دوسرے راہنما کپتان کو شہادت کے رتبہ پر فائز کرنے کے کیوں خواہش مند ہیں۔ حالانکہ وہ نہ صرف دہری حفاظت میں ہیں بلکہ شہرت کی  بلندیوں پر بھی محسوس کئے جا رہے ہیں اور پھر ان کے سر پر روحانیت کا سایہ بھی تو ہے، بابر اعوان اور ہمنوا حضرات کو اللہ کا خوف ہونا چاہئے اور خدشے کی بجائے دعائے خیر مانگنا چاہئے چہ جائیکہ وہ موت مانگتے رہیں۔ جو کسی کے کہنے پر نہیں اللہ کے حکم سے اپنے وقت پر آتی ہے۔

بات اچھی امید سے چلی تھی تو میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اب کسی معتبر مقام سے ہی یہ بات چلی کہ فریقین کو باہم بٹھا کر کسی فارمولے پر آمادہ کیا جائے اور یہی کچھ صدر محترم نے کیا ہے، ان کی یہ بات حقیقت ہے کہ میز پر بیٹھیں گے تو بات بنے گی اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نئے انتخابات پر رضا مندی بہتر حل ہے۔ یہ کہنا کچھ مشکل نہیں لیکن عمل میں دشواریاں ہیں عام انتخابات پر پی ڈی ایم والوں کو اعتراض نہیں تاہم حالات حاضرہ میں وہ پانچ سال میں سے باقی ماندہ مدت پوری کر کے وقت پر انتخابات کے خواہش مند ہیں کہ اس وقت جو معاشی حالات ہیں ان کی وجہ سے جلد عام انتخابات ان کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہیں کہ اس خراب حالت کا بوجھ انہی کو اٹھانا پڑے گا کہ کپتان تو ”امریکی سازش“ کا شکار ہو کر سرخرو ہو گئے اور بقول مفتاح اسماعیل سرنگیں بچھا کر چلے گئے اور بھگتنا ان کو پڑا ہے۔ بہر حال میں تو یہی کہوں گا کہ اب اگر سیاسی حالات کی بہتری کے لئے قدم اٹھا ہی لیا گیا ہے تو پھر ہچکچاہٹ کیسی یہ سب جلد ہونا چاہئے۔

اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ان کی وجہ سے بھی عام انتخابات جلد ممکن نہیں بلکہ ایسے مطالبے کو مناسب نہیں جانا جائے گا کہ ملک کا بیشتر حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور عالمی ایجنسی کے اندازے کے مطابق متاثرین تین ماہ سے قبل اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف نہیں جا سکیں گے۔ ابھی تو برساتی پانی بھی نہیں اترا اور یہ اترتے اترتے وقت لے گا جس کے بعد برباد اور گرے گھروں میں رہن سہن کیسے ممکن ہوگا اس لئے اب تو ضرورت یہ ہے کہ سب باہم مل کر اتفاق سے اس پریشانی کا اتنا سد باب تو کر لیں کہ پولنگ سٹیشن بن سکیں اور لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں اس لئے کپتان کو جلدی نہیں کرنا چاہئے اور صدر مملکت ہی کی خواہش پورا کر کے مذاکرات کی میز پر آ جانا چاہئے کہ مسائل کا حل تو اسی طرح نکلے گا کہ بات چیت ہو اگر روٹھے ہی رہے تو پھر حل کیسے اور انتخابات کیسے ہوں گے۔

اس سارے سلسلے میں کپتان کو مطمئن ہونا چاہئے بقول ان کے ان کو جتنا دبایا جائے گا اتنا ہی ان کا بھلا ہوگا وہ اتنے پر یقین ہیں تو ان کو اعتماد ہونا چاہئے کہ وقت تھوڑا اور گزر جائے تو ان کی مقبولیت میں کمی نہیں ہو گی۔ جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے تو عمران خان جس مرحلے پر پہنچ چکے وہاں ان کو ہرا ہی ہرا نظر آئے گا اس لئے ان کو کسی بڑی یقین دہانی کے بغیر میز پر لانا مشکل ترین عمل ہے دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر عارف علوی کب کامیاب ہوتے ہیں یا پھر صلح کاروں کی اس کوشش کو بھی ناکامی ہوتی ہے۔

قارئین! میں نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ خان محترم امریکہ کو جو مرضی کہتے رہیں امریکہ ان کے خلاف نہیں کہ اگر یہ حقیقت ہوتی تو آئی ایم ایف والے موجودہ حکومت کے لئے آسانیاں پیدا کرتے نہ کہ مشکلات میں اضافہ،یہ مالیاتی فنڈ بھی امریکہ ہی کا مرہون منت ہے جس کے اکثریتی حصص ہیں اور امریکہ اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تب حضرات نے اعتراض کیا لیکن اب وہی دوست یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ بات درست تھی۔ بہر حال دیر آید درست آید اگر کپتان نے ان سونگ کرا کے ہی مخالفین کو خوفزدہ کرنا تھا تو وہ کامیاب ہیں لیکن حال ہی میں ان کی طرف سے جو  رویہ اختیار کیا گیا وہ ایسا ہے کہ ان کے بیانیئے کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اب کوئی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔

عمران خان کرکٹ کے دور میں بھی اپنے فائدے کو دیکھتے تھے اور انا پرستی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت کیری پیکر سرکس ہے کہ خان صاحب ماجد خان کو بھی ساتھ لے گئے اور ایک اس ”جنگ“ کا حصہ بن گئے جو ایک امیر آدمی اور آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کی تھی انہوں نے کرکٹ بورڈ سے اجازت بھی نہیں لی اور چلے گئے اور پھر واپس آکر اسی ٹیم کا حصہ بننے کے لئے بورڈ اور اس وقت بورڈ کے چیئرمین عبدالحفیظ کار دار پر بے بنیاد الزام لگاتے رہے اور پھر یہ خود تو سفارش کرا کے ٹیم میں واپس آئے، عبدالحفیظ کاردار نے اپنے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت تو مان لی۔ تاہم خود مستعفی ہو کر گھر چلے گئے تھے۔ اب بھی اگر ان کی تمام تر سیاست پر غور کیا جائے تو ان کی ہر حکمت علمی اپنے مفاد ہی کے لئے ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے آرمی چیف کی تقرری کو بھی عوامی موضوع بنا دیا۔ کامران خان سے انٹرویو میں اس حوالے سے توسیع کی بات کی اور اگلے ہی روز اس کی اپنے مفاد کے حوالے سے وضاحت بھی کر دی۔میں ہر صورت مفاہمت کا قائل ہوں، بہت سی ایسی باتیں جانتا ہوں جو لکھ نہیں سکتا تاہم جس انداز سے محترم خان نے میر جعفر، میر صادق اور مسٹر ایکس وائی زیڈ کے نام دہرائے وہ ہمارے اپنے بہت سے دوستوں کو بھی خوش کر گئے تھے لیکن عملی طور پر یہ بالکل مناسب نہیں ہیں۔ اور اب تو وہ بتدریج  نرمی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس لئے بھی توقع ہے کہ بات بن جائے گی اور اللہ بہتر کرے گا۔ کیونکہ وہی ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -