حج2022ء کیسا رہا؟ (2)

حج2022ء کیسا رہا؟ (2)
حج2022ء کیسا رہا؟ (2)

  

حج2022ء کیسا رہا کی پہلی قسط پر ملاجلا ردعمل آیا،زیادہ قارئین نے میرے کالم کو حقائق کے قریب قرار دیا ہے،سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے پری حج اپریشن کے آغاز سے بہت سے خدشات ختم ہو گئے جب مدینہ اور جدہ ایئر پورٹ پر سعودی حکام نے شاندار استقبال کیا،کورونا اور دیگر ٹیسٹوں کے حوالے سے سعودی ذمہ داران کے نرم رویے اور بے یقینی کی کیفیت کو یکسر ختم کر دیا۔سرکاری سکیم کے عازمین کی پہلے پندرہ روز کی فلائیٹس پاکستان کے تمام ایئر پورٹ سے مدینہ جاتی ہیں اس کی بنیادی وجہ مدینہ کے خالی ہوٹل سرکار کو سستے مل جاتے ہیں۔ حکومت سالہا سال سے بھرپور انداز میں اس کا فائدہ اٹھاتی ہے، روڈ ٹو مکہ منصوبے کا فائدہ بھی اس سال سرکاری عازمین کو ہوا۔ وزارت مذہبی امور کی عازمین حج کی تعداد کم ہونے کا فائدہ اٹھایا اور عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کے لئے بہترین منصوبہ بندی کرتے ہوئے فیصل آباد، سیالکوٹ اور ملتان کو روڈ ٹو مکہ منصوبے میں شامل کیا اور ان کو براہِ راست اسلام آباد سے روانہ کیا اسی طرح کوئٹہ کے عازمین کراچی سے روانہ ہوئے،پی آئی اے، سعودی ایئر لائنز کو زیاد حصہ ملا۔ایئر بلیو اور سرین ایئر کو بھی حج اپرشن میں شامل کیا گیا، سرکاری عازمین حج اپریشن کی تاخیر کی وجہ سے سب سے زیادہ جس چیز کی کمی رہی وہ تھی عازمین حج  کی تربیت۔ رہی حج 2022ء میں سرکار عازمین حج  بالعموم اور پرائیویٹ سکیم کے عازمین بالخصوص ٹریننگ کے مراحل ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے تحت مکمل کرتے نظر آئے،حکومت کے مہنگے پیکیج ہونے کے باوجود اس سال عازمین کو رہنمائے حج کتاب سمیت پمفلٹ نہ ہونے کے برابر دیئے گئے

،علامہ محمد حسین اکبر صاحب کی  ہزاروں کی تعداد میں 2019ء میں پرنٹ کرائی گئی کتاب صرف اس لیے تقسیم نہیں کی گئی کہ اس کے سرورق پر سابقہ وفاقی وزیر مذہبی امور کا پیغام ہونے کی وجہ سے حاجیوں کو کتاب سے محروم رکھا گیا۔علامہ محمد حسین اکبر کا احتجاج اور توجہ بروقت تھی،وفاقی سیکرٹری کواتنے بڑے نقصان اور کتاب تقسیم نہ کرنے کی تحقیقات کرنا چاہیے مدینہ منورہ میں سرکاری عازمین حج کو بہترین ہوٹلز فراہم کیے گئے، کھانے کے حوالے سے شکایات سامنے آئیں جن کو بروقت دور کیا گیا۔ پرائیویٹ سکیم کے عازمین حج کی روانگی احسن انداز میں شروع ہوئی اس سال بھی سعودی ایئر لائنز اور پی آئی اے کی مانپلی کی وجہ سے سرکاری اور پرائیویٹ عازمین کے حج کرایوں میں بڑا فرق نظر آیا جس کی وجہ سے پرائیویٹ حج مہنگا ہوا،پرائیویٹ سکیم کو روانگی سے پہلے جس چیز کا سامنا رہا اور حج آرگنائزر کی نیندیں حرام ہوئیں اور مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا وہ تھا سعودی بنکوں میں رقوم کی منتقلی رہی۔ موسسہ جنوب ایشیاء کی طرف سے مکاتب ختم کر کے سارے نظام کو مرکزیت دینے سے خوش حج آرگنائزر کو اندازہ ہی نہیں تھا ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ 2019ء کے مقابلے میں مکاتب کی فیس دو گنا کر دی گئی اور پھر موسسہ جنوب ایشیاء کی طرف سے ہر روز رقوم نہ ملنے پر مکاتب کینسل کرنے کی دھمکیاں مزید اضطراب پیدا کرتی رہیں رہی سہی کسر ڈالراور ریال کی اڑان نے پوری کر دی۔بنکوں کی مانپلی اور من مرضی کا ریٹس لگانے کے عمل نے پرائیویٹ کمپنیوں کو لاکھوں روپے سے محروم کیا اللہ اللہ کر کے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا پری حج اپریشن مکمل ہوا تو سرکاری عازمین حج کے لئے تو کوئی مانیٹرنگ کا نظام نہ تھا البتہ پرائیویٹ سکیم کی مانیٹرنگ کے لئے ایسے ناتجربہ کار افراد کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا جو وزارت کے اہلکار کم اور پولیس کے انسپکٹر زیادہ لگتے تھے۔ حج آرگنائزر نے تحریری طور پر مجھے آگاہ کیا ہے مانیٹرنگ کے نام پر دھونس، اور بلیک میل کرنے کا رویہ ایسا لگ رہا تھا جیسے انہیں کہا گیا ہو کہ آپ نے کمپنی کے مالک یا ڈائریکٹر کو حاجیوں کے سامنے ذلیل کرنا ہے، مانیٹرنگ کی طرف سے فراہم کئے گئے پرفارمہ کے باوجود حاجیوں کو بار بار شکایات درج کرانے کی ترغیب نے حج آرگنائزر کو پریشان کیا اس کے لیے میں اپنے تجاویز کے کالم میں عملی رہنمائی کروں گا جس کا فائدہ بھی ہو گا اور اثر بھی۔

حج میں سب سے مشکل مرحلہ اور اصل حج پانچ دن کو قرار دیا جاتا ہے۔پرائیویٹ سکیم کے عازمین کو منیٰ میں منتقلی میں مشکلات کا سامنا رہا۔ موسسہ جنوب ایشیاء کا نظام موثر نہیں رہا اور  نقابد نے بروقت بسیں فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے عازمین حج کے ساتھ حج آرگنائزر کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ہوپ کے چیئرمین مسعود شنواری اور چیئرمین پنجاب امتیاز الرحمن چودھری کی بروقت مداخلت کی وجہ سے بسوں کی فراہمی ممکن ہو سکی،منیٰ کے خیموں میں بجلی اور پانی نہ ہونے کی شکایات 8ذوالحج کو آئیں سرکاری حج سکیم کا پری حج اپریشن کامیاب رہا، مگر مناسک حج کے پانچ دنوں کی تیاری میں کمی نظر آئی۔ مکاتب نے دو گنا فیس لینے کے باوجود2019ء سے زیادہ سہولیات فراہم نہیں کیں جس سے حج آرگنائزر کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔سرکاری عازمین حج منیٰ پہنچے بیشتر ٹینٹوں میں پانی اور اے سی (کولر) اور بجلی کا مسئلہ رہا اور بیشتر مکاتب میں کھانا نہ ملنے کی شکایات سامنے آئیں،جوائنٹ سیکرٹری حج عثمان سروس علوی ڈائریکٹر حج ساجد منظور اسدی کا کردار بڑا اہم رہا، میں نے عملی طور پر ان کو آٹھ سے دس ذوالحج تک دوڑتے ہی دیکھا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور اور سیکرٹری آفتاب دورانی بھی دن رات سارے عمل کو مانیٹر کرتے رہے جس کی وجہ سے عارضی طور پر پیدا ہونے والے مسائل پر بروقت قابو پا لیا گیا۔مناسک حج کی تکمیل کے بعد سرکاری سکیم کے حجاج کی مدینہ منتقلی اور مدینہ سے مکہ پہنچ کر حج کرنے والوں کی مکہ کی عمارتوں میں منتقلی احسن انداز میں ہوئی،اس کے بعد حجاج کرام کے پوسٹ حج پروگرام کا آغاز ہوا جسے وقت پر مکمل کر لیا گیا۔ سیزنل سٹاف،حج مشن کے عملے اور بڑے آفیسر کی ذمہ داریوں اور وزارت مذہبی امور کے نائب قاصد کی بڑی تعداد میں حج ڈیوٹی کا عمل بظاہر تو ٹھیک نظر آتا ہے مگر عملاً اگر وزارت مذہبی امور اخراجات کم کرنا چاہتی تو کر سکتی تھی، سرکاری حجاج کرام کی عمارتوں کے حصول کا سارا ریکارڈ مجھے ملا ہے کچھ عمارتیں حج مشن نے حاصل کی اور کچھ وفاقی وزیر مذہبی امور نے اپنی نگرانی میں حاصل کی، مجموعی طور پر عمارتیں اچھی تھیں مگر جرول سے پیدل آنا مشکل تھا، شٹل بس کا نظام موثر رہا۔ حج2022ء کے حوالے سے سب سے زیادہ خدشات اس لیے تھے کہ وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری سمیت جوائنٹ سیکرٹری،ایڈیشنل سیکرٹری اور وفاقی وزیر سب نئے تھے ان کا پہلا اپریشن تھا اسی طرح مکہ کے ڈی جی او ڈائریکٹر 2019ء سے سعودیہ میں تعینات ہیں ان کا بھی پہلا حج تھا۔جوئنٹ سیکرٹری حج عثمان سروش علوی نے کم وقت ہونے کے باوجود مشکل حج اپریشن کا ٹاسک احسن انداز میں مکمل کیا۔ ہوپ اور وزارت کے ذمہ داران کی کوآرڈی نیشن بہتر رہی بعض معاملات میں کمی نظر آئی ضد اور ہٹ دھرمی کی بجائے مل کر سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے حج اپریشن کی تکمیل خوش آئند ہے۔ حج2022ء میں جو کمی رہی اس کو2023ء میں دور ہونا چاہیے اپنے اگلے اور آخری کالم میں سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے حج کو مثالی بنانے کے لیے تجاویز دوں گا۔     (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -