سندھ حکومت اعلانات کی بجائے عملی اقدامات کرے،محمد حسین محنتی

  سندھ حکومت اعلانات کی بجائے عملی اقدامات کرے،محمد حسین محنتی

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی سندھ وسابق ایم این اے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد سندھ حکومت کی نااہلی سے صوبے میں جو سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں اب تک بہتری نہیں ہوئی ہے حالانکہ حکومت کو پوری دنیا سے متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر امداد مل رہی ہے۔ ٹرین کئی دنوں سے بند جبکہ روڈراستوں کانظام بھی درہم برہم ہے۔بارشوں کو دوہفتے گذرگئے مگرتاحال شہروں سے پانی نہیں نکالا جاسکا ہے اس لیے سندھ حکومت محض اعلانات سے آگے بڑہ کر اب کچھ عملی اقدامات بھی کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوابشاہ میں سانگھڑ روڈ پر قائم الخدمت کچن کے دورہ کے موقع پر کیا،جہاں انہیں الخدمت فاو نڈیشن کے صدر محمد سلمان رو ف اور جماعت اسلامی کے ضلعی امیر سرور احمد قریشی نے بتایا کہ الخدمت نے بارش زدگان کے لیے پہلے دن سے ہی امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا جس میں لوگوں کو اور ان کے سامان کو ریسکیو کرنا تھا بعد ازاں انہیں ترپال، خیمے اور خشک راشن دیا گیا اب 16 دنوں سے تقریبا 2000 سے 2500 افراد تک پکا پکایا کھانا پہنچایا جا رہا ہے جبکہ میڈیکل کیمپوں کے ذریعے ان کا فری معائنہ اور اور ادویات فراہم کرنے کے علاو ہ مچھروں کے خاتمے کے لیے اسپرے بھی کیا جا رہا ہے۔ امیر صوبہ محمد حسین محنتی نے کاکہنا تھاکہ جن لوگوں سے اللہ تعالی راضی ہوتے ہیں وہ انہیں اپنے بندوں کی مدد کے لیے منتخب کر لیتا ہے آپ خوش قسمت ہیں۔ حکومت کی طرف سے متاثرہ افراد کی مدد سے ابھی تک ان کی حالت تبدیل نہیں ہوئی بعض مقامات سے سرکاری گوداموں یا امدادی ٹرکوں کی لوٹنے کی خبریں بھی میڈیا میں ٓرہی ہیں۔ جماعت اسلامی آخری فرد کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔حکومت شہرودیہات اورفصلوں سے پانی نکالے تا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اورمعمول کی زندگی بحال ہوسکے۔صوبائی امیرنے اس مشکل گھڑی میں سیلاب زدگان میں الخدمت رضاکاروں کے خدمت انسانیت والے جذبے کی تحسین کی۔ اس موقع پر شہر کے ممتاز تاجر و سماجی رہنما چوہدری عبد القیوم آرائیں نے بھی الخدمت کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ مخیر حضرات ان کی دیانتداری پر بھروسہ کرتے ہیں جماعت اسلامی کے ضلعی جنرل سیکریٹری سردار احمد آرائیں اور الخدمت فاو نڈیشن کے صوبائی رہنما کنور راشد مکرم بھی موجودتھے۔

مزید :

صفحہ اول -