بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کی خواتین اساتذہ تنخواہوں سے محروم

  بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کی خواتین اساتذہ تنخواہوں سے محروم

  

       چارسدہ‘ جمرود نوشہرہ (نمائندگان پاکستان)نوشہرہ میں بیسک ایجوکیشن کیمونٹی سکولز کی درجنوں خواتین اساتذہ 15ماہ سے تنخواہوں سے محروم، ان اساتذہ کے گھروں کے چولہے تھنڈے پڑگئے، کئی کے گھروں میں فاقے، اساتذہ نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کو ایلمینٹری ایجوکیشن فاونڈیشن کی جانب سے ذہنی آزیت قرار دیا ہے،نوشہرہ  میں بیسک ایجوکیشن ایجوکیشن کیمونٹی سکولز   کی 50سے زائد خواتین اساتذہ نے ایلمنٹری ایجوکیشن  فاونڈیشن کی جانب سے 15ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف نوشہرہ پریس کلب کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، مطاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر ایلمنٹری ایجوکیشن فاونڈیشن حکام اور ظلم و بربریت کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم 1995سے لیکر 2021تک وفاق کے زیر سایہ کام کر رہے تھے لیکن وفاق نے بغیر کسی منتقلی کے صوبے کے حوالے کرتے ہوئے ایلمنٹری ایجوکیشن فاونڈیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور ایلمنٹری ایجوکیشن فاونڈیشن نے کئی بار تصدیق، تعلیمی اسناد کی چھان بین کے باوجود بھی ہماری تنخواہیں جاری نہ کرکے ہمارا معاشی قتل کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیسا پاکستان ہے جہاں معلم کو اتنی اذیت دی جا رہی ہے، انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان اور دیگر وفاقی و صوبائی اعلیٰ حکام سے اپنی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر آئندہ سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دے دی ہے۔ جمرود (نمائندہ خصوصی) آل بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز ضلع خیبر کو 15ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہے، تنخواہیں دے کر مستقل کیا جائے۔ پریس کانفرنس  جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز ضلع خیبر کے اساتذہ محمد عمر، حاجی گل، عمران،درویش، خانزیب اور عاصم نے دیگر ساتھیوں سمیت کہا ہے کہ گزشتہ 15ماہ سے ہمیں تنخواہیں نہیں ملی ہے لیکن اسکے باوجود آج تک ہم بچوں کی روشن مستقبل کی خاطر انکو پڑھارہے ہیں۔ہمارے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں اور اس مہنگائی کے دور میں اپنے حقوق کے حصول کیلئے دربدرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضلع خیبر میں کل 86کمیونٹی سکولز ہیں جسمیں 86اساتذہ ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ان سکولوں میں تقربیا چار ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ فاٹا سیکرٹریٹ کے ملازمین کو مستقل کیا جاچکا ہے اسکے علاوہ دیگر کئی محکموں کے غیر مستقل ملازمین کو مستقل کیا جاچکا ہے لیکن ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسی سلوک کیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں 15ماہ سے بند تنخواہیں جلد از جلد ریلیز کی جائے، باقی پراجیکٹس کے طرز پر ہمیں مستقل کیا جائے،بلا جواز ڈیوٹیوں سے برطرف اساتذہ یا فاصلے کی بنیاد پر برطرف اساتذہ کو فوری بحال کیا جائے،تمام بچوں کو تعلیمی کتب اور اساتذہ کو ٹیچنگ لرننگ میٹریل فراہم کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات نہیں مانے گئے تو صوبائی اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -