یونیورسٹی ٹاؤن میں تعلیمی اداروں کی بندش ناانصافی ہے‘ ہوپ

     یونیورسٹی ٹاؤن میں تعلیمی اداروں کی بندش ناانصافی ہے‘ ہوپ

  

پشاور (سٹی رپورٹر) پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی تنظیم ہوپ کے صدر عقیل رزاق نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کی آڑ میں یونیورسٹی ٹاون پشاور میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ واپس لیکر بچوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے،تعلیمی اداروں کی اچانک بندش سے تقریبا 25ہزار بچوں کا مستقبل داو پر لگ گیا ہے۔ پشاور پریس کلب سیل شدہ تعلیمی اداروں کے مالکان، اساتذہ اور بچوں کے والدین کے ہمراہ پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوپ کے صدر نے کہا پشاور کی انتظامیہ نے اتوار کے روز بغیر کسی پیشگی اطلاع کے یونیورسٹی ٹاون پشاور میں قائم 50سے زائد تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ مجموعی طور 400کاروباری سرگرمیوں کو سیل کردیا ہے، جن میں ہسپتال،گیسٹ ہاوسز، کلینکس و دیگر ادارے شامل ہیں، اس فیصلے سے نہ صرف بچوں کا مستقبل داو پر لگ گیا ہے، بلکہ ان تعلیمی و دیگر ادارون سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار بھی داو پر لگی ہیں، عقیل رزاق نے کہا کہ انتظامیہ کا یہ موقف کہ ٹاون کی حدود میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی ہے،اور ہم عدالتی حکم پر یہ ادارے سیل کرچکے ہیں،حقائق کے برعکس ہے، حقیقت یہ ہے عرصہ دس سال سی ہم حکومت سے ایجوکیشن سٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مناسب جگہ پر اراضی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔عقیل رزاق نے مزید کہا کہ ہوپ کے پلیٹ فارم پر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ا نتظامیہ کے نامناسب ایکشن کے خلاف تمام دستیاب فورمز پر اپنا موقف پہنچائینگے،اور عدالتی محاذ پر بھی اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرینگے۔،انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر اج ہم نے بھرپور احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ملک واجدکی اس یقین دہانی پر کہ وہ ہمارا موقف وزیر اعلی خیبر پختونخو اتک پہنچائینگے، ہم نے اج کا احتجاج موخر کردیا ہے، لیکن اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو پورے صوبے میں تمام تعلیمی ادارے بند کر کے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرینگے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نجی تعلیمی ادارے کے مالک سید میر شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں تعلیمی اداروں کی بندش افسوسناک ہے، تعلیم عام کرنا تحریک انصاف کا منشور ہے لیکن انتظامیہ تحریک انصاف کے وژن کے خلاف کام کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم میں سرمایہ لگانے والوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جائیگا تو اس ملک میں کون سرمایہ کاری کرنے آئیگا۔پریس کانفرنس میں تعلیمی اداروں کے مالکان کے علاوہ ڈاکٹروں، گیسٹ  ہاوسز کے مالکان اور دیگر کاروباری افرادبھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -