ٹیسلا کی گاڑی لاک، کینیڈین شخص کو لاکھوں روپے ادا کرنا پڑگئے

ٹیسلا کی گاڑی لاک، کینیڈین شخص کو لاکھوں روپے ادا کرنا پڑگئے
ٹیسلا کی گاڑی لاک، کینیڈین شخص کو لاکھوں روپے ادا کرنا پڑگئے
سورس: Wikimedia Commons

  

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی الیکٹرک کار ساز کمپنی ٹیسلا کی گاڑیوں سے بہت سے لوگ عاجز آئے ہوئے ہیں اور آئے دن ایسے واقعات سناتے رہتے ہیں کہ آدمی دنگ رہ جائے۔ کچھ عرصہ قبل ایک شخص تو اپنی ٹیسلا کار سے ایسا تنگ آیا تھا کہ اس نے ویرانے میں لیجا کر اس کے ساتھ ڈائنامائٹ (بارودی مواد) باندھ کر گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا تھا اور اس کی ویڈیو یوٹیوب پر پوسٹ کر دی تھی۔اب کینیڈا سے ایک شخص نے اپنی ٹیسلا گاڑی کی ایسی شکایت سنا دی ہے کہ لوگ اس گاڑی کو خریدنے سے ہی تائب ہو جائیں۔

فوکس نیوز کے مطابق میریو زیلایا نامی اس شخص نے اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ اس کی ٹیسلا گاڑی کا بیٹری پیک ناکارہ ہو گیا جس پر گاڑی ہی لاک ہو گئی اور کمپنی نے کہہ دیا کہ ”جب تک میریو 26ہزار ڈالر (تقریباً 61لاکھ 52ہزار روپے) مالیت کا نیا بیٹری پیک نہیں ڈلوائے گا، گاڑی ’ان لاک‘ نہیں کی جائے گی۔“

میریو زیلایا کا کہنا تھا کہ ”گاڑی خریدنے کے ایک سال بعد ہی اس میں خرابی آ گئی۔ اس کے ایئرکنڈیشنگ سسٹم سے مائع مواد نکل ہر بیٹری پر گرنا شروع ہو گیا تھا۔ اس پر بھی ٹیسلا کمپنی کی طرف سے میرے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا گیا۔ میں نے ایک اور شخص،جس کے پاس ٹیسلا گاڑی تھی، سے بات کی تو اس نے بتایا کہ اس کی گاڑی میں بھی یہی خرابی ہے۔“

ٹیسلا کی طرف سے ہمیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بیٹری پیک پر یہ مائع مواد کیوں گرنا شروع ہوا اور بیٹری پیک کیوں ناکارہ ہوا۔ الٹا انہوں نے ہمیں 26ہزار ڈالر کا نیا بیٹری پیک ڈلوانے پر مجبور کر دیا اور تب جا کر انہوں نے گاڑی ان لاک کی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ناروے میں ٹیسلا گاڑیوں کے مالکان کے ایک گروپ نے اسی نوعیت کے تکنیکی مسائل کی وجہ سے کمپنی کے خلاف بھوک ہڑتال بھی کر دی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -