صبح کے وقت دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ، لیکن کیوں؟ بھارتی ڈاکٹر نے پراسرار سوال کا جواب دے دیا

صبح کے وقت دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ، لیکن کیوں؟ بھارتی ڈاکٹر نے ...
صبح کے وقت دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ، لیکن کیوں؟ بھارتی ڈاکٹر نے پراسرار سوال کا جواب دے دیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کو ہارٹ اٹیک زیادہ تر صبح کے وقت آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ بھارت کے ایک ماہر ڈاکٹر نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق چیئرمین (فورٹیز ہارٹ اینڈ ویسکیولر انسٹیٹیوٹ ) فورٹیز میموریل ریسرچ سنٹر گڑگاﺅں ڈاکٹر ٹی ایس کلیر نے کہا ہے کہ اس کی وجہ جسم میں ہارمونز کا اخراج ہے۔ 

ڈاکٹر ٹی ایس کلیر نے بتایا کہ علی الصبح (4بجے کے لگ بھگ) ہمارے جسم میں ’سائٹوکینین‘ (Cytokinin)نامی ہارمون پیدا ہوتا ہے جودل کی دھڑکن میں غیرمعمولی اضافے کا سبب بنتا ہے۔ جو شخص پہلے سے دل کے عارضے میں مبتلا ہو، اس کا دل یہ پریشر برداشت نہیں کر پاتا اور فیل ہو جاتا ہے۔ 

ڈاکٹر ٹی ایس کلیر کاکہنا تھا کہ امریکہ کے بریگھم اینڈ ویمنز ہسپتال اور اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک تحقیق میں اس کا ذمہ دار ہمارے باڈی کلاک کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ہمارے باڈی کلاک کی وجہ سے دوسرے اوقات میں ہمارا جسم چوکنا رہتا ہے تاہم رات کے وقت ہم سوتے ہیں اور ہمارا جسم تمام تر توانائی صرف کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ہمارے جسم میں مختلف ہارمونز پیدا ہوتے ہیں۔یہ عمل پچھلی رات یا علی الصبح وقوع پذیر ہوتا ہے اور بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک آنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -