روسی صدر پر قاتلانہ حملہ، پیوٹن کے زیر استعمال گاڑی کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

روسی صدر پر قاتلانہ حملہ، پیوٹن کے زیر استعمال گاڑی کی تفصیلات بھی سامنے ...
روسی صدر پر قاتلانہ حملہ، پیوٹن کے زیر استعمال گاڑی کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران روسی صدر ولادی میر پیوٹن پر بھی قاتلانہ حملہ ہونے کا انکشاف منظرعام پر آ گیا۔ بھارتی ٹی وی چینل ’زی نیوز‘ کے مطابق صدر پیوٹن پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ اپنی ’اورس سینت لگژری لیموزین‘ میں سفر کر رہے تھے۔ گاڑی کے بائیں طرف کے اگلے پہیے کے قریب یک دم ایک دھماکہ سا ہوا اور دھوئیں ایک ایک مرغولہ اٹھا۔ 

رپورٹ کے مطابق صدر پیوٹن اپنی اس خصوصی لیموزین کار کی وجہ سے اس حملے میں محفوظ رہے جو کسی ٹینک کے جتنی محفوظ ہے۔ روسی حکومت کی طرف سے اس حملے کے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ صدر پیوٹن کے زیراستعمال گاڑی روسی کمپنی ’اورس موٹرز‘ کی بنائی ہوئی ہے۔ صدر پیوٹن کی طرف سے سرمایہ کاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ملک میں لگژری گاڑیوں کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کریں۔

ان کے اس مطالبے کے بعد 2018ءمیں ’اورس موٹرز‘ کی بنیاد رکھی گئی، ابتداءمیں یہ کمپنی صرف روسی صدر کی لگژری لیموزین اور ان کے قافلے میں چلنے والی دیگر گاڑیاں تیار کرتی تھی۔ 2021ءمیں اس کمپنی نے اپنی پہلی سویلین گاڑی متعارف کرائی۔ 

کمپنی روسی صدر کے لیے جو ’اورس سینت لیموزین‘ بناتی ہے اس کی لمبائی 260.6انچ، چوڑائی ساڑھے 79انچ اور اونچائی 66.7انچ ہے۔ اس کی وہیل بیس (Wheelbase) 129.9انچ جبکہ اس کا وزن 6ہزار 200کلوگرام ہے جو کسی ہیوی آرمر کے برابر ہے۔ یہ گاڑی اپنے ریگولر ورژن سے اڑھائی گنا زیادہ وزنی ہے۔

اس گاڑی میں 4.4لیٹر وی 8انجن نصب کیا گیا ہے جو سنٹرل سائنٹفک ریسرچ آٹوموبل اینڈ آٹوموٹیو انجنز انسٹیٹیوٹ کی طرف سے تیار کیا گیا ہے۔ 

مزید :

بین الاقوامی -