ایسے کام کرو جیسے کل نہیں ہونی، تیار رہو،مقابلہ کرو

 ایسے کام کرو جیسے کل نہیں ہونی، تیار رہو،مقابلہ کرو
 ایسے کام کرو جیسے کل نہیں ہونی، تیار رہو،مقابلہ کرو

  

مترجم:علی عباس

قسط: 79

میں اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔صحافی اخبار کو فروخت کرنے کے لئے کچھ بھی کہنے کے لئے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں کو چوڑا کرایا ہے اور میں زیادہ سفید نظر آنا چاہتا ہوں۔ زیادہ سفید؟ یہ کس طرح کا بیان ہے؟ میں نے پلاسٹک سرجری کو ایجاد نہیں کیا یہ بہت عرصہ سے ہو رہی ہے بہت بہترین اور شاندار لوگوں نے پلاسٹک سرجری کرائی ہے اُن کی سرجری کے بارے میں کوئی کچھ نہیں لکھتا اور اُن پر اس قدر تنقید نہیں کی جاتی۔ یہ درست نہیں ہے۔ وہ زیادہ تر جو لکھتے ہیں، وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو یہ کہنے پر مجبور کرنے کے لئے کافی ہے، ”سچ کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا یہ متروک ہو چکا ہے؟

آخر میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اپنے ساتھ اور جن سے تم محبت کرتے ہو، اُن سے سچ بولو اور سخت محنت کرو۔ میرا مطلب ہے، ایسے کام کرو جیسے کل نہیں ہونی۔ تیار رہو۔ مقابلہ کرو۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ حقیقی طور پر اپنی صلاحیتوں کو اعلیٰ ترین درجے تک بہتر بناﺅ۔ جو بھی کرتے ہو، اُس میں بہترین بنو۔ کسی بھی دوسرے زندہ انسان سے زیادہ اپنے پیشے کے بارے میں آگہی حاصل کرو۔اپنے پیشے کے تمام تر اوزار استعمال کرو، اگر یہ کتابیں ہیں یا رقص کرنے کی جگہ ہے یا تیرنے کا پانی ہے۔ خواہ یہ جو کچھ بھی ہے تو یہ تمہارا ہو گا۔یہ وہ کچھ ہے جسے میں ہمیشہ یاد رکھنے کی کوشش کیا کرتا ہوں۔ میں نے وکٹری ٹور کے دوران اس کے بارے میں بہت زیادہ سوچاتھا۔

آخرمیں، میں محسوس کرتا ہوں کہ وکٹری ٹور میں میں بہت سارے لوگوں پر اثر انداز ہوا ہوں۔ بالکل اُس طرح نہیں جس طرح میں چاہتا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ یہ دیر سے ہونا تھا جب میں فارغ ہوتا تو فلمیں بناتا اور ان میں کام کیاکرتا۔میں نے اپنی پرفارمنس کی ساری رقم عطیہ کر دی تھی، جن میں برن سنٹر کے فنڈز بھی شامل ہیں جس نے پیپسی کے سیٹ پر آگ بھڑک اُٹھنے کے بعد میری مدد کی تھی۔ اس برس ہم نے چار ملین ڈالر سے زیادہ عطیہ کیا۔ میرے لئے یہ وہ سب کچھ تھا جو وکٹری ٹور سے حاصل ہوا۔۔۔ اور مجھے واپس مل رہا تھا۔

میں نے وکٹری ٹور سے حاصل ہونے والے تجربات کے باعث اپنے کیریئر کے حوالے سے پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ فیصلے کرنا شروع کر دیئے تھے۔ میں نے اس سے پہلے ٹور میں ایک سبق سیکھا تھا، جسے میں وکٹری کے دنوں میں درپیش آنے والی مشکلات کے دنوں میں واضح طور پر یاد کیا کرتا تھا۔

ہم نے برسوں قبل اُس کے ساتھ ٹور کیا تھا جس نے ہمیں دھوکہ دیا تھا لیکن اُس نے مجھے کچھ سکھایا تھا۔ اُس نے کہا، ”سُنو، یہ سارے لوگ تمہارے لئے کام کر رہے ہیں۔ تم اُن کے لئے کام نہیں کر رہے۔ تم انہیں معاوضہ ادا کر رہے ہو۔“

وہ مجھے تاحال یہ یاد دہانی کراتا ہے بالآخر مجھے سمجھ آگئی کہ اُس کے کہنے کا کیا مطلب تھا۔ یہ میرے لئے ایک بالکل نیا خیال تھا کیونکہ موٹون میں سارا کچھ ہمارے لئے ہوتا تھا۔ دوسرے لوگ ہمارے فیصلے کرتے تھے۔ میں اس تجربے سے ذہنی ہیجان کا شکار تھا۔ ”تمہیں یہ زیبِ تن کرنا ہے، تمہیں یہ گیت گانے ہیں۔ تم یہاں جا رہے ہو۔ تم نے یہ انٹرویو دینے ہیں اورتم یہ ٹی وی شو کر رہے ہو۔“ وہاں ایسا ہوتا تھا۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ جب اُس نے مجھے بتایا کہ میں تابع ہوں، میں بالآخر جاگ اُٹھا، مجھے ادراک ہوا کہ وہ درست کہہ رہا تھا۔

ہر چیز سے قطع نظر میں اس شخص کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں۔

کپتان ای او آنے والا تھا کیونکہ ڈزنی سٹوڈیو مجھ سے چاہتا تھا کہ میں پارکس کے لئے نئی تفریح کے ہمراہ آﺅں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں کیا کرتا ہوں، اُس وقت تک جب تک یہ تخلیقی ہے۔میری اُن کے ساتھ یہ بڑی ملاقات ہوئی تھی۔میں نے شام کو انہیں بتایا کہ والٹ ڈزنی میرا ہیرو تھا اور یہ کہ میں ڈزنی کی تاریخ اور نقطہ نظر میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں۔ میں اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں جن کی ڈزنی نے خود تعریف کی تھی۔ میں نے والٹ ڈزنی اور اُس کی تخلیقی سلطنت کے بارے میں بہت ساری کتابیں پڑھی ہیں اور یہ میرے لئے بہت زیادہ اہم ہے کہ میں ویسی چیزیں کروں جیسی وہ کیا کرتا تھا۔

بالآخر انہوں نے مجھے فلم میں کام کرنے کوکہا اور میں تیار ہوگیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں جارج لوکاس اور سٹیون سپیلبرگ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پتہ چلا کہ سٹیون مصروف تھا چنانچہ جارج نے فرانسز فورڈ کوپولا کی خدمات حاصل کیں اور یہ کپتان ای او کی ٹیم تھی۔

میں جارج سے ملاقات کرنے کےلئے 2 مرتبہ سان فرانسسکو اُس کی رہائش’ ’ سکائی واکر رینچ“ پر گیا تھا اور بالآخر ہم نے محدود دورانئے کی فلم کا خاکہ بنا لیا جس میں تھری ڈی ٹیکنالوجی میں ہونے والی ہر جدت کو شامل ہونا تھا۔حاضرین کو کپتان ای او ایسا محسوس اور دکھائی دینا چاہئے تھا کہ وہ سفرمیں اُس کے ساتھ ہیں۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -