پنجاب کوبیرونی حملہ آوروں سے نجات مل تو گئی لیکن پنجابی فوج نے خود لٹیروں کا روپ اختیار کر لیا

 پنجاب کوبیرونی حملہ آوروں سے نجات مل تو گئی لیکن پنجابی فوج نے خود لٹیروں کا ...
 پنجاب کوبیرونی حملہ آوروں سے نجات مل تو گئی لیکن پنجابی فوج نے خود لٹیروں کا روپ اختیار کر لیا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:46 

رنجیت سنگھ پنجاب کے مشرقی اور مغربی حصے کی صورت حال سے مایوس ہو کر شمال اور مغرب کی طرف لشکر کشی کا سوچنے لگا۔ اس مقصد کے لیے اس نے فوج کو مضبوط کیا۔ اب یہ فوجی قوت پنجاب کے دفاع سے زیادہ اردگرد کے علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے تشکیل دی گئی۔ چونکہ شمال کے علاقوں کے مسلمان حاکم اکثر جہاد کے نام پر پنجاب پر حملہ آور ہوتے تھے اس لیے رنجیت سنگھ نے بھی مذہبی کڑپن کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی فوج میں بعض ایسے کٹرسکھ اکالی جتھے شامل کیے جو افغانوں کی طرح متعصب تھے۔ اس فوج پر اٹھنے والی رقم بہت زیادہ تھی۔ چنانچہ اردگرد کے علاقے فتح کرنے کی قیمت صوبے کے باسیوں کو ادا کرنا پڑی۔ صوبے کی معاشی ترقی کی رقم دفاعی تیاریوں اور حملوں پر خرچ ہونے لگی۔ اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ رنجیت سنگھ نے پنجاب پر 40 برس تک حکومت کی۔ بہت سے علاقے فتح کیے اس کے باوجود سارے پنجاب پر نظر ڈالی جائے تو رنجیت سنگھ کے زمانے کی یادگار کتنی خوبصورت عمارتیں، کتنی نہریں، قلعے یا عوام کی ضرورت یا دفاع کی دوسری چیزیں نظر آتی ہیں؟ لے دے کے حضوری باغ جیسی چھوٹی سی بارہ دری، امرتسر کا دربار صاحب اور حافظ آباد کے نزدیک ایک اجڑا ہوا باغ۔ یہ ہے رنجیت سنگھ کے دور کی کل ثقافتی و تہذیبی کائنات۔ 

ہوا یہ ہے کہ رنجیت سنگھ کی فوجی سرگرمیوں اور چڑھائیوں نے اس عظیم پنجابی کو اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ پنجاب کی آمدن پنجاب کے عوام پر خرچ کر سکتا۔ پنجاب کو جس قدر ترقی دینے کی اہلیت وہ رکھتا تھا کسی دوسرے میں نہیں تھی پر وہ اپنی اس اہلیت کو بروئے کار نہ لا سکا کیونکہ اسے فوجی مہم جوئی سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔ پنجاب کو رنجیت سنگھ کے دور میں بیرونی حملہ آوروں سے نجات مل تو گئی لیکن پنجابی فوج نے خود لٹیروں کا روپ اختیار کر لیا۔ انگریزوں کے ساتھ میل جول رکھتے ہوئے اس نے پڑوسیوں کی کچھ خوبیاں بھی اپنائیں اور کچھ خرابیاں بھی۔ 

فوج کی نفری میں دن بدن اضافہ کے ساتھ وہ مزید طاقتور ہوتی گئی یہاں تک کہ وہ ایک بہت بڑی قوی ہیکل عفریت بن گئی جسے قابو میں رکھنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ اسے اردگرد کے علاقوں میں فوجی مہم جوئی میں مصروف رکھا جائے۔ رنجیت سنگھ کے بعد ایسا ممکن نہ رہا تو اس فوج نے پنجاب کو فتح کرنا اور یہاں کے لوگوں کی لوٹ کھسوٹ شروع کر دی۔ دوسروں کو غلام بناتے بناتے اس نے پنجابیوں کو غلام بنا لیا۔ دوسروں کو غلام بنانے کی کوشش یا تو اپنوں کو غلام بنانے سے شروع ہوتی ہے یا انہیں غلام بنانے پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ 

رنجیت سنگھ نے اپنی بے مثال انسان دوستی اور سیکولر ذہن کا مالک ہونے کے باوجود کوئی مفید انتظامی مشینری وراثت میں نہ چھوڑی۔ جیساکہ سطور بالا میں کہا گیا ہے اس کا بنیادی سبب مسلسل فوجی مہم جوئی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد سارا حکومتی ڈھانچہ ریت کی دیوار کی طرح مسمار ہو گیا۔ جو پنجابی سلطنت اتنی شان و شوکت کے ساتھ قائم ہوئی تھی رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد 10سال کے اندر ایسے ختم ہو گئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ 

مہاراجہ ملکی انتظام کیسے چلاتا تھا؟ جب وہ دنیا سے رخصت ہو گیا تو پنجاب حملہ آوروں کے آگے بے بس کیوں ہو گیا؟ 

رنجیت سنگھ کے دور میں تمام ریاستی کاروبار درباری انجام دیتے تھے جو فوجی اور سول افسر شاہی کے 5 دھڑوں میں بٹے ہوئے تھے۔ پہلا دھڑا جموں کے ڈوگرے سرداروں کا، دوسراسکھ سرداروں کا، تیسرا ہندو اور برہمن امراءکا، چوتھا مسلمان مشیروں کا اور پانچواں یورپین جرنیلوں کا تھا۔ 

ڈوگرے سرداروں میں 3 بھائی بہت مشہور ہوئے جو سکھ نہیں تھے بلکہ راجپوت ہونے کے ناطے ”سنگھ“ کہلواتے تھے۔ بڑا بھائی دھیان سنگھ تھا جس کی چونامنڈی کے اندر حویلی آج بھی موجود ہے۔ دوسرا گلاب سنگھ تھا جس نے بعد میں انگریزوں سے کشمیر خریدا، تیسرا سوچیت سنگھ تھا جو اپنے بھتیجے ہیرا سنگھ کی فوج کے ہاتھوں 1845ءمیں مارا گیا۔ ان تینوں بھائیوں میں سے سب سے زیادہ ہوشیار دھیان سنگھ تھا جو تقریباً 20 سال تک رنجیت سنگھ کا وزیر رہا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -