اُم الخبائث 

 اُم الخبائث 
 اُم الخبائث 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 کئی دفعہ تویوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے تمام تر مسائل کی بُنیادی وجہ ہمارے ہمسایہ ممالک ہی ہیں، ان پڑوسیوں کی موجودگی میں ہمیں مزید کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔قومی سطح پر ملک کو درپیش کسی بھی معاشی، اقتصادی یا دیگر بحران کا ”کھُرا“ نکالیں تو اس کے تانے بانے ہمسایہ ممالک تک جا پہنچتے ہیں۔ہم اپنے بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کی ہراچھی اور ضرورت کی چیز افغانستان برآمد ہو رہی ہے اور جواب میں ہر قسم کی ”بدی“ پاکستان درآمد ہو رہی ہے۔ پاکستان میں آٹے کا بحران پیدا ہو تو معلوم پڑتا ہے کہ قلت کی وجہ  افغانستان سمگلنگ ہے، پاکستانی اپنی سر زمین پر ضرورت سے زائد گندم اگانے کے باوجود گندم کو ترسیں تواس کی وجہ بھی افغانستان سمگلنگ ہوتی ہے۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد ملک میں سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے والی چمڑے کی صنعت (لیدر انڈسٹری) کو خام مال دستیاب نہ ہو نے پر اس کا کھرا نکالیں تو واضح ہوتا ہے کہ زندہ جانوروں کی بڑے پیمانے پر افغانستان سمگلنگ کے باعث چمڑہ ساز فیکٹریوں کو جانوروں کی کھالیں ہی دستیاب نہیں ہو رہیں جس کی وجہ سے پاکستانی صنعتوں کو بین الاقوامی آرڈر مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔غرضیکہ آٹا، چاول، چینی، چمڑے سے لیکر ڈالر تک پاکستان سے افغانستان پہنچ رہا ہے اور اس کے جواب میں افغانستان سے ممنوعہ بور کے ہتھیار، غیر قانونی اسلحہ، منشیات، دہشت گردی اور مجاہدین پاکستان سمگل ہو رہے ہیں۔خیبر پی کے سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں تخریب کاری کے واقعات کے تانے بانے بھی اکثر افغانستان جا ملتے ہیں۔


موجودہ حالات میں پاکستان اقتصادی اور معاشی محاذ پر جن بڑے چیلنجز سے نبرد آزما ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔2018 ء کے الیکشن نتائج چوری کر کے بااثر حلقوں نے پی ٹی آئی کی شکل میں جس طرح چار سال تک ایک نا اہل حکومت عوام پر مسلط کی قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ تاہم حوصلہ افزاء امر یہ ہے کہ مقتدرحلقوں نے قومی سلامتی امور کے ساتھ ساتھ ملک کو درپیش معاشی اور اقتصادی محاذوں پر لڑنے کیلئے بھی کمر کس لی ہے۔ ڈالر کی غیر قانونی تجارت کو لگام ڈالنے اور ایرانی تیل کی سمگلنگ کی روک تھام جیسے اقدامات کے فوری نتائج آنا شروع ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر ہونے والی سمگلنگ پاکستانی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی بڑی وجہ ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کو جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں بلیک مارکیٹ کے قیام کی بنیادی وجہ ہے،افغان حکام اور کاروباری افراد اشیاء کی درآمد میں پاکستان کسٹمز سے غلط بیانی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہوئی ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت ایسی اشیاء درآمد کی جاتی ہیں جو افغانستان میں استعمال ہی نہیں ہوتیں لیکن افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد ہونے والی اشیاء پاکستان میں ہی فروخت کر دی جاتی ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت اگر یہ اشیاء افغانستان جائیں بھی تو سمگل ہو کر واپس پاکستان پہنچ جاتی ہیں،جس کی وجہ سے افغانستان کی درآمدات میں 67 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس 4 ارب ڈالر رہنے والی افغان درآمدات مالی سال 2022-23 ء میں 6 سے 7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔اسی طرح چند روز قبل آنیوالی ایک رپورٹ میں اے ٹی ٹی کی آڑ میں 300 ارب روپے کی سمگلنگ کا انکشاف ہوا تھا۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کا یہ دو طرفہ معاہدہ 1965 ء میں طے پایا، بعدازاں 2010 ء میں امریکی ثالثی کے بعد اس میں توسیع کے تحت پاکستان، افغانستان کو اپنے ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور ز مینی راستوں کے ذریعے ڈیوٹی فری بین الاقوامی تجارت کی اجازت دیتا ہے۔اس کے بدلے اسلام آباد کو وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے مخصوص افغان ٹرانزٹ کوریڈور استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ کابل کی سابق حکومت کے ساتھ کشیدہ سیاسی تعلقات اور اس کے مبینہ طور پر بھارت کی جانب جھکاؤ کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کے فضائی راستوں کے ذریعے تجارت کی اجازت نہیں تھی۔ 2010 ء میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی موجودگی میں پاکستان کے وزیر تجارت مخدوم امین فہیم اور افغانستان کے مالی امور کے وزیر عمر زخیلوال نے پہلے سے موجود ”اے ٹی ٹی“ معاہدے میں مزید کچھ شقوں کا اضافہ کیا تھا جس کے تحت صرف افغانستان کا مال پاکستان سے ہوتا ہوا ہندوستان جائے گا جبکہ اس کے بدلے میں افغانستان پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لئے زمینی راستہ استعمال کرنے دے گا۔
بہرحال، اس معاہدے کا پاکستان کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا تاہم اس کی آڑ میں تینوں ملکوں کے کسٹم حکام،سمگلروں اور مافیاز کی چاندی ہو گئی، جبکہ کاروباری برادری اور قانونی طور پر اشیاء کے درآمد و برآمد کنندگان کو اس کا نقصان ہوا۔ اے ٹی ٹی کی آڑ میں ہونیوالی سمگلنگ ملک کو کئی دہائیوں سے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور لاہور چیمبر عرصے دراز سے اس معاہدے کو عالمی سطح پر از سر نو ترتیب دینے کا مطالبہ کر رہا ہے تاہم سمگلروں اور مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کے باوجود چند روز بعد کام ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر حکومت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو ملکی معیشت کیلئے ناسور قرار دیا ہے۔ اس وقت مقتدر حلقے ڈالر اور پٹرول سمیت سمگلنگ کی روک تھام میں مصروف ہیں لہٰذا اب بہترین وقت ہے کہ لگے ہاتھ افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو بھی ”ری وزٹ“ کر لیا جائے تا کہ اس کی آڑ میں ہونیوالی سمگلنگ اور اس سے جڑے مافیا کو لگام ڈالی جا سکے جس سے یقیناً ملکی معیشت کو درست سمت گامزن کرنے میں مدد ملے۔

مزید :

رائے -کالم -