میمو کیس، حسین حقانی اور حق زندگی

میمو کیس، حسین حقانی اور حق زندگی

اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود ،ان کی سلامتی او رجان و مال کی حفاظت کسی بھی ریاست اور اس کے اداروں کے لئے اہم ترین فریضہ تصور کی جاتی ہے۔آج کی جدید دنیا میں ریاستیں صرف اپنے شہریوں ہی نہیں ،بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے ان افراد کی سلامتی کے لئے ہر ممکن اقدام اپنا فرض سمجھتی ہیں جن کی زندگی یا سلامتی کو کسی انتہا پسند گروپ یا کسی فسطائی حکومت کی جانب سے خطرات کا سامنا ہو۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ ممالک جبر کے شکار یا خطرات میں زندگی بسر کرنے والے افراد کو اپنے ہاں پناہ دینے کی پیشکش بھی انہی بنیادوں پر کرتے ہیں کہ خوف اور جبر سے پاک ماحول میں زندگی بسر کرنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ فرد کی جان کی سلامتی اور حفاظت کو انتہائی اہمیت دینے والی اس دنیا میں کسی ریاست یا اس کے کسی ادارے کی جانب سے اپنے ہی شہری کی زندگی کو لاحق خطرات کو خاطر میں نہ لانا یقینی طور پر ایسی ریاست کے اجتماعی ضمیر کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔آج یہی سوال اس وقت سامنے آتا ہے ،جب ہم دیکھتے ہیں کہ عدلیہ کی جانب سے امریکہ میں متعین سابق سفیر حسین حقانی سے میمو کیس کے حوالے سے پاکستان آکر عدالت کے سامنے پیش ہونے کا اصرار کیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی پاسداری پر یقین رکھنے والے حلقوں کے نزدیک یہ اصرار اس تناظر میں باعث تشویش ہوتا ہے کہ حسین حقانی اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے باعث پاکستان آنے سے معذرت کر چکے ہیں اور یقینی طور پر ان کے بیان کردہ خطرات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

سابق سفیر نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے ضمن میں موقف پیش کیا ہے کہ ان پرکسی جرم کے لئے قانونی طور پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، نہ ہی کسی مقدمے میں سزا ہوئی ہے ،مگرمخالفانہ پروپیگنڈ اور غداری جیسے الزامات سے پھیلنے والا زہر ان کے لئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔اس وقت ملک میں پائے جانے والے انتہا پسندانہ رجحانات اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے واقعات کے پیش نظر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والا کون سا ادارہ یا حکومتی شعبہ یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ اس کے اہلکار حسین حقانی کے خلاف منفی پراپیگنڈے سے متاثر نہیں ہو ں گے ۔اپنے گردو پیش کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم گہرے دکھ اور تاسف سے دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں تنگ نظری انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے ،لوگوں کو ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر قتل کیا جا رہا ہے ،یہاں تک کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والے رضا کار بھی مذہبی جنونیوں سے محفوظ نہیں۔اسی طرح ملک میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ کئی ایسے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جن میں بپھرے ہوئے جتھوں نے محض الزامات کی بنیاد پرافراد کو بے دردی سے قتل کردیا۔ یہ تمام منظر نامہ موجودہ حالات میںحسین حقانی کے پاکستان نہ آنے کے فیصلے کو دانشمندی کا تقاضا سمجھنے کی دلیل پیش کرتا ہے۔

 جہاں تک امریکہ میں سابق سفیر کو واپس آنے پر مجبور کرنے کے قانونی پہلوو¿ں کا تعلق ہے،قانون سے معمولی واقفیت رکھنے والا ہر شخص یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ حسین حقانی کی امریکہ سے بے دخلی کے احکامات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے خلاف نہ تو کسی مقدمے کی کارروائی ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ سزا یافتہ ہیں، لہٰذا ایسی کسی کارروائی کا سوال ہی خارج از امکان تصور کیا جانا چاہئے۔دوسری جانب یہ بات عین ممکن ہے کہ میمو کیس کے حوالے سے پاکستان میں بعض حلقوں میں نام نہاد قومی جذبات ابھارنے کی کوشش کی جائے، تاہم ایسی کسی مہم سے پاکستان سے باہر کسی کا متاثرہونا قرین قیاس نہیں اورپاکستان سے باہر کوئی بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ حسین حقانی نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ میمو کمیشن کی رپورٹ ملاحظہ کرنے پر بھی یہ بات صاف عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کے اکثر نکات اپنی نوعیت میں سیاسی ہیں اور ایک امریکی شہری منصور اعجاز کے دعوﺅں پر قائم ہیں، جسے ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنا دیا گیا اور جوقابل بھروسہ ہونے کے معیار پر پورا نہیں اترتا ہے۔

یہ افسوس ناک امرہے کہ حسین حقانی کے موقف کو ہمدردی سے سمجھنے کی بجائے ان کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی دھمکی کے بعد ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا تو بھی انہیں پاکستان واپس آنے پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔ان حالات میں حسین حقانی کو محض یہ کرنا پڑے گا کہ وہ امریکی حکومت سے طویل مدت کے قیام کی اجازت حاصل کر لیں ۔ عدلیہ کا حکم جس کی تعمیل نہ ہو اس کا دوسرے ممالک کی عدالتوں میں مذاق اڑایا جائے گا اور اس سے سپریم کورٹ کی سبکی ہوگی۔قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو خود عدالت اس امر سے بھی آگاہ ہے کہ وہ محض منصور اعجاز کے دعوو¿ں کی بنیاد پر حسین حقانی کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کر سکتی۔اس حقیقت کے ادراک کی وجہ سے عدلیہ نے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا راستہ اختیار کیا اور ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت نہیں کی۔ایسی صورت میں اگر کوئی مقدمہ درج کیا جاتا ہے تو اس کے لئے پاکستان کے فوجداری قانون کے تحت منصور اعجاز کو تحقیقات اور مقدمے کی کارروائی کے دوران پاکستان میں موجود رہنا پڑے گا اور سب جانتے ہیں کہ منصور اعجاز کی اتنے طویل عرصے کے لئے پاکستان میں دستیابی ممکن بنانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

یہ سوال بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ عدالت عظمیٰ حسین حقانی کے خلاف براہِ راست مقدمہ دائر نہیں کر سکتی ، حسین حقانی کی واپسی پر اصرار سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے،ایک اور اہم حقیقت جس کا پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ قوم نے سوئس گورنمنٹ کو خط لکھنے کے معاملے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی دیکھی ہے ،اس سے ماسوائے اخبارات کی شہ سرخیوںکے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔اس طویل ترین کارروائی کے نتیجے میں سوئس حکام نے صدر زرداری کے خلاف مقدمہ دوبارہ نہ کھولا،باوجود اس کے کہ سپریم کورٹ نے ایک وزیر اعظم کو جبراً نکال باہر کیا اور حکومت اور عدلیہ کے درمیان رسہ کشی میں کئی ماہ ضائع کر دیئے گئے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ حسین حقانی پر توہین عدالت کا الزام عائد کر سکتی ہے اور میمو کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے تاہم ان دونوں صورتوں میںایسا کوئی امکان موجود نہیں کہ پاکستان سے باہر غیرملکی حکام (امریکہ جہاں اس وقت وہ مقیم ہیں) کی جانب سے عدالت کے احکامات کی تعمیل کی جائے گی۔یہ تمام صورت حال ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے ملک کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں اور ان حقوق میں حق زندگی اہم ترین حق ہے جس پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جا سکتی۔

مزید : کالم