پرنالہ

پرنالہ

  

”سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نگران حکومت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیوں کررہی ہے؟انہیں فیئر اینڈ فری انتخابات کرانا تھے، یہ اور ہی کاموں میں لگ گئے ہیں“....بقراطی صاحب کچھ برہم دکھائی دے رہے تھے، ویسے بھی ملکی حالات پر کڑھتے رہنا، ان کی عادت بن چکی تھی۔ہم نے تازہ پریشانی کی وجہ دریافت کی۔کہنے لگے کہ 9اپریل 2013ءکو پنجاب کی نگران کابینہ کے اجلاس میں لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات کی تدبیر سوچی گئی ہے کہ پنجاب میں ہفتہ وار دو چھٹیاں ہوں گی۔اس سے ان کے خیال میں بجلی اور ایندھن کی بچت ہوگی۔ اس میں بُری بات کیا ہے؟

بقراطی صاحب ”یہ تو 2011ءسے وفاقی حکومت واویلا کرتی آئی ہے کہ اس سے 700میگاواٹ کی بچت ہو گی۔ باقی صوبوں نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اطلاق کر دیا، مگر پنجاب حکومت نے اس کے اطلاق کو پنجاب سے ناانصافی اور ترجیحی سلوک کے خاتمے تک موخر کردیا تھا۔اب ناانصافی کا ازالہ ہوگیا ہوگا،جس کی وجہ سے پنجاب حکومت نے یہ قدم اٹھایا“.... ”مگر آپ نہیں جانتے کہ اس قدم کے ہماری ترقی اور معیشت پر کتنے بُرے اثرات پڑیں گے“؟بقراطی صاحب نے بھنا کر کہا:”یہاں پہلے ہی ہفتے میں چھ روز کام چوری ہوتی ہے“۔”پھر تو ہفتہ میں دو چھٹیوں کا بڑا فائدہ ہے“

”وہ کیا؟“”کام چوری پانچ دن رہ جائے گی“۔ بقراطی صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔”آپ کو بس باتیں بنانے کی پڑی ہے۔بندہ خدا! بجائے بغلیں بجانے کے ذرا یہ سوچئے کہ اس کے معیشت پر کتنے مضر اثرات پڑیں گے۔ہم ایک ترقی پذیر ملک اور معیشت ہیں ہمیں بہت محنت کرنا ہے۔اقوام عالم میں ایک آبرومندانہ مقام حاصل کرنا ہے اور یہ بغیر محنت اور قربانی کے نہیں آ سکتا۔ پھر آپ قائداعظمؒ کے فرمان کام، کام اور بس کام کو بھی ذہن میں رکھئے“۔”بقراطی صاحب! قائداعظم کے اس فرمان سے انکار نہیں۔نہ آپ کی اس بات سے مفر ہے کہ ہمیں اقوام عالم میں باوقار مقام کے لئے محنت کرنا چاہیے، مگر ہفتہ وار دو چھٹیوں سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ ہم کام سے جی چرا رہے ہیں۔یا محنت نہیں کرنا چاہتے۔اس فیصلے سے کام کے دنوں میں کمی ہورہی ہے، لیکن کام کے گھنٹے تو کم نہیں ہورہے۔سہولت صرف یہ ہے کہ چھٹے دن آنے جانے کا خرچہ ،وہ چاہے پٹرول، ڈیزل کا ہو یا وقت کا ،بچت ہوگی۔اس ملک میں سرکاری اور نجی ملازمین کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرتی ہے۔ایک دن کے کرائے یا پٹرول کی بچت کا اندازہ لگایئے،جوکہ کام کی جگہ پر نہ جانے سے ہوگی۔”آپ موضوع سے انحراف کررہے ہیں“۔ بقراطی صاحب نے مجھے ٹوکا۔” مَیں ملکی ترقی کے لئے محنت کی ضرورت پر بات کررہا تھا۔آپ دمڑیاں بچانے پر کمربستہ ہوگئے“۔

”مَیں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ ہفتہ کار پانچ دنوں کا ہو یا چھ دنوں کا، ہمیں محنت اور جی جان سے اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں،رہی بات ہفتہ وار چھٹیوں کی، اگر پوری دنیا میں یہی معمول رائج ہو تو ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ یقیناً اس میں کوئی حکمت اور فائدہ پوشیدہ ہوگا۔براعظم امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کی بات چھوڑیں، کیونکہ وہاں پر یہود و نصاریٰ بستے ہیں اور بقراطی صاحب! آپ ہمیشہ سے قائل ہیں کہ یہ اقوام ہم پاکستانیوں کے خلاف سازشیں کرتی رہتی ہیں۔ہم بھلے اپنی بستیاں اپنے ہاتھوں سے جلا رہے ہوں یا اپنے گلے خود کاٹ رہے ہوں۔ہم نے الزام بیرونی سازشوں پر دھرنا ہوتا ہے۔برسوں پہلے شاید انہوں نے دو چھٹیاں ہمیں پھنسانے کے لئے کی ہوں گی، مگر دبئی، متحدہ عرب امارات اور سب سے بڑھ کر سعودی عرب یہ تو ہمارے برادر اسلامی ملک ہیں“۔

”کیوں انہوں نے کیا کیا ہے“بقراطی صاحب نے چٹاخ سے سوال داغا۔ ”وہاں بھی سرکاری ملازمین کو ہفتہ وار دو چھٹیاں ملتی ہیں۔حال ہی میں خادم حرمین شریفین نے اپنی شوریٰ کی تجویز کو پذیرائی بخشی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی دو چھٹیاں دی جائیں۔اور پھر آپ کوریا، چائنہ، جاپان اور اپنے مہاتیر محمد کے ملائیشیا کو نہ بھولیں۔وہاں ہفتہ وار دو چھٹیاں ہیں اور بقراطی صاحب آپ فوجی طرزِ حکومت کے دلدادہ ہیں۔برما کی فوجی جنتا نے بھی ہفتہ وار دو چھٹیاں رکھی ہوئی ہیں۔انڈیا کا مَیں ذکر نہیں کرتا، کیونکہ اس کو آپ پسند نہیں کرتے“۔”مگر ہمارے ہاں تو یہ کبھی موضوع بحث ہی نہیں رہا“۔بقراطی صاحب نے دخل دیا:بقراطی صاحب! شاید ہمارا کلچر اور مزاج ہی ایسا ہوگیا ہے۔ہم دکھ دے کر اور دکھ سہہ کر خوش رہتے ہیں۔آپ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں، آپ کو ہر طرف آپا دھاپی نظر آئے گی۔اکثر اوقات دوسرے کے حقوق کو جان بوجھ کر غضب اور پامال کیا جاتا ہے۔افسر وہی زبردست سمجھا جاتا ہے جو ماتحتوں کے کڑاکے نکال دے.... اور تو اور ہم نے دوسری تہذیبوں کے جو اطوار اپنائے ہیں، وہ بھی وہ ہیں، جن سے زندگی اوکھی ہو۔سوکھی نہ ہو، مثلاً....ہندو کلچر سے ہم نے ذات پات ،اونچ نیچ اور جہیز کی رسمیں اپنائی ہیں۔یورپین کلچر کی بے مروتی کو ہم نے گلے لگایا ہے۔

بقراطی صاحب چپ چاپ آنکھوں میں بے یقینی لئے مجھے گھورے جارہے تھے۔مَیں نے موقع غنیمت جان کر اپنی گفتگو کو جاری رکھا۔”مَیں سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت کا دیر سے سہی یہ بہت مستحسن فیصلہ ہے، مگر مجھے اس فیصلے کے محرک اور استدلال پر تحفظات ہیں۔اس کا محرک لوڈشیڈنگ کا سدباب نہیں، بلکہ یہ کوشش ہونا چاہیے تھی کہ ہم اپنے ملک اور صوبے کے کارکنان اور ملازمین، چاہے وہ پبلک سیکٹر کے ہوں یا نجی شعبے کے، ان کو آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ نیتوں کی سچائی کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت اور خیر کا جذبہ ان کی روحوں میں پروان چڑھے۔اس کے ساتھ یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم اپنی قوم، اپنے لوگوں کے کام کرنے اور محنت کے جذبے پر یقین رکھتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہماری قوم اس سہولت کا مثبت جواب دے گی،کیونکہ مناسب آرام ان کی روحوں کو بالیدہ اور ان کے اعصاب اور اجسام کو ایک نئی جلا بخشے گا۔بقراطی صاحب کو چپ سی لگ گئی تھی، مگر ان کے تاثرات سے لگتا تھا کہ وہ میرے دلائل سے مطمئن نہیں تھے۔ اس پر میرے ذہن میں خدشات کے سنپولئے رینگ رہے تھے کہ کہیں پنجاب حکومت بقراطی صاحب سے متاثر نہ ہو جائے اور پرنالہ وہیں پر نہ آ جائے۔    ٭

مزید :

کالم -