جاوید ہاشمی اور راجہ انور....کل اورآج

جاوید ہاشمی اور راجہ انور....کل اورآج

  

پنجاب یونیورسٹی میں راقم مضمون کا،طالب علمی کا زمانہ1972ءسے1976ءکا ہے ،یہی عرصہ پیپلز پاٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا بھی ہے ،اس دور کے" جمہوریت دوست "حکمران ملک سے اپوزیشن کا صفایا کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے تھے ، اور اگر بھٹو حکومت کو کسی اپوزیشن اور تنقید و مخالفت کا سامنا رہ گیاتھا تو وہ فقط پنجاب یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین تھی، جس کو جرات مند اور نڈرنوجوان جاوید ہاشمی لیڈ کر رہے تھے۔ وہ خود اسلامی جمعیت طلبہ کے ممبر یاعہدےدار نہیں تھے، بلکہ جمعیت نے انہیں مستعار لیا ہوا تھا ،لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے بعدپنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین میں کوئی ان کی جگہ لے ہی نہیں سکا۔جو ہیروازم جاوید ہاشمی کے نام کے ساتھ طلبہ و طالبات میں فروغ پذیر ہوا،وہ جمعیت کے اپنے سیکرٹری اور صدور بھی حاصل نہیں کر پائے ۔ جاوید ہاشمی جب یونیورسٹی طلبہ یونین کے سیکرٹری اور صدر تھے تویونیورسٹی طلبہ یونین کی سربراہی کچھ ایسا رومانوی رنگ اختیارکر گئی تھی، جیسے کبھی عمران خان کی کپتانی میں پورے ملک میں کرکٹ "ایوری باڈیز ڈارلنگ" ہو گئی تھی ۔کسی سکالر کا یہ کہنا بہت بڑا سچ ہے کہ"خوبصورتی خاموش سفارش ہوتی ہے“۔ جاوید ہاشمی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا ۔

انیس سو ستر کی دہائی میں بھی ہمارے ہاںنظریاتی تقسیم بہت واضح بنیادوں پر استوار تھی ،رائٹ اور لیفٹ، یعنی دائیں بازو اور بائیں بازو کی اصطلاحیں عام اور مستحکم تھیں.... ( دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کے لئے سبزے،اسلام پسندے اور کنزرویٹو کی ٹرم ،جبکہ بائیں بازو والوں کے لئے سرخے ،سوشلسٹ اورترقی پسند کی ٹرم بولی جاتی تھی).... مفکرین ،اساتذہ،سیاسی جماعتیںاور طلبہ تنظیمیں انہی نظریات کے تحت تقسیم تھیں۔محض تقسیم ہی نہیں تھیں ،بلکہ عموماً ان نظریات کی سخت پابندبھی تھیں ۔یہی وجہ تھی کہ کسی ایک سیاسی پارٹی یا طلبہ تنظیم کا کوئی ایک رکن آسانی سے ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری میں نہیں جا سکتا تھا، کیونکہ اسے صرف پارٹی ہی نہیں اپنا پورا فلسفہ اور سوچ کو بدلنا اوراس تبدیلی کی وجوہات کو واضح اور ثابت بھی کرنا پڑتا تھا۔اب تو بڑی آسانی ہو گئی ہے کہ ہر پارٹی کامنشورہی ایک ہے.... " زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کرنا "اس تبدیلی کے بعد اب پارٹی بدلنا مشکل نہیں رہ گیا ،کیونکہ کسی بنیادی نظریے یا اصول کی خاطر تو اب کوئی پارٹی کو چھوڑتا نہیں ، ایک پارٹی کا رکن اپنی پارٹی کوچھوڑ کر دوسری کو جائن کرتا ہے تو سب کو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اسے لوٹ مار کے وہ مواقع میسر نہیں تھے جو نئی جگہ حاصل ہونے والے ہیں۔

 اس نظریاتی تقسیم کی ہی دین تھی کہ پنجاب یونیورسٹی میں تب دو ہی طلبہ تنظیمیں سر گرم عمل تھیں....جمعیت کا مقابلہ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ تھا ،جس کی باگ ڈور راجہ محمد انور کے ہاتھ میں تھی ،لیکن وہ اس وقت اتنے مدبر اور فرض شناس نہیں تھے، جتنے اب ہو چکے ہیں ،جبکہ ان کے مد مقابل جاوید ہاشمی میں اس وقت بھی انتہا کی پختگی اورزندگی میں نظم و ضبط تھا(مشہور تھا کہ وہ شادی شدہ ہیں)۔ تب مولانا مودودی حیات تھے اور ان کی جمعیت طلبہ ،جس کے پلیٹ فارم پر جاوید ہاشمی یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخاب لڑتے تھے انہیں اپنے حصار میں رکھتی تھی....میڈیا میں جاوید ہاشمی کے سب سے بڑے سپورٹر مجیب الرحمان شامی تھے ۔ وہ بھی اس وقت نوجوانی ،جوش و خروش اورحریت فکر کا مجموعہ و مجسمہ تھے ۔اپنی نوجوانی کے زمانے میںا س قدر بےباک رہے ہیں کہ عملاً وہ اپنے دور کے ایک خود کش حملہ آور ہی تھے، جن کے قلم کی جنبش سے ایوانوں میں زلزلے کی سی کیفیت بپارہتی تھی۔ حرص،ہوس، لالچ اور خوف جو انسان کو کمزور بناتے ہیں،تب ان میں نہیں تھے، اس لئے وہ ہر گز کسی کا ادھارباقی نہیں رکھتے تھے اور ساتھ ساتھ حساب بے باق کر دیا کرتے تھے۔ اپنی اس عادت کی بنا پر کئی بار اپنے ہفت روزہ رسالے زندگی کا ڈیکلریشن منسوخ کروایا،کتنے ہی اور رسالوں کے ڈیکلریشن، جو عارضی طور پر ان کے زیر استعمال رہے،ان کے اسی طرز عمل کی وجہ سے معطل و منسوخ ہوئے۔ ڈیکلریشن کوبحال و برقرار رکھنے کا فن انہیں دیر سے آیا ہے، وہ بھی بہت نقصان اٹھانے کے بعد۔ان کا ہفت روزہ شخصی اور مشنری صحافت کا ایک شاہکار تھا۔

ماضی کے یہ دونوں طالبعلم رہنما اِس وقت ملکی شہرت رکھتے ہیں.... ( اور بقول مرحوم محمد صدیق خان کانجو، جاوید ہاشمی کو تو زمانہ طالب علمی میں عالمی شہرت حاصل ہو چکی تھی ،کیونکہ ان کی خبریں اور ان پر تبصرے بی بی سی سے نشر ہوتے تھے ،جبکہ بڑے بڑے حکمران اپنے بارے میںچند سیکنڈ کی خبر اور تبصرے کی خواہش میں ہلکان ہوئے جاتے تھے)۔ جاوید ہاشمی اپنے زمانہ طالبعلمی میں انتہائی خوبصورت اور پُرکشش شخصیت کے مالک تھے، ان کا رنگ روپ،قد بت اور جسامت مل کر ایک نہایت جاذب شخصیت بناتے تھے۔ سونے پر سہاگہ یہ تھا کہ ہاشمی صاحب کی آنکھ بہت صاف تھی اور یونیورسٹی میں ہر لڑکی کو وہ بہن اور بیٹی کی طرح دیکھتے اور انہی الفاظ میں انہیں مخاطب کرتے تھے۔اس پورے عرصے میں نہ تو ان کا کوئی سکینڈل بنا اور نہ ہی ان کے مخالفین کواس بات کی جرات ہوئی کہ وہ کوئی جھوٹا شوشہ ہی ان کے بارے میں چھوڑتے اور انہیں بدنام کرنے کی غرض سے کوئی کہانی مشہور کرتے۔کئی بار سرخوں کے ساتھ تن تنہا لڑائی کی ،چھوٹے موٹے زخم بھی کھائے ،مگر وہ ڈر نے والا نہیں تھا۔پنجاب کے گورنر مصطفی کھر کو نتھ ڈالے رکھی اور اس کا ہاتھ کھلنے ہی نہیں دیا۔

راجہ انور ایک شریف آدمی ہیں ،کم از کم اب تو ایسا ہی لگتاہے، تب کا کچھ پتہ نہیں کہ ہم ان کے قریب کبھی گئے نہیں ،البتہ یونیورسٹی میں قصے کہانیاں اور چرچے ہر چار سو تھے اور موصوف ان قصوں کو اپنی پرائیڈ سمجھتے تھے۔ راجہ صاحب نے اس وقت کے فیشن کے مطابق اپنے آپ کو مکمل طور پر ہپی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ ایسا لگتا ہے راجہ صاحب کو خود بھی اب اپنا وہ کردار پسند نہیں رہا، جبھی تو وہ یو ٹرن لے کر شریفوں میں آگئے ہیں،اللہ کرے دور کے ڈھول سہانے والی بات نہ ہو اور کبھی انہیں اس کیمپ کو بھی یہ کہہ کر چھوڑنا پڑے کہ شریفوں کا زمانے میں اجی بس حال وہ دیکھا۔۔۔ شرافت چھوڑ دی مَیں نے،شرافت چھوڑ دی مَیں نے.... بہر حال کچھ بھی کہیں ایک بات تو حقیقت ہے کہ ان کے یونیورسٹی کے زمانے میں لوگ ان کی پناہ میں آتے تھے اور اس وقت وہ خود کسی کی پناہ میں ہیں،شاید کافی تپسیا کے بعدوہ یہ راز پا سکے ہیں کہ خود سپردگی میں بھی ایک الگ لذت ہے اور بعض حالات میں یہ بہت زیادہ منفعت بخش ہوسکتی ہے۔اگر کسی ناواقف حال کو یہ سارا ماجرا سنایا جا ئے اور پھر اس کے کمنٹس لئے جائیں تو وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ کوئی بڑا ہی ہوشیار آدمی ہے کہ جب سرخوں کا عروج تھا تو انہیں رام کئے رکھا اور جب اسلام پسندوں کو برسر اقتدار دیکھا توان کودوہنا شروع کر دیا۔خیر اگر ایسا ہو بھی تو اسے دانائی ہی کہا جائے گا، اس میں بے وقوفی والی تو کوئی بات نہیں۔صرف راجہ انور ہی نہیں پرویز رشید جس کے مشورے کے بغیر دونوں میاں برادران چھینک بھی نہیں مارتے،وہ بھی تو اس دور میں اسی طرح کا سرخا رہا ہے اور شاید پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم میں ان کی حیثیت راجہ انور سے کہیں نیچے کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تب ان کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں تھا ،ہو سکتا ہے راجہ انور کو میاں برادران کے قریب لانے میں پرویز رشید کا بھی ہاتھ ہو۔اپنے بازو مضبوط کرنے کے لئے،ظاہر ہے جاوید ہاشمی کی نظروں میں اس کیمپ میں ہوتے ہوئے بھی ان ہر دو سابق سرخ طالبعلم رہنماﺅں کی کوئی وقعت نہیں بن سکتی تھی، اس وجہ سے کہ اِن سے متعلق ان کی آگہی کی سطح اور تھی۔ راجہ صاحب کا کلیم ہے کہ وہ شریف برادران کے کام سے متاثر ہوئے اور ان کو جائن کر لیا ۔اس بلاک میں آنے کے بعد میاں صاحبان نے انہیں پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کا چیف ایگزیکٹو مقرر کر دیا، جہاں اس ادارے سے وہ کسی مد میں کوئی معاوضہ نہیں لیتے ،ماہانہ تنخواہ نہ ہی کوئی الاﺅنس اور ٹی اے ڈی اے....( اس ادارے میں پیکیج چلتے ہیں اور وہ سرکاری ملازم جو تیس چالیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے تھے، جب ڈیپوٹیشن پر اس ادارے میں گئے تو ایک لاکھ سے زیادہ کے حقدار بنے۔ایک اندازہ ہے کہ راجہ صاحب کی ماہانہ تنخواہ اورمراعات ملا کے چھہ لاکھ روپے ماہانہ سے متجاوز ہی ہوگی۔ گویا وہ یہ مراعات نہ لے کر چھہ سات لاکھ روپے ماہانہ کا ذاتی نقصان کر رہے ہیں اور قوم کو اس کا فائدہ پہنچا رہے ہیں.... ان کے بقول وہ اس کام کی تنخواہ نہیں لیتے اور حکومت سے یہاں کوئی رہائشی سہولت بھی نہیں لی ہوئی ،بلکہ دن میں جس دفتر میں وہ کام کرتے ہیں، رات کو اس کے ریٹائرنگ روم میں سو جاتے ہیں۔

اگر ان کی یہ باتیں سچ ہیں اور یقیناً سچ ہی ہوں گی.... (راقم نے خود اپنے کانوں سے راجہ صاحب کی اپنی زبان سے سنی ہیں).... تو یہ قابل قدر اور قابل تقلید مثال ہے۔ میرے جیسے بہت سے لوگ ان کی سادگی پر حیران ہیں اور جن کے علم میں ہے کہ راولپنڈی کے علاوہ لاہور میں بھی ان کے پاس اپنی ذاتی کوٹھی موجود ہے، وہ متفکر ہوتے ہیں کہ راجہ صاحب آخر اپنے گھر میں کیوں نہیں رہ لیتے، بجائے ریٹائرنگ روم میں سونے کے؟ راجہ صاحب ملکی سطح کے ایک ایسے کالم نگار بھی ہیں، جن کی تحریریں لاکھوں لوگ بڑے شوق کے ساتھ پڑھتے تھے۔یونیورسٹی کے زمانے میں وہ جتنے خوش پوش تھے، اب اتنے ہی سادہ پوش ہو گئے ہیں، جیسے کوئی کفارہ ادا کر رہے ہوں۔اس وقت لوگ ان کی خوش پوشی کے پیچھے اور اب ان کی سادہ پوشی کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہ جانے کیوں؟انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کے واقعات اور غالباً کچھ قلبی وارداتوں کو بنیاد بنا کر جھوٹے روپ کے درشن یا اسی طرح کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔

چار سال پہلے کی بات ہے بہاولپور میں ایک میٹنگ میں ان سے ملاقات ہوئی تو کرسیءصدارت سے اٹھ کر گلے ملے اور جب مَیں نے بتایا کہ ہم یونیورسٹی فیلوز ہیں ،لیکن مَیںنے کبھی ووٹ آپ کو نہیں دیا ،کیونکہ ووٹر تو ہم جاوید ہاشمی کے ہی تھے تو اس پر خوب کھل کر قہقہہ لگایا۔ مَیں نے عرض کیا کہ اگر آپ نے بالآخر اسی کیمپ میں آجانا تھا، جس میں ہاشمی صاحب ہیں تو کیوںہم جیسے سادہ لوگوں کو خراب کرتے رہے....بولے وہ درد کا شعر ہے نا۔شعر کاکچھ حصہ انہوں نے بولا، باقی مَیں نے مکمل کر دیا:

شیخ کعبے ہو کے پہنچا ہم کنشت دل سے ہو

درد منزل ایک تھی ٹک راہ ہی کاپھیر تھا

بھٹو اور کھرحکومت کے دور میںجاوید ہاشمی نے جس قدر مشکلات اور اذیتوں کا مقابلہ کیا۔ اس کا منطقی نتیجہ تھا کہ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کا ساتھ دینے اور اس کا کیبنٹ ممبر بننے میں کوئی عار نہ سمجھی ،لیکن اس شراکت داری نے ان کے صاف ستھرے سیاسی کیریئر کو داغدار بھی کیا۔ ہاشمی صاحب پر کسی مالی بد عنوانی یاپوزیشن سے فائدہ اٹھا نے کا کوئی الزام نہیں۔

 یونیورسٹی میں جاوید ہاشمی ایک بہترین مقرر شمار کئے جاتے تھے،ان کی تقاریر سننے کے لائق ہوتی تھیں،ان کی تقریروں میںلفاظی یا جملہ بازی نہیں ،بلکہ جرات وبہادری اوربھٹو حکومت کے محاصرے کی باتیں ہوتی تھیں ۔ ان کے جلسوں کو سجانے اور گرمانے والا طالب علم افتخار فیروز تھا ،جس کا تعلق اس وقت کے لائلپور سے تھا ،چھوٹے قد اور عام شکل و صورت کا یہ نوعمر طالبعلم جب مخاطب ہوتا تھا تو مجمعے کا بلند قامت اور خوبصورت ترین نوجوان دکھائی دیتا تھا۔مَیں نے اپنی زندگی میں شورش کاشمیری مرحوم کے بعد افتخار فیروز جیسا عمدہ،منجھا ہوا،الفاط و جذبات کا جادوگر نہیں دیکھا۔موقع محل کے مطابق بولنا ،تھوڑا بولنا اور مخالف کو جملوں میں اڑا دینا ،مجمعے میں آگ لگا دینا اور بھڑکتی آگ پر پانی پھیر دینا اس مقرر کے واسطے عام نوعیت کے کام تھے۔ جاوید ہاشمی کے ہر جلسے میں افتخار فیروز لازمی طور پر موجود ہوتے ، ان سے پہلے خطاب کرتے اور ایک ماحول بنا دیتے تھے۔

راجہ محمد انورکے حوالے سے مستند معلومات کے لئے راقم مضمون نے پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے افسرتعلقات عامہ اور اپنے عزیز دوست قدرت اللہ صاحب سے تصدیق چاہی، جس کے جواب میں انہوں نے درج ذیل جملوں میںوضاحت کی:

" راجہ صاحب نے پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے تمام سٹاف پر سختی سے پابندی لگا رکھی ہے کہ وہ پارٹنر سکول کے معائنے کے دوران وہاں سے سادہ پانی بھی نہیں پی سکتے۔ راجہ انور سرکاری فرائض کی بجا آوری کے لئے پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کی ایک نہایت پرانی گاڑی استعمال کرتے ہیں اور نہ تو انہوں نے کبھی تنخواہ وصول    کی ہے اور نہ کبھی T.A/D.Aلیا ہے ۔   

 دہشت گرد شہزادہ ، بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک ، ہمالہ کے اُس پار، مارکسی اخلاقیات ، قبر کی آغوش ، بن باس    اور جھوٹے روپ کے درشن راجہ انور کا وہ ادبی ورثہ ہے جو انہیں ایک اہم ادبی شخصیت کے طور پر سامنے لاتا ہے "۔  ٭

مزید :

کالم -