بیلٹ پیپر زیادہ مقدار میں چھاپنا دھاندلی کا منصوبہ ہے، عوامی ردعمل

بیلٹ پیپر زیادہ مقدار میں چھاپنا دھاندلی کا منصوبہ ہے، عوامی ردعمل
بیلٹ پیپر زیادہ مقدار میں چھاپنا دھاندلی کا منصوبہ ہے، عوامی ردعمل

  

لاہور (ملک خیام رفیق/الیکشن سیل) شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں الیکشن میں ٹرن آﺅٹ پچاس فیصد سے بھی کم رہتا ہے۔ ایسے میں 17کروڑ 22لاکھ کی بجائے 18کروڑ بیلٹ پیپر چھاپنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دھاندلی کا پیشگی منصوبہ بن چکا ہے۔ روزنامہ ”پاکستان“ سے گفتگو کرتے ہوئے سید سردار بادشاہ پشاور کے رہائشی نے کہا کہ بیلٹ پیپر کو اس لئے زیادہ مقدار میں چھاپا گیا ہے تاکہ دھاندلی کی جاسکے اس سے کیسے پتہ چلے گا کہ کس نے کس کو ووٹ کاسٹ کیا کئی افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ 2جگہوں پر مہر لگاکر اپنا بیلٹ پیپر ضائع بھی کردیتے ہیں اگر ان بیلٹ پیپرز میں پچاس لاکھ بھی حکومت کے کام آگئے تو حکومت کا کام تو ہوگیامحمد نعیم نے بتایا کہ زیادہ چھاپنا ایشو نہیں ہے لیکن بعد میں گنتی میں پورا ہونا چاہیے کہ کتنے کاسٹ ہوئے ہیں اور کتنے کاسٹ نہیں ہوئے بہر حال اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہر صورت کی جائے گی عثمان اور غضنفر اقبال نے کہا کہ حکومت کو اس بات کو کلیئر کرنا چاہیے کہ اتنی بڑی تعداد میں زیادہ کیوں چھاپا جارہا ہے پولنگ کے دوران اگر کسی کا بیلٹ پیپر خراب یا ضائع ہوجائے گا تو کیا اس کو دوسرا بیلٹ پیپر دیا جائے گا اگر نہیں دیا جائے گا تو پھر کیوں عوام کا پیسہ ضائع کیا جارہا ہے محمد شاہد نے کہا کہ پہلے بھی اس طرح ہوتا رہا ہے اس مرتبہ تو اس لئے بات سامنے آگئی ہے کہ میڈیا کی نظر حکومت کی ہر حرکت پر ہے منظور احمد نے بتایا کہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی نہ کوئی ہینکی پھینکی ہونی ہے اتنے زیادہ بیلٹ پیپر چھاپنے کا مطلب تو صاف ہے کہ بیلٹ پیپر کے پورے کے پورے بکس تبدیل ہونے ہیں۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳