دو سگے بھائی مد مقابل تنقید کی بجائے پارٹی منشور کی مہم جاری

دو سگے بھائی مد مقابل تنقید کی بجائے پارٹی منشور کی مہم جاری
 دو سگے بھائی مد مقابل تنقید کی بجائے پارٹی منشور کی مہم جاری

  

                                                                                                                                                                                                                 حلقہ این اے 107کوٹلہ ارب علی خان‘ کھاریاں ‘ ڈنگہ ‘ اور سرائے عالمگیر پر مشتمل ایک وسیع حلقہ ہے اس حلقہ میں دو صوبائی اسمبلی کی سیٹیں PP114اور پی پی 115ہیں یہ واحد حلقہ ہے جہاں سے پیپلز پارٹی کو کبھی بھی کوئی قد آور امیدوار دستیاب نہ ہوا ہے اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے ملک جمیل اعوان ‘ گزشتہ انتخابات میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے رحمان نصیر مرالہ کو شکست دی ڈبل نیشنلٹی کی وجہ سے انہیں جمہوریت کے آخری سال میں نااہل قرار دیا گیا تو ملک محمد حنیف اعوان نے دوبارہ انہیں شکست دی بظاہر یہ شکست چند ہزار ووٹوں سے تھی حسب روایت ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے اس حلقہ سے دوبارہ رحمان نصیر مرالہ میدان میں ہیں اور وہ مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیں گے اس سیٹ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری عابد رضا میدان میں ہیں تو دوسری طرف حلقہ پی پی 115سے چوہدری نعیم رضا سابق مشیر وزیر اعلی پنجاب مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں چوہدری نعیم رضا کسی لمبے چوڑے تعارف کے مختاج نہیں بلکہ گجرات کا بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ہے ان کے مدمقابل ان کے چھوٹے بھائی چوہدری محمد علی تنویر مقابلے میں ہیں جو مسلم لیگ ن سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اس حوالے سے اس حلقے کے انتخابات میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ ہے اور یہ بظاہر ایک انوکھا مقابلہ تصور کیا جا رہا ہے چوہدری نعیم رضا چوہدری عبد المالک کے صاحبزادے ہیں کوٹلہ ارب علی خان کے حوالے سے خاندانی دشمنیوں کی وجہ سے وہ ایک طویل عرصہ اس دشمنی کی آگ میں جھلستے رہے لا تعداد مقدمات درج ہوئے اور لاتعداد مقدمات میں وہ ملوث رہے قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا جانی اور مالی نقصانات کی طویل ترین فہرست نے گجرات کے امن و امان کو جہاں تباہ کیا وہاں قد آور سیاستدان بھی چوہدری عبد المالک کے صاحبزادوں سے سیاسی طور پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو گئے مسلم لیگ ن نے چوہدری عابد رضا کو اپنا امیدوار نامزدکیا ہے تو ق لیگ نے چوہدری نعیم رضا کو اکھاڑے میں اتارا ہے آج سے دس سال قبل تک چوہدری نعیم رضا کچھ اور تھا مگر اب وہ اس قدر تبدیل ہو چکے ہیں کہ انہیں دیکھ کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا کوئی عاجز بندہ اللہ سے معافی مانگ کر اسکے حضور سر جھکا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہے ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوٹلہ ارب علی خان کے ڈیرہ عبد المالک کے ایک ایک پودے کو اپناخون دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے بھائی ان کے خلاف ہے اور وہ انکی مخالفت میں آخری حدوں کو چھو رہے ہیں مگر کیونکہ وہ بڑے بھائی ہیں اوربطور بڑا بھائی اس نے اپنے بھائیوں کو باپ اور ماں بن کر پالا ہے انکی بیوی بچوں کا مستقبل تباہ ہو گیا چوہدری برادران کے ساتھ وہ اس وقت شامل ہوئے جب وہ اس خاندان سے خوفزدہ تھے مگر انہوں نے چوہدری برادران کا ہر دور میں ساتھ دیکر یہ ثابت کر دیا کہ چوہدری عبد المالک کے بیٹوں میں وفا ہے بے وفائی نہیں ‘ چوہدریوں کے وہ لوگ جو ان سے مفاد حاصل کرتے تھے ’پھر ’ کر کے دوسری شاخ پر جا بیٹھے مگر وہ آج بھی چوہدری برادران کا دم بھرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہا ںمیری اولاد اب جوان ہے ساری زندگی جدوجہد کر کے گزار دی ہے اپنے بھائیوں کو ڈیرے پر بٹھانے والے وہ ہیں مگر معلوم نہیں حاجی عبد المالک کی اولاد کو کس کی نظر بد لگ گئی ہے انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی ذاتی لالچ نہیں اس حلقے سے انہوں نے عامر عثمان رضا کو ایم پی اے بنایا وہ نصیر عباس سدھ کو لیکر آئے مگر سب چلے گئے اب جبکہ انہیں نعیم رضا کی ضرورت تھی تو وہ اس میدان میں موجود ہیں ان کے پاس بہت کچھ تھا مگر ان کے پاس کچھ بھی نہیں و ہ کلاشنکوف کلچر کیخلاف ہیں اور اس کلچر کو خیر آباد کہہ چکے ہیں اب تو کہیں اگر کوئی گولی کی آواز سنیں تو انہیں اس قدر بری لگتی ہے اور انکا جی چاہتا ہے کہ اس آواز سے کہیں دور بھاگ جائیں وہ امن چاہتے ہیں امن کے داعی ہیں اور امن کا پیغام لیکر وہ میدان میں آ چکے ہیں انکے دستبردار ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا کامیابی انکا مقدر ہو گی حلقے کے عوام جانتے ہیں کہ نعیم رضا نے کسی کیساتھ کبھی زیادتی نہیں کی ان کے ساتھ جو بھی ظلم و ستم روا رکھا جا رہا ہے وہ انشاءاللہ جلد ہی ختم ہو جائیگا انہوں نے کہا کہ اگر میرے بھائیوں کو میری قربانی چاہیے تو انکا سینہ حاضر ہے وہ اسے چھلنی کر سکتے ہیں مگر عوام سے دور نہیں ‘انہیں وہ وقت یاد ہونا چاہیے جب وہ اپنے بھائیوں کی زندگی کی بھیک مانگ رہے تھے بے شمار اور لاتعداد مسائل اور مقدمات دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے حاجی عبد المالک کی نسل ختم ہو جائیگی مگر الحمد اللہ حاجی عبد المالک کی نسل موجود ہے اگر اختلافات بھی ہیں تو وہ ذاتی ہیں کسی کو ان اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائیگی وہ اپنی سابقہ سوچ کو دفن کر چکے ہیں انہوںنے کہا کہ وہ اپنے ووٹروں سے ہرگز زیادتی برداشت نہیں کرینگے اور وہ اب اپنی زندگی انہوں نے اللہ کی مخلوق کیلئے وقف کر دی ہے اقتدار کا لالچ انہیں ہرگز نہیں نہ ہی انہیں اسکی تمنا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان آئے ہیں الیکشن میں محض اس لیے حصہ لے رہے ہیں کہ یہ عوام کی خدمت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے چوہدری برادران کے ساتھ بے وفائی کا وہ ہرگز نہیں سوچ سکتے کیونکہ چوہدری برادران ملکی سیاست میں مثبت اور نمایاں رول ادا کر رہے ہیں وہ گجرات کی پہچان ہیں اگر وہ دوبارہ برسر اقتدار آ گئے جس کا قوی امکان موجود ہے تو گجرات میں ایک بھی نوجوان بے روزگار نہ رہے گا انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ ان کے پاس جب وہ انتخابی مہم کیلئے باہر نکلتے ہیں کوئی مسلح شخص نہیں ہوتا کیونکہ انکی حفاظت خدا وند کریم کے فرشتے کر رہے ہیں کل کے نعیم رضا اور آج کے نعیم رضا میں زمین آسمان کا فرق ہے میں اپنے گناہوں سے توبہ کر چکا ہوں جو دانستہ اور غیر دانستہ طور پر انہوں نے کیے دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو اپنے آپ کو فرشتہ کہہ سکے انہو ں نے کہا کہ رحمان نصیر کی کامیابی کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دینگے الیکشن مہم کے دوران وہ اپنے بھائیوں پر تنقید کی بجائے مسلم لیگ ق کے منشور کے مطابق مہم چلا رہے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ دوسر ی طرف سے الزام تراشیوں کی بجائے پارٹی کے منشور سے عوام کو آگاہ کیا جائیگا اب یہ عوام کا کام ہے کہ کسی پارٹی کے منشور کو پسند کرتے ہیں اور کسے ووٹ دیتے ہیں ۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳