لوڈشیڈنگ، حقیقت یا عوام کو مشتعل کرنے کی سازش؟

لوڈشیڈنگ، حقیقت یا عوام کو مشتعل کرنے کی سازش؟
لوڈشیڈنگ، حقیقت یا عوام کو مشتعل کرنے کی سازش؟

  

گزشتہ روز جس نوعیت کی لوڈشیڈنگ ہوئی اس نے عوام کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے دوران بجلی کا دو، دو گھنٹے تک بند رہنا عذاب بن گیا اور لوگ اسے قیامت سے پہلے قیامت قرار دے رہے ہیں، درجہ حرارت میں تھوڑا سا اضافہ ہوا اور لوڈشیڈنگ چار سے چھ گھنٹے تک بڑھ گئی ہے۔ منگل کو تو لاہور میں بھی رات سڑکوں پر پھرتے گزاری گئی کہ بجلی آتی ہی نہیں تھی۔دو ڈھائی گھنٹے کے بعد پونے گھنٹے کے لئے روشنی ہوئی تو آنکھ بھی نہیں جھپکی جا سکتی تھی، یو۔ پی۔ایس تو پہلے ہی جواب دے چکے تھے، اگر کسی نے اضافی بیٹری کے ساتھ استعداد بڑھائی ہوئی تھی تو وہ بھی اختتام پذیر ہوئی کہ ایک آدھ پنکھا چلنے کے باعث پھر بیٹھ گئی لوگوں کے اعصاب شل ہو گئے بجلی نہ ہونے سے پنکھے نہ چلے اور پسینے سے شرابور ہو گئے۔

رات گزری سو گزری صبح دم لوگ جلدی سیر کے لئے نکل آئے اور اس کے بعد ٹولیوں کی صورت میں جو بات چیت ہوئی وہ قطعاً خوشگوار نہیں، لوگ احتجاج پر آمادہ نظر آ رہے تھے ان کے خیال میں لوڈشیڈنگ اپنی جگہ لیکن یہاں امتیازی سلوک بھی ہوتا ہے۔ لاہور میں گورنر ہاﺅس اور جی۔ او۔ آر والے فیڈر بند نہیں کئے جاتے جبکہ شہر کے دوسرے علاقوں میں لوڈشیڈنگ فیڈر کے حساب سے نہیں پورے گرڈ کو بند کرکے کی جاتی ہے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران علامہ اقبال گرڈ سے دو، دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوئی اور ایک ایک گھنٹے کے لئے بجلی آئی ۔

جہاں تک موجودہ لوڈشیڈنگ کا تعلق ہے تو یہ ایک سازش کا حصہ بھی ہو سکتی ہے جو ان عناصر یا گروپ کے ایماءپر ہو رہی ہو گی جو ملک میں انتخابات کے مخالف ہیں اور تین چار سال کے لئے ٹیکنو کریٹ حکومت چاہتے ہیں یہ گروپ تو امریکی اور یورپی حمایت کا بھی دعویدار ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ ، یورپ والوں اور مالیاتی اداروں کو واحد سے بات کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ پارلیمنٹ ہو تو منتخب حکومت سے بات کرنا پڑتی ہے۔ بہرحال جو خدشہ پنجاب سے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے ظاہر کیا وہ پورا ہوتا نظر آ رہا ہے اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اب اگر لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوں تو حمایت میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شرکت کریں اور یوں صورتحال خراب ہو۔ شاید لوڈشیڈنگ کا یہ طریق اپنانے والے ہی چاہتے ہوں گے۔

اس کا ایک پہلو اور بھی ہے وہ یہ کہ بجلی تقسیم کرنے والے ادارے اور نگران ادارہ اپنی نااہلی کا بوجھ حکومت پر منتقل کرنا چاہتے ہیں جیسا پہلے کیا جاتا رہا ہے۔ گیلانی دور حکومت میں ایک مرتبہ 41 ارب روپے اور متعدد بار بیس بیس ارب روپے ادا کئے گئے لیکن معاملہ وہیں کا وہیں رہا اب بھی رقم ہی مانگی گئی اور بتایا گیا کہ 30ارب روپے دیئے جائیں تو ایک ماہ تک لوڈشیڈنگ میں کافی کمی آ جائے گی ۔ نگران وزیر اعظم نے بیس ارب دینے کی ہدایت کی جو ابھی تک نہیں دیئے گئے الٹا پی۔ ایس۔ او نے 77۔ ارب روپے مانگے ہیں تاکہ تیل درآمد کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں جن حضرات نے ریکوری نہیں کی ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بارہا ناکامی کے بعد بھی یہ ٹیکنو کریٹ حکومت کا خواہش مند گروپ مایوس نہیں ہوا اور چاہتا ہے کہ حالات اتنے زیادہ خراب کر دیئے جائیں کہ الیکشن نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سے لے کر اے۔ این۔ پی ، متحدہ، جمعیت علماءاسلام (ف) اور اکثر قوم پرست جماعتیں اور قوم پرست رہنما اس مرتبہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن یہاں حالات خراب کئے جا رہے ہیں، تحریک طالبان کی طرف سے پیپلز پارٹی ،اے۔ این۔ پی اور متحدہ قومی موومنٹ کو الیکشن سے باہر رکھنے کے لئے حملے شروع کردیئے گئے ہیں۔ اے۔این۔ پی کے انتخابی امیدواروں پر حملے ہوئے پیپلزپارٹی ایم کیو ایم جلسے نہیں کر رہیں، آگے جا کر یہ تو بہرحال کرنا ہو گا اس وقت اگر کسی ایک تقریب میں دھماکہ ہو جائے تو صورت حال کیا ہو گی؟ کیا موجودہ حالات میں ان تینوں جماعتوں کے لئے کھلی انتخابی مہم چلانا ممکن ہو گا؟ یہ بہت بڑا سوال اور نگران حکومتوں کے علاوہ الیکشن کمیشن سے ہے کہ کیا حفاظتی انتظامات ہو سکیں گے؟

ادھر سیاسی جماعتوں نے سیاسی عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی کو بائیکاٹ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے لیکن پارٹی ایسا نہیں چاہتی ایک ذمہ دار عہدیدار کے مطابق پارٹی ”پاکستان کھپے“ والی جماعت ہے جو چاروں صوبوں میں ہے اور قومی جماعت ہے اس لئے اسے دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔یوں بھی اہم سیاسی جماعتوں کے نزدیک عام انتخابات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جن کا انعقاد ملک کی بہبود میں ہے۔ دیکھئے اس کشمکش میں کون جیتتا ہے۔

 

مزید : تجزیہ