جنرل (ر)پرویز مشرف کی نااہلی کے بعد ان کی جماعت کی قانونی حثیت پربھی سوالیہ نشان لگ گیا

جنرل (ر)پرویز مشرف کی نااہلی کے بعد ان کی جماعت کی قانونی حثیت پربھی سوالیہ ...
جنرل (ر)پرویز مشرف کی نااہلی کے بعد ان کی جماعت کی قانونی حثیت پربھی سوالیہ نشان لگ گیا

  

سابق صدر جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دے کر ان کی طرف سے قومی اسمبلی کی 4حلقوں سے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے ہیں۔ انہوں نے کراچی، قصور، اسلام آباد اور چترال سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے۔ تین حلقوں سے تو ان کے کاغذات نامزدگی متعلقہ ریٹرننگ افسروں نے ہی مسترد کردئیے تھے تاہم چترال سے ان کے کاغذات نامزدگی اسی بنیاد پر منظور کرلئے گئے تھے کہ وہ کسی عدالت سے سزا یافتہ نہیں ہیں۔ اب الیکشن ٹربیونل نے ان کے چترال سے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردئیے ہیں جبکہ دیگر تین حلقوں سے کاغذات مسترد کئے جانے کے خلاف ان کی اپیلیں بھی متعلقہ الیکشن ٹربیونلز نے خارج کردی ہیں۔

جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے پاس اب داد رسی کا جو راستہ بچا ہے وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہے جس کے سبراہ مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں............ جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے نااہل ہونے کے بعد ان کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا آل پاکستان مسلم لیگ جنرل ( ر ) پرویز مشرف کی سربراہی میں ایک سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ رہ سکتی ہے؟ اور کیا موجودہ عہدیداروں کے ساتھ آل پاکستان مسلم لیگ انتخابی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرسکتی ہے؟ اس حوالے سے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ جنرل ( ر ) پرویز مشرف نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر جو گڑھا میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے کھودا تھا وہ خود اسی میں جاگرے ہیں۔ پرویز مشرف نے میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو انتخابی سیاست سے دور رکھنے کے لئے 28جون 2002ءکو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر جاری کیا تھا۔ اس کی شق (1)5 کے تحت جو شخص آئین کے آرٹیکل 63کے تحت پارلیمنٹ یا اسمبلیوں کی رکنیت کے لئے نااہل ہو وہ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں ہوسکتا۔ اسی قانون کے باعث پاکستان مسلم لیگ (ن) کو راجہ ظفر الحق کو پارٹی چیئرمین مقرر کرنا پڑا تھا جبکہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کو 2002ءکے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے مخدوم امین فہیم کی صدارت میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے نام سے سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروانا پڑی تھی۔ 2002ءکے انتخابات میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور اس وقت کے قانون کے تحت دونوں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دئیے گئے تھے۔ اب یہی صورتحال خود جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو درپیش ہے ان کو آئین کے آرٹیکلز 62اور 63 کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔ اب وہ اپنے ہی جاری کردہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ءکی زد میں آگئے ہیں۔ اس آرڈر کی شق (1)5 کے تحت وہ کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار نہیں ہوسکتے جبکہ آل پاکستان مسلم لیگ جنرل ( ر ) پرویز مشرف کے نام پر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ وہ اس جماعت کے صدر ہیں، قانونی طور پر وہ اب کسی سیاسی جماعت کی صدارت تو کجا عام چھوٹا موٹا عہدیدار بننے کے اہل بھی نہیں رہے۔ ان کی سیاسی جماعت ، جب تک وہ اس کے سربراہ ہیں، کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس جماعت کو ان کی جگہ نیا صدر منتخب کرکے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ہوگا بصورت دیگر آل پاکستان مسلم لیگ کسی کو انتخابی ٹکٹ جاری کرسکے گی اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہوگی۔

مزید : تجزیہ