نگران حکومت کامشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے سےانکار ،سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری ، لارجر بنچ سے متعلق معاملہ چیف جسٹس کوبھجوایاجائے: سپریم کورٹ

نگران حکومت کامشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے سےانکار ،سیکریٹری داخلہ کو ...
نگران حکومت کامشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے سےانکار ،سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری ، لارجر بنچ سے متعلق معاملہ چیف جسٹس کوبھجوایاجائے: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے سابق فوجی صدرپرویز مشرف کیخلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے معذرت کرلی جس کے بعد سپریم کورٹ نے سینٹ کی قرارداد کے بعد ہونیوالی کارروائی سے متعلق سیکریٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے لارجر بنچ کی تشکیل سے متعلق معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوانے کی ہدایت کردی ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ پرویز مشرف کیخلاف غداری کے مقدمے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت سماعت وفاق کی طرف سے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے تحریری جواب جمع کرادیاجس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نگران حکومت کے مینڈیٹ کو دیکھنا ہو گا کہ وہ اس کیس میں عدالتی حکم کے مطابق ہدایت دے سکتی ہے یا نہیں؟ نگران حکومت کے پاس وقت کم ہے ، پہلی ترجیح شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ہے ، معاملہ وفاقی حکومت اور کابینہ کی سطح پر حل ہوگا۔اُن کاکہناتھاکہ نگران حکومت نے کارروائی سے انکار نہیں کیا۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے موقف اپنایاکہ وقت کم ہے اوروفاق کی طر ف سے جواب جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ آپ تحریری طورپر لکھ دیں ، ہم آرڈر پاس کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ ناراض ہور ہے ہیں جس پ رجسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے آپ کی بات تحمل سے سنی ہم ناراض نہیں، دکھ کی بات ہے عدالتی احکامات پر پہلے بھی عمل نہیں ہو رہا تھا اب بھی نہیں ہوا، ہمیں توقع تھی کہ نگران حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے پاس ٹیوشن فیس جمع کرنے کا وقت ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ قابل احترام ہے اس طرح ان کا ذکر نہ کریں ، جسٹس جواد نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق حکم جاری کرنا ہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔ایک درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عدالت جو حکم دے گی عمل ہوگا، اٹارنی جنرل کا موقف حکومت کا نہیں،اٹارنی جنرل اور حکومت کے درمیان اختلافات ہیں اس لیے ان کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔پرویز مشرف کے وکیل احمد رضاقصوری نے کہاکہ ایمرجنسی کے نفاذ میں ججوں نے سابق فوجی صدر کاساتھ دیا، پی سی او کے تحت حلف اُٹھایاجس پر جسٹس جواد نے کہاکہ ہم تیار ہیں ، وفاق اگرججوں کیخلاف کارروائی کرناچاہے تو کریں گے ۔جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ ججوں کا ذکر آنے سے بھی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔عدالت نے سینٹ کی قرارداد پر ہونیوالی پیش رفت یااُس کے بعد سے اب تک کیے گئے اقدامات سے متعلق سیکریٹری داخلہ کونوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ لارجر بنچ کی تشکیل سے متعلق معاملہ چیف جسٹس کو بھجوائین ، وہ فیصلہ کریں گے ۔

مزید : اسلام آباد /Headlines