عوامی نمائندگی کے قانون اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کیلئے چیلنج بن گیا

عوامی نمائندگی کے قانون اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کیلئے ...

           لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل ) عوامی نمائندگی کا قانون اور الیکشن کمیشن کا اپنا ضابطہ اخلاق ہی کمیشن پر تنقید کا باعث بن گیا ۔ امیدواروں پر انتخابی مہم اور پولنگ ڈے کے حوالے سے عائد کی جانے والی مختلف نوعیت کی پابندیوں پر عمل درآمد الیکشن کمیشن کے لیے چیلنج بن گیاہے۔ مذہب فرقے، صوبائیت ، نسل ، ذات ،برادری،قبیلے کی بنا پر ووٹ نہ مانگنا، پولنگ کے روز ووٹروں کو ٹرانسپورٹ مہیا نہ کرنا ، ہورڈنگز اور فلیکس کا سائز چھوٹا رکھنا ، وال چاکنگ نہ کرنا اور ایسی دیگر پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کے لیے عملاً ناممکن ہوگا ۔ اور ناکامی کی صورت کمیشن کو جگ ہنسائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔معلوم ہواہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی مہم اور پولنگ ڈے کے حوالے سے امیدواروں پر ایسی پابندیاں عائد کردی ہیں ۔ جن پر حقیقی معنوں میں عمل درآمدالیکشن کمیشن کے لیے ناممکن ہے۔ عوامی نمائندگی کے قانون1976ءکے سیکشن 78(4) اور الیکشن کمیشن کی طرف سے 11جنوری 2013ءکوجاری کئے جانے والے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی امیدوار مذہب ، عقیدے ، برادری ،نسل ،صوبائیت یا قبیلے کی بنا پر ووٹ نہیں مانگ سکتا ۔ لیکن ہمارے ھاں یا تو ووٹ مذہب کے نام پر ڈالے جاتے ہیں۔ یا پھر برادری ازم اور ذات کے نام پرجبکہ ذات ،برادری اورقبیلے و نسل کے نام پرلاہور سمیت ملک کے لگ بھگ ہر شہر میں ووٹ موجود ہیں اور ان کی تعداد اس قدر ہے کہ یہ ووٹ امیدواروں کی ھار اور جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اورالیکشن کمیشن کے لیے ناممکن ہوگا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کسی ایک بھی امیدوار کے خلاف قانون و ضابطے کی اس خلاف ورزی پر کاروائی کرسکے۔ حالانکہ ملک کا کم و بیش ہر امیدوار یہ خلاف ورزی کررھا ہے۔ اسی طرح ملک کے ہرالیکشن میں امیدواروں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ووٹروں کو گھر سے پولنگ اسٹیشن تک لیجانے کے لیے ٹرانسپورٹ مہیا نہ کریں ۔ لیکن 1977ءسے 2008ءتک ملک کے 8عام انتخابات میں ہر امیدوار نے عوامی نمائندگی کے قانون1976ءکے سیکشن 78(4) اور الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی کھلے عام خلاف ورزی کی لیکن کبھی بھی کسی بھی امیدوار کے خلاف کاروائی عمل میں نہ لائی جاسکی ۔ اور حالیہ عام انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے امیدواروں کو باربار تنبیھی کی ہے کہ وہ پولنگ کے دن امیدواروں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہ کریں ۔ حالانکہ کمیشن نے یہ اعلان کرنے سے قبل اس بات کو مد نظر نہیں رکھا کہ غریب عورتیں ، بوڑھے ، معذور اور بیمار ووٹر اپنے گھروں سے تین سے چار کلومیٹر دور پولنگ اسٹیشن پر کیسے جاسکیں گے۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہناتھا کہ یہ بات درست ہے کہ غریب عورتوں ، بوڑھے ، معذور اور بیمار ووٹروں کو اپنے گھروں سے دوکلومیٹر دور پولنگ اسٹیشن پرجانے میں مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا لیکن یہ پابندی کم مالی وسائل رکھنے والے بعض امیدواروںاور سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر لگائی گئی ہے جو الیکشن کے دن اپنے ووٹروں کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست نہیں کرسکتے ۔

چیلنج

مزید : صفحہ آخر