زلزلے سے کئی بستیاں ملیامیٹ درجنوں جاں بحق سینکڑوں زخمی

زلزلے سے کئی بستیاں ملیامیٹ درجنوں جاں بحق سینکڑوں زخمی

                   اسلام آباد/تہران/نئی دہلی/دبئی/دوحہ(اے پی اے ) پاکستان اور ایران سمیت خطے کے مختلف ممالک میں زلزلہ آیا۔جبکہ ایران میں زلزلے کے باعث سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ۔کراچی، حیدر آباد، ٹنڈوالہیار، سکھر، کوئٹہ، حب، خضدار، لاہور، ملتان ،لیہ اور گلگت بلتستان میں سہ پہر 3 بج کر 44 منٹ پر دو مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، جس کے بعد لوگ اپنے گھروں ، دکانوں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے باعث ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں شدید تباہی آئی ہے اور سینکڑوں افراد کے ہلاک اور زخمی ۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے ابتدائی طور پر 55 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحدی علاقے میں زیر زمین گہرائی 15.2 کلو میٹر میں تھااور اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 8 ریکارڈ کی گئی ہے ، زلزلے کے یہ جھٹکے، متحدہ عرب امارات، ایران ، افغانستان اوربھارت میں بھی محسوس کئے گئے ہیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق شدت آٹھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحد پرہے جبکہ اس کی زیر زمین گہرائی 73میل ہے تاہم ڈی جی محکمہ موسمیات عارف محمود کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 7.9ریکارڈ کی گئی اور گہرائی 76 کلو میٹر تھی۔ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ کراچی کی بعض عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ شہر کی مارکیٹوں میں دکاندار اور خریدار خوف میں مبتلا ہو گئے۔ طارق روڈ پر6 منزلہ عمارت ٹیڑھی ہو گئی ۔لاہور ،ملتان ، کوئٹہ ، سندھ بھر میں جھٹکے محسوس کئے گئے۔ شمال مغربی بھارت میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے آئے۔ زلزلے کے جھٹکے دبئی، قطر اور سعودی عرب میں بھی محسوس ہوئے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران کچھ دیر کے لئے موبائل سروس بھی معطل ہو ئی تاہم کچھ وقفے کے بعد بحال ہو گئی، ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے باعث 3 بچوں سمیت21 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ پاک ایران سرحد سے ملحقہ بلوچستان کا ضلع چاغی میں ماشکیل کے علاقے میں درجنوں مکانات تباہ ہوگئے ہیں جس کے باعث ملبے تلے دب کر 21 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، دورافتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں سرکاری سطح پر امدادی کام شروع نہیں کئے جاسکے تاہم مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے افراد کو نکال رہے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق متاثرہ علاقہ صحرائی ہے اور زیادہ تر آباد نہیں اور وہاں کافی فاصلے پر چھوٹے چھوٹے گاو¿ں ہیں۔ایران میں گزشتہ چالیس برس میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا۔پاکستان میں بلوچستان کا سرحدی علاقہ زلزلے سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ صوبے کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے افسر بریگیڈیئر سجاد نے کہا ہے کہ کہ تحصیل ماشکیل میں زلزلے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ہلالِ احمر پاکستان کے نمائندے محمد عظیم نے بتایا ہے کہ زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور زخمیوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ماشکیل سے مقامی صحافی فاروق قبدانی کے مطابق علاقے میں سینکڑوں مکانات منہدم ہوگئے ہیں اور لوگ بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔خاران کے سابقہ ایم این اے احسان اللہ ریکی نے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد کو ماشیکل کے مقامی ہسپتال لایا گیا ہے لیکن وہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ایرانی ہلالِ احمر نے متاثرہ علاقوں میں بیس امدادی ٹیمیں اور تین ہیلی کاپٹر بھیج دیئے ۔تنظیم کے اہلکار حسن اسفندیاری نے بتایا زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں سے مواصلاتی روابط منقطع ہوگئے ہیں اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے خش اور سراوان کی جانب ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔صدر آصف علی زرداری اور نگران وزےر اعظم مےر ہزار خان کھوسہ نے اےران مےں زلزلے سے ہلاکتوں اور نقصان پر افسوس کا اظہار کےا ہے۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ اےرانی علاقے سےستان مےں زلزلے سے ہلاکتوں پر شدےد غم ہے۔ نگران وزےر اعظم نے کہا ہے کہ آفت کی اس گھڑی مےں اےرانی قوم کی ہمت اور برداشت کے ساتھ اس آفت سے نمٹنا ہو گا۔ دکھ کی اس گھڑی مےں پاکستانی قوم اور حکومت اےران کے ساتھ کھڑی ہے۔بلوچستان کے سرحدی علاقے ماشکیل میںزلزلے سے تباہی میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد رات گئے تک 34 ہو گئی ہے فوج کے ہیلی کاپٹر ، ڈاکٹروں کی ٹیمیں ادویات اور کھانے پینے کی چیزیں لے کر ماشکیل پہنچ گئی ہیں۔ ماشکیل میں زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاہی ہے وہاں ضروریات زندگی بھی کم ہے، رات ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید : صفحہ اول