ابھی کیس چل رہے ہیں، جانے کس جرم کی سزا پائی، الیکشن سے باہر رکھنے کی سازش کی گئی: راجہ پرویز اشرف

ابھی کیس چل رہے ہیں، جانے کس جرم کی سزا پائی، الیکشن سے باہر رکھنے کی سازش کی ...
ابھی کیس چل رہے ہیں، جانے کس جرم کی سزا پائی، الیکشن سے باہر رکھنے کی سازش کی گئی: راجہ پرویز اشرف

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر کے انہیں الیکشن سے باہر رکھنے کی سازش کی گئی ہے ، اگر انہیں الیکشن سے باہر رکھا گیا تو ان کابیٹا الیکشن لڑے گا۔ جیو نیوز کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ نہایت اچنبھے کی بات ہے اور میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس بنیاد پر میرے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔ میرا کیا قصور ہے، ہاں اگر کوئی عدالت مجھے مجرم قرار دیتی یا سزا دیتی تو مجھے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے اہل قرار نہ دیا جاتا لیکن جب تک میں سزاوار نہیں ہوں یا عدالت نے میرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا تو کس بنیاد پر میرا آئینی حق پامال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 62,63 بڑا واضح ہے کہ جب تک کسی پر مقدمہ نہ چلے یا عدالت اس کے خلاف فیصلہ نہ دے تو آپ اس کو بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے جبکہ میرے خلاف پاکستان کی کسی عدالت میں بلکہ دنیا کی کسی عدالت میں کوئی مقدمہ ہے اور نہ ہی کوئی تفتیش چل رہی ہے اور یہ جو رینٹل پاور کیس کی بات کی جا رہی ہے وہ کیس بھی ابھی تک نیب کے پاس ہے اور تفتیش کے مراحل سے گزر رہا ہے اور اس مقدمے میں نہ تو کوئی ریفرنس آیا ہے اور نہ ہی فیصلہ ہوا ہے، جہاں تک اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات ہے تو میں یہ بڑے محتاط انداز میں کہتا ہوں کہ میں نے جو پاکستان میں دو سڑکیں بنائی ہیں وہ صرف میرے حلقے کی نہیں بلکہ بین الصوبائی ہیں جو چار اضلاع کو آپس میں ملاتی ہیں، موٹر وے کے ساتھ ملتی ہیں، ان سڑکوں کا ٹھیکہ این ایل سی کو صرف یہ سوچ کر دیا کہ این ایل سی فوج کا ادارہ ہے جو پورے پاکستان میں کھربوں روپے کے کام کرتا ہے، اور یہ ادارہ وقت پر بہترین معیار کی سڑکیں بنا سکتا ہے، میرے اس فیصلے میں کیا برائی ہے؟ کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جب یہ حکم جاری کیا تو میرے وکلاءجو ہائیکورٹ کے باہر فیصلے کی کاپی لینے کیلئے موجود تھے ان کو نہیں ملا بلکہ ریٹرننگ افسر کو ہم سے پہلے یہ آرڈر مل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف فیصلے کو تین روز ہو گئے ہیں اور ابھی تک آرڈر کی کاپی صرف اس لئے نہیں ملی کہ کہیں میں ہائیکورٹ میں اپیل نہ دائر کر دوں۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے چیف جسٹس پاکستان نے درخواست کی کہ وہ سوموٹو نوٹس لیں کہ ان کے ملک کے سابق وزیراعظم اور اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کو الیکشن میں جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بتائیں کہ یہ کہاں لکھا ہے آپ کسی پر الزامات لگائیں اور اس کے بعد آپ الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیں؟جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کے دور حکومت میں سینکڑوں سی این جی لائسنسوں کا اجراءکیا گیا اور اگر یہ الزام صحیح ثابت ہو گیا تو پھر آپ کی نااہلی کے خلاف بڑا مضبوط الزام بن سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ میرے دور حکومت میں جو 200 سی این جی لائسنس جاری کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں، میرے وزیراعظم بننے سے پہلے سی این جی لائسنس کے اجراءکی آخری تاریخ کے بعد اوگر کو کچھ درخواستیں موصول ہوئیں جن میں استدعا کی گئی سی این جی سٹیشنز کیلئے مشینری لگائی جا چکی ہے اور بہت انویسٹمنٹ ہو گئی ہے جس پر اوگرا نے یہ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے اجراءپر ابھی تک کوئی حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی وہ لائسنس جاری کئے گئے ہیں۔ ایک سوال کہ اگر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل مسترد ہو گئی تو آپ کیا کریں گے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ایک عام آدمی ہوں، ایک سیاسی ورکر ہوں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ میرا تعلق ہے، انصاف کیلئے میں آخری حد تک جاﺅں گا اور تمام دروازے کھٹکھٹاﺅں گا ، مجھے الیکشن باہر رکھ کر میری پارٹی کو شکست نہیں دی جا سکتی، اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میرا بیٹا الیکشن لڑے گا۔

مزید : قومی