پاکستانی خواتےن کا اپنے مطالبات کے حق مےں سری نگر مےں احتجاجی مظاہرہ

پاکستانی خواتےن کا اپنے مطالبات کے حق مےں سری نگر مےں احتجاجی مظاہرہ

سری نگر(کے پی آئی) کشمےری نوجوانوں سے شادی کرکے مقبوضہ کشمےر جانے والی پاکستانی خواتےن نے اپنے مطالبات کے حق مےں سری نگر مےں احتجاجی مظاہرہ کےا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہےں پاکستان واپس جانے کے لےے سفری دستاوےزات فراہم نہےں کی جا رہی ہےں ۔ خواتےن نے اجتماعی خود سوزی کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایاکہ حکومت نے انہیں دھوکے سے یہاں لاکر سر راہ چھوڑ دیا ہے۔ آزاد کشمیر سے باز آباد کاری اور سرینڈر پالیسی کے تحت واپس اپنے گھروں کو لوٹنے والے سابق عسکریت پسندوں ، ان کی بیویوں اور بچوں نے حکومت مخالف نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ حاجن میں جس خاتون نے خود سوزی کی،اصل میں وہ تنگ آچکی تھی اور اس نے ایسا انتہائی قدم اٹھایا جس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیںکیونکہ یہاں انہیں نہ صرف ہراساں کیا جارہا ہے بلکہ وہ ایک قیدی جیسی زندگی بسر کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5سال قبل جب حکومت نے انہیں باز آباد کاری پالیسی کے تحت یہاں لایا تو انہیں کافی امیدیں تھیں مگر یہاں بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں ملا اور نہ ہی ابھی تک راشن کارڈ بنے اور نہ ہی یہاں کی شہریت دی گئی۔ ”ہمارے مطالبے پورے کرو ،ہمیں اپنا حق دو،ہم کیا چاہتے آزادی ،ہم کیا چاہتے انصاف “کے نعرے لگارہی خواتین نے کہا کہ ان کے شوہرﺅں سے صرف پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے اور باز آباد کاری کے نام پر سیاست کی جارہی ہے۔ زیبہ نامی خاتون نے کہا ”ہم نے بہت تکالیف اٹھائے ہیں آزاد کشمیر میں رہ کر ہم عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھا کر سکون کی زندگی بسر کررہے تھے۔

 لیکن اپنے شوہروں کے ساتھ کشمیر آنے کی انہوںنے بہت بڑی غلطی کی۔ انہوں نے کہا ”ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے دنیا کے کسی اور خطے میں ایسا نہیںہوا ہوگا، باز آباد کاری کے نام پر بونڈا مذاق کیا گیا ہے اور موجودہ وزیر اعلیٰ نے سیاست کا ایسا کھیل کھیلا کہ آزاد کشمیر سے گھر لوٹنے والے سابق عسکریت پسند ان کی بیویاں اور بچے اجتماعی طور پر خود کشی کرنے پر مجبور ہیں“۔ زیبہ نے کہا کہ ”یہاں ایک خاتون نے تنگ آکر خود سوزی کی اور ایک ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اور اب اگر ہمیں واپس جانے نہ دیا جائے تو ہم اجتماعی خود کشی کریں گے کیونکہ ہم یہاں غیر محفوظ ہیں“۔ انہوں نے کہا ”سیکورٹی ایجنسیاں ہمیں دھمکا رہی ہیں اور ہم ایک قیدی کی طرح ہیں“۔ انہوں نے کہا ”ہمیں سبز باغ دکھائے گئے اور عمر عبداللہ کے وعدے وفا نہ ہوئے“۔ احتجاج میں شامل ایک اور خاتون سائرہ بانو نے کہا ”ہم واپس جانا چاہتے ہیں ،یہاں ہمارا مستقبل نہیں تو ہمارے بچوں کا کیا ہوگا جنہیں سکولوں میں داخلہ نہیں مل پارہا ہے“۔ انہوں نے کہا ”ایک خاتون جو اپنے شوہر کے ساتھ یہاں آئی تھی، مصائب ومشکلات برداشت نہ کر سکی اور خود کو زندہ جلا دیا، کل اس کی بھاری تھی اور ایک دن ہماری بھی بھاری آئے گی“ ۔انہوں نے کہا” مصائب ومشکلات برداشت کرتے کرتے ہم ہمت ہار چکے ہیں ، سماج ہمارا ساتھ نہیں دے رہا ہے ، قانون وزیروں ، ممبران اسمبلی اور بیروکریٹوں تک ہی محدود ہے،ہم جائیں تو کہاں؟ “۔انہوں نے کہا” بھوکے پیٹ سے بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر اپنے عیال کے ساتھ خود کشی کریں تاکہ بار بار کے مصائب ومشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔ شیریں نامی ایک اور خاتون نے بتایا کہ ہم لوگ اس امید کے ساتھ اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ یہاں آئے تھے کہ یہاں کی حکومت ہماری باز آباد کاری کا پورا پورا بندو بست کرے گی لیکن یہاں پہنچنے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہم یہاں ایک جیل خانے میں بند ہیں۔ شیریں نے بتایا کہ وہ اور آزاد کشمیر کی ایسی تمام خواتین ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں کیونکہ یہاں آنے کے بعد انہیں سماجی ، مالی اور معاشی بد حالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ زیر تعلیم بچوں اور بچیوں کا مستقبل بھی مخدوش بن چکا ہے۔ احتجاج کے دوران خواتین نے کہا کہ حکومت نے انہیں واپسی پر طرح طرح کے مراعات دئے جانے کا لالچ دیا لیکن یہاں آکرانہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ہم یہاں اجنبی بن چکے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھاکہ ہم اپنے والدین کے پاس کیوں نہیں جاسکتی، اگر ہم نے حکومت کی بازآبادکاری پالیسی پر مثبت رد عمل ظاہر کرکے کوئی جرم کیا ہے تو ہمیں واپس بھیج دیا جائے۔

مزید : عالمی منظر