ضمیر کی آواز سن کر عوام ووٹ نہ ڈالیں: شبیر شاہ

ضمیر کی آواز سن کر عوام ووٹ نہ ڈالیں: شبیر شاہ

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حریت کا نفرنس (جے کے )کی الیکشن با ئیکاٹ مہم کو آ گے بڑ ھاتے ہو ئے ترال اور اس کے ملحقہ علاقوں کا دورہ کر تے ہو ئے مزاحمتی قائدین نے کئی جگہ پر عوامی اجتمامات سے خطاب کیا ۔شبیر احمد شاہ کی قیادت میںمزاحمتی قائدین اسلامک پو لٹیکل پارٹی کے چیر مین محمد یوسف نقاش ،مسلم کا نفرنس کے چیر مین شبیر احمد ڈار ،محمد یاسین عطا ئی ،مسلم لیگ کے بلال احمد شاہ اور لبریشن فرنٹ کے زعمااعجاز احمد ،فیاض سلفی اور کارکنوں کی ایک بڑ ی تعداد مو جود تھی۔قائدین نے لو گوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ضمیر کی آ واز سنیں اور بھارتی آ ئین کے تحت ہو نے والے ان پارلیمانی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کر یں -

۔اور تحریک آ زادی میں اپنا رول نبھا ئیں ۔شبیر احمدشاہ نے لو گوں سے اپیل کی کہ ہماری تحریک آ زادی شہیدوں کے خون سے عبارت ہے جسکی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کا ملی فریضہ ہے ۔آ ج مین اسٹریم جماعتوں کے نمایندے ہم سے اس لئے ووٹ مانگنے آ تے ہیں تا کہ بھارت کے قبضے کو جمہوری اور آ ئینی جواز فراہم ہو اور ہم با ئیکاٹ کی بات کر تے ہیں تاکہ یہ زور زبردستی سے کیا ہوا فو جی قبضہ ختم ہو اور اہلیان ریاست کو آ زادی نصیب ہو ۔آ زادی نعمت ہے جس سے کو ئی بھی ذی ہوش اور با غیرت انسان انکار نہیں کر سکتا ہے لیکن ان الیکشنوں میں حصہ لیکر ہم صرف اور صرف غلامی کی زنجیروں کو ہی مضبوط کر یںگے اسلئے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان نام نہاد انتخابات کا مکمل با ئیکاٹ کر یں اور دنیا تک یہ واضح پیغام پہنچادیں کہ کشمیر کے لو گ صرف اور صرف آ زادی چا ہتے ہیں ۔آ زادی کو حاصل کر نے کیلئے کشمیر کے با غیرت بیٹوں نے اپنا سر ہتھیلی پہ رکھکر قابض فو جیوں کو یہ احساس دلا یا ہے کہ وہ ظلم کر یں ، خون نا حق بہا ئیں اس کے با وجودانہیں سر زمین کشمیر سے بہت جلد نکل جا نا ہو گا ۔ شاہ نے کہا قربا نیوں کا جو سلسلہ کشمیر کے لو گوں نے 1931ء سے شروع کیا ہے وہ عنقریب ہی آزادی کی صورت میں اپنے مطلوبہ نتا ئج حاصل کر ے گا ۔بھارت کی پارلیمنٹ میں جو قانون بنائے جاتے ہیں وہ ان قاتلوں کا دفا ع کر تے ہیں جو کشمیر میں بے گنا ہوں کے قتل میں ملوث ہو تے ہیں ایسی قراردادیں پیش اور پاس کی جاتی ہیں جنکا مقصد اور مطلب کشمیر پر اپنی فو جی گر فت کو مضبوط کر نا ہو تا ہے ایسے میں چند ضمیر فروش اسی ادارے میں داخلے اور ان کشمیر مخالف اقدامات کا حصہ بننے کیلئے ہم سے ووٹ ما نگنے آ تے ہیں کیا ہم ان اشخاص کو ووٹ دیکر اپنی غلامی کو اور مضبوط بنائیں گے یا انہیں ووٹ نہ دیکر اپنی تحریک آ زادی کو کا میاب بنائیں-

مزید : عالمی منظر