بہت زیادہ احتیاط بھی اچھی نہیں

بہت زیادہ احتیاط بھی اچھی نہیں
بہت زیادہ احتیاط بھی اچھی نہیں

  

لندن (نیو ڈیسک)آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ صحت اور دیگر کاموں کے معاملے میں احتیاط اچھی بات ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اختیاط صرف ایک حد تک اچھی ہے اور اگر اس احتیاط کو سرپر ہی سوار کر لیا جائے تو یہ کئی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹیوں کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہر وقت احتیاط سے کام لیا جائے تو انسان نفسیاتی دباؤ میں آجاتاہے اور نتیجے کے طور پر وہ دل کی بیماری سمیت دیگر مسائل کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے گوکہ کھانے میں احتیاط بہتر عمل ہے لیکن اگر اس احتیاط کو اس حد تک بڑھایا جائے کہ انسان کھانا کھانے سے پہلے یہ سوچنے لگے کہ اس کھانے سے کیا صحت تو خراب نہ ہوگی وغیرہ۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل بہت زیادہ انجام دیا جائے تو انسان ذہنی مریض بھی بن سکتا ہے اور انسان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صحت و دیگر معاملوں میں احتیاط بہتر چیز ہے لیکن اسے ذہنی مرض بناکر سر پر سوار نہ کریں اور کوشش کریں کہ نارمل زندگی گزاری جائے۔ کینیڈا کی یارک یونیورسٹی کے پروفیسر گارڈن فلیٹ کا کہنا ہے کہ کامیابی اور ناکامی زندگی کا حصہ ہے اس طرح زندگی کو بھی نارمل لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس پر ندامت اچھی بات ہے لیکن اس کوذہن پر سوار کرکے ذہنی دباؤ میں آجانا منفی عمل ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہاانسان غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے اور غلطیوں پر آنسو بہانا اور سیکھنے میں کوئی پیشرفت نہ کرے تویہ عمل زندگی پر منفی اثرات چھوڑے گا۔ 

مزید : تعلیم و صحت