یوکرین میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں کیخلاف آپریشن شروع

یوکرین میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں کیخلاف آپریشن شروع

                                                              کیف‘ماسکو (آن لائن)یوکرین کے عبوری صدر ا لیگزنڈر ٹوچیونوف نے روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف ’انسداد دہشت گردی‘ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔یوکرین کی پار لیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونستک کے شمالی میں ان کارروائیوں کا آغاز انتہائی ذمہ دارنہ انداز میں کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سرکاری فوجوں نے کرماتورسک شہر کے ہوائی آڈے پر روس کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔عبوری صدر کا کہنا ہے کہ روس کے حامی مسلح افراد کو سرکاری عمارتوں سے اتارنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم وہاں اس کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ادھرروسی وزیر خارجہ سرگی لیوروف نے دوبارہ یوکرین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ روس کے حامی مسلح افراد کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ لیوروف کا کہنا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’کیف میں موجودہ رہنما جو کر رہے ہیں وہ مبہم ہے۔ ہم واضح طور پر اس کی مذمت کرتے ہیں اور یوکرین اور بین الااقومی قوانین کی خلاف ورزی والی سکیورٹی فورسز اور فوجی یونٹس کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے روانہ کرنے جیسے اقدامات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔روسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے امن فوج کی تعیناتی کی تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب مذاکرات کی بات اور دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’فوج کشی‘ جیسےمجرمانہ حکم جاری نہیں کیے جا سکتے۔ادھر جنیوا میں یوکرین کے سفیر یوری کلے منکونے کہا ہے کہ وہ ملک کے مشرقی حصوں میں روسی سپیشل فورسز کی موجودگی کے شواہد جمعرات کو روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش کرے گا۔ان مذاکرات کا اہتمام امریکہ اور یورپی یونین نے کیا ہے۔ کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہے یوکرین کے اندرونی معاملات پر بات کرنا نہیں۔اس میں کرائمیا اور یوکرین کے فیڈریشن بننے پربھی بات نہیں ہوگی۔

 علا وہ ازیں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین میں امن قائم کرنا ہے تو ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔گزشتہ ماہ روس کی جانب سے کرائمیا پر قبضے کے بعد سے کشیدگیمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کارروائی کی مغربی ممالک نے مذمت کی تھی۔ دریں اثنا ءروس کے صدر ویلادمیر پیوٹن نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن خانہ جنگی کی دھانے پر پہنچ گیا ہے۔روسی صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق روسی صدر پیوٹن اور جرمن چانسلر مرکل کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔روسی صدر نے جرمن چانسلر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسندوں کے خلاف بھیجی ہے جس سے خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماو¿ں نے مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ یوکرین کے مسئلے پر مذاکرات 17 اپریل کو جنیوا میں ہوں گے۔

یوکرین میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں کیخلاف آپریشن شروع                                                                 کیف‘ماسکو (آن لائن)یوکرین کے عبوری صدر ا لیگزنڈر ٹوچیونوف نے روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف ’انسداد دہشت گردی‘ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔یوکرین کی پار لیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونستک کے شمالی میں ان کارروائیوں کا آغاز انتہائی ذمہ دارنہ انداز میں کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سرکاری فوجوں نے کرماتورسک شہر کے ہوائی آڈے پر روس کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔عبوری صدر کا کہنا ہے کہ روس کے حامی مسلح افراد کو سرکاری عمارتوں سے اتارنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ تاہم وہاں اس کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ادھرروسی وزیر خارجہ سرگی لیوروف نے دوبارہ یوکرین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ روس کے حامی مسلح افراد کے خلاف کارروائی نہ کرے۔ لیوروف کا کہنا تھا کہ وہ طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’کیف میں موجودہ رہنما جو کر رہے ہیں وہ مبہم ہے۔ ہم واضح طور پر اس کی مذمت کرتے ہیں اور یوکرین اور بین الااقومی قوانین کی خلاف ورزی والی سکیورٹی فورسز اور فوجی یونٹس کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے روانہ کرنے جیسے اقدامات فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔روسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے امن فوج کی تعیناتی کی تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب مذاکرات کی بات اور دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’فوج کشی‘ جیسےمجرمانہ حکم جاری نہیں کیے جا سکتے۔ادھر جنیوا میں یوکرین کے سفیر یوری کلے منکونے کہا ہے کہ وہ ملک کے مشرقی حصوں میں روسی سپیشل فورسز کی موجودگی کے شواہد جمعرات کو روس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش کرے گا۔ان مذاکرات کا اہتمام امریکہ اور یورپی یونین نے کیا ہے۔ کا کہنا تھا کہ بات چیت کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہے یوکرین کے اندرونی معاملات پر بات کرنا نہیں۔اس میں کرائمیا اور یوکرین کے فیڈریشن بننے پربھی بات نہیں ہوگی۔

 علا وہ ازیں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین میں امن قائم کرنا ہے تو ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔گزشتہ ماہ روس کی جانب سے کرائمیا پر قبضے کے بعد سے کشیدگیمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کارروائی کی مغربی ممالک نے مذمت کی تھی۔ دریں اثنا ءروس کے صدر ویلادمیر پیوٹن نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن خانہ جنگی کی دھانے پر پہنچ گیا ہے۔روسی صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق روسی صدر پیوٹن اور جرمن چانسلر مرکل کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔روسی صدر نے جرمن چانسلر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسندوں کے خلاف بھیجی ہے جس سے خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماو¿ں نے مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ یوکرین کے مسئلے پر مذاکرات 17 اپریل کو جنیوا میں ہوں گے۔

مزید : عالمی منظر